شہادت ذوالنورین

شہادت ذوالنورین
شہادت ذوالنورین

  

آج اسلام کی اس عظیم شخصیت کا یوم شہادت ہے جس سے فرشتے بھی حیا کرتے،اورجنہوں نے اپنے اقتدار کے دفاع کے لئے کسی قسم کی جنگ اور باغیوں کی سرکوبی کرنے سے اس بنا پر منع فرمایا کہ کہیں معصوم مسلمانوں کا خون ناحق نہ بہہ نکلے۔ یہ خلیفہ سوئم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے جو کامل حیاوایمان اور محبت و ایثارکا نور حق تھے ۔رسالت مآبﷺ نے آپؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا ’’ میں اس سے کس طرح شرم نہ کروں ، جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں‘‘امت مسلمہ میں کامل الحیا ء والایمان کے الفاظ آپ کی ہی شان میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ 

حضرت عثمانؓ نے اسلام قبول کیا توآپؓ کا نکاح آنحضرت کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوگیا۔ابن کثیر میں درج ہے کہ اس نکاح پراہل مکہ کہا کرتے تھے کہ بہترین جوڑا جو کسی انسان نے دیکھا ، رقیہ اور ان کے خاوند عثمان کا ہے ۔ غزوہ بدر کے دوران جب حضرت رقیہؓ کا وصال ہو گیا تو آنحضرت نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی حضرت عثمانؓ سے کر دیا جس کہ بعد آپؓ کا لقب ذوالنورین یعنی دو نوروں والا ہو گیا۔ ۹ھ میں جب حضرت ام کلثومؓ کا بھی وصال ہوگیا تو سرکار دوجہاںﷺنے ارشاد فرمایا کہ اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں انہیں یکے بعد دیگرے عثمان سے بیاہ دیتا۔

حضرت عثمانؓ کی خدمات کا جہاں بہت بڑا ہے۔آپؓ سخاوت میں بلند ترین مقام رکھتے تھے۔حضرت عثمان کاایک لقب غنی بھی تھااوردرحقیقت آپ اس لقب کے پوری طرح مستحق تھے۔یوں توساری عمر آپ نے اپنامال بڑی فیاضی سے راہ اسلام میں خرچ کیاتاہم تاہم غزوہ تبوک میں آپ کامالی انفاق حدسے بڑھ گیاآپ نے اس موقع پرروایات کے مطابق نوسواونٹ،ایک سوگھوڑے ،دوسواوقیہ چاندی اورایک ہزاردینارخدمتِ نبوی میں پیش کیے ۔آپؓ نے اس وقت جب مسلمان میٹھے پانی کو ترس رہے تھے ،شہرمدینہ میں بئررومہ کے نام سے ان کے لئے میٹھے پانی کا ۵۳ ہزاردرہم کے عوض کنواں خریدلیاجو آج بھی مدینہ پاک میں رواں دواں ہے۔ مسجدنبویﷺ پہلی توسیع بھی حضرت عثمانؓ کرائی اوراللہ کے رسولﷺ کے کہنے پر مسجدسے متصل ایک قطعہ زمین ۵۲ ہزاردرہم میں خریدکرمسجدمیں شامل کردیا۔

حضرت عثمانؓ نے جمع قرآن کاعظیم القدر کام کرایا ۔اس وقت کتابی صورت میں کتاب اللہ کی تدوین عہدابوبکر میں ہی ہوچکی تھی،تاہم اسکی اشاعت نہ ہوئی تھی جسکی وجہ سے مختلف علاقوں کے رہنے والوں کی قرات میں اختلاف پھیل رہاتھا۔

اٹھارہ ذی الحجہ کا دن تھا جب آپؓ کے خلاف سازش کی گئیاورآپؓ کو اس عالم میں شہید کر دیا گیا جب آپؓ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمیت کئی صحابہ کرامؓ آپ کے گھر کے دروازے پر پہرہ بھی دے رہے تھے لیکن اس کے باوجود بلوائی آپؓ کے گھر میں پیچھے کی سمت سے داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور عین تلاوت قرآن کی حالت میں امیرالمومنین کحضرت عثمان غنیؓ کو شہید کر دیا گیا۔

آپؓ نے آکر وقت تک مسلمانوں کو فسادیوں کے خلاف جنگ کرنے سے روکا تاکہ اس کشت وخون میں ناحق خون نہ بہہ جائے۔روایات کے مطابق جس وقت شورش پسندوں اور باغیوں نے حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آکر عرض کیا ’’امیر المؤمنین! انصار دروازے پر کھڑے اجازت کے منتظر ہیں‘‘۔

آپؓ نے فرمایا ’’اگر وہ جنگ کی اجازت چاہتے ہیں تو انھیں بالکل اجازت نہیں ہے‘‘ اسی دوران حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ کی اجازت مانگی تو فرمایا ’’کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ مجھ سمیت تمام دنیا کو قتل کردو؟‘‘۔

عرض کیا ’’نہیں‘‘۔ امیر المؤمنین کے اس فرمان میں سورہ المائدہ اس آیت کی طرف اشارہ تھا کہ ’’جس شخص نے بغیر قصاص کے یا فساد کے لئے کسی شخص کو قتل کیا، گویا اس نے تمام دنیا کے انسانوں کو قتل کردیا‘‘ اس آیت سے استدلال اس وجہ سے تھا کہ باغیوں نے ابھی تک نہ کسی شخص کو قتل کیا تھا اور نہ زمین میں کسی قسم کا فساد کیا تھا، صرف حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔

حضرت عثمانؓ کی شہادت میں مسلمان حکمرانوں کے بہت بڑا درس اور حکمت موجود ہے۔ اس جانکاہ حادثہ میں آپؓ کی اہلیہ محترمہ کی اْنگلیاں بھی کٹ گئیں، تین دن تک آپؓ کا جسد مبارک تدفین سے محروم رہا۔ قتل کرنے کے بعد ظالموں نے آپؓ کا گھر بھی لوٹ لیا۔ تاریخ عالم میں کہیں ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی حکمراں کے خلاف کچھ لوگ باغی ہو جائیں اور اس حکمراں کو اپنی ذات اور اپنی حکومت کے تحفظ کے متعدد وسائل حاصل ہوں، نہ صرف یہ بلکہ جاں نثار رفقاء ، ارکانِ دولت اور تمام افواج سب اس کے حامی ہوں، باغیوں کا قلع قمع کرنے کے لئے بے تاب ہوں اور بار بار اس حکمراں سے باغیوں کی سرکوبی کا مطالبہ کر رہے ہوں، لیکن وہ حکمراں محض اس سبب سے ان لوگوں کو باغیوں سے جنگ کی اجازت نہیں دیتا کہ ’’کہیں ایک جان کی بقاء کے لئے سینکڑوں جانیں تلف نہ ہو جائیں‘‘۔ آخری وقت تک رفقاء باغیوں سے مقابلہ اور ان کا محاصرہ توڑنے کی اجازت طلب کرتے رہے، لیکن آپؓ کا صرف ایک ہی جواب تھا کہ ’’میں اپنی ذات یا اپنی خلافت کی خاطر مسلمانوں کی تلواریں باہم ٹکراتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا‘‘۔ آپؓ نے اپنی آخری سانس تک اس قول کی حفاظت کی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ