فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 207

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 207
 فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 207

  

 ہم نے زیبا سے کہا ”دیکھیں یہ ہماری پہلی فلم کا پہلا پہلا کام ہے۔ آپ لوگوں کو کچھ ہمارا بھی خیال کرنا چاہیے۔“

وحید تو خاموش رہے مگر زیبا نے کہا ”بھئی میری تو خود سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ سب کیوں ہوا؟ آپ کے ہیرو صاحب کے دل کا حال کوئی نہیں جانتا۔ تمہارے تو دوست ہیں۔ خود ہی جا کر پوچھ لو۔ اگر میرا قصور نکلا تو جو چور کی سزا وہ میری۔ “

کامران مرزا ہمارے پاس آ کر کہنے لگے۔ ”آفاقی صاحب سیٹ پر کام رکا ہوا ہے۔ کل ہمیں شوٹنگ بھی کرنی ہے۔ اگر آج سیٹ تیار نہ ہوا تو شوٹنگ کیوں کر ہوگی؟ جلدی فیصلہ کیجئے اور اگر تصویریں بنوانی ہیں تو بنوا لیجئے۔ “

ہم نے کہا ”آپ تو جانتے ہیں کہ یہ تصویر سیٹ پر رکھنے کے لئے بہت ضروری ہے۔“

”تو پھر محمد علی صاحب کو بلائیے تاکہ کام ختم ہو جائے۔ میں نے لائٹس وغیرہ سب تیار کر رکھی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے کا کام ہے۔“

زیبا نے یہ سن کر منہ بنا لیا اور بولیں ”ٹھیک ہے۔ آپ تصویر بنوانے کا بندوبست کریں مجھے شوٹنگ پر بھی جانا ہے۔ “

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 206 

ہم نے زیبا اور وحید مراد سے کہا کہ وہ فی الحال سیٹ پر ہی موجود رہیں۔ ہم محمد علی صاحب کو جا کر لاتے ہیں۔

اپنے دفتر میں پہنچے تو عجب غمگین اور سوگوار منظر تھا۔ ایک صوفے پر محمد علی روٹھے ہوئے بیٹھے تھے دوسرے صوفے پر طارق صاحب اُداس بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ہمیں دیکھا تو طارق صاحب نے سوالیہ نگاہوں سے ہمارا خیر مقدم کیا۔

ہم محمد علی کے پاس جا کر بیٹھ گئے ”آخر بات کیا ہوئی ہے کس بات پر ناراض ہوگئے۔ کچھ معلوم تو ہو۔“

وہ برہمی سے بولے۔ ”آفاقی صاحب میں اس طرح کام کرنے کا عادی نہیں ہوں۔“

”مثلاً کس طرح؟“ ہم نے پوچھا۔

وہ کچھ لاجواب سے ہوگئے پھر بولے ”سیٹ پر کام کرنے کا سنجیدہ ماحول ہونا چاہیے۔ آپ طارق صاحب سے پوچھ لیجئے وہ لوگ تو کام کو بھی مذاق ہی سمجھتے ہیں۔“

ہم نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا ”بھائی فی الحال یہ بات جانے دو۔ اب چل کر تصویریں بنوا لو۔ کل ہمیں سیٹ پر اس تصویر کی ضرورت ہے۔“

ان کے چہرے کی کشیدگی کچھ کم ہونے لگی تھی۔ ہم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اٹھانے کی کوشش کی اور کہا ”زیادہ وقت نہیں ہے۔ بیس پچّیس منٹ کی بات ہے پھر اس کے بعد زیبا کو شوٹنگ کے لئے بھی جانا ہے۔ “

”میں نے کسی کی شوٹنگ کا ذمّہ تو نہیں لے رکھا ہے“ وہ ایک بار پھر بھڑک اٹھے۔

”مگر ہماری شوٹنگ کا ذمّہ تو لیا ہے نا۔ اگر یہ تصویر نہ بنی تو کل ہماری شوٹنگ نہ ہو سکے گی۔ چلو اب غصّہ تھوک دو۔ سیٹ پر انتظار ہو رہا ہے۔“

محمد علی قدرے پس و پیش کے بعد اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔

ہم نے طارق صاحب کی طرف دیکھا جو سگریٹ سلگا رہے تھے ”آئیے طارق صاحب!“

طارق صاحب بہت بے دلی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور زبا ن سے کوئی ایک لفظ بھی نکالے بغیر ہمارے ساتھ چل پڑے۔

یہ مختصر سا قافلہ دوبارہ سیٹ پر پہنچا تو زیبا بدستور چارپائی پر پاﺅں لٹکائے بیٹھی کامران مرزا سے باتیں کر رہی تھیں۔ وحید مراد بدستور کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم لوگوں کو دیکھ کر کامران مرزا کے چہرے پر اطینان بخش مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ فوراً مستعدی سے کیمرے کے پاس پہنچ گئے۔

”چلو بھئی لائٹس آن کرو ایک ریہرسل کریں گے۔“

یہ آواز ان کے منہ سے نکلتے ہی ایک دم جیسے کسی جادوئی عمل سے تمام سیٹ روشن ہوگیا۔

طارق صاحب نے محمد علی زیبا اور وحید مراد کو مقررہ جگہ پر کھڑا کر دیا۔ وہ تینوں ایک لائن میں کھڑے ہوگئے اور طارق صاحب کے اشارے پر وحید مراد نے زیبا کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال دیا مگر محمدعلی صاحب بدستور پتھّر کے مجسمے کی مانند بے حس و حرکت کھڑے رہے۔

طارق صاحب کی آواز بلند ہوئی ”محمد علی ‘ز یبا کا ہاتھ پکڑ لو۔“

مگر محمد علی بدستور زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد بنے رہے۔

وحید مراد اور زیبا نے کن انکھیوں سے طارق صاحب کو اور پھر ہمیں دیکھا۔ مطلب یہ کہ خود ہی دیکھ لیجئے۔ ہمارا کوئی دوش نہیں ہے۔ طارق صاحب نے زیبا سے مخاطب ہو کر کہا ”زیبا بیگم آپ ہی محمد علی کا ہاتھ پکڑ لیجئے۔ “

زیبا نے ذرا جھجکتے ہوئے ہاتھ بڑھا دیا اور محمد علی کا بازو تھم لیا مگر اس طرح تصویر میں وہ تاثر پیدا نہیں ہو سکتا تھا جو مطلوب تھا۔ وحید مراد کے بازو میں اپنا بازو ڈالا تھا تو محمد علی کے بازو میں بھی اسی طرح بے تکلفی سے بازو ڈال کر کھڑا ہونا ضروری تھا مگر محمد علی صاحب کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔

طارق صاحب نے کہا ”محمد علی‘ لائٹس آن ہیں۔ آپ تینوں دوستانہ انداز میں بازو میں بازو ڈال کر کھڑے ہوں تاکہ تصویر اتاری جائے۔ “

محمد علی نے زیبا اور وحید مراد کی طرف دیکھے بغیر اپنا بازو دوستانہ انداز میں زیبا کے بازو میں ڈال دیا اور ہم سب نے اطمینان کی سانس لی۔ تینوں کے چہروں میں مسکراہٹ تھی۔ فوٹو گرافر نے چند تصاویر بنائیں اور طارق صاحب نے مطمئن ہو کر پیک اپ کہا اور روشنیاں ایک دم بجھ گئیں۔ محمد علی نے اپنا بازو زیبا کے بازو سے نکالا اور بے تعلقی سے سیٹ سے باہر چلے گئے۔

طارق صاحب نے کامران مرزا سے پوچھا ”کیوں کامران‘ تصویر تو ٹھیک بن جائے گی نا؟“

”بالکل ٹھیک بنے گی۔ مگر علی صاحب کے چہرے پر دوستانہ مسکراہٹ نہیں تھی وہ تو کیمرا مین اپنے پاس سے نہیں ڈال سکتا۔“

طارق صاحب نے ہمیں دیکھا تو ہم نے کہا ”پھر بھی تصویر ٹھیک بن گئی ہے۔ آخری دو تصویروں میں محمد علی مسکرا رہے تھے۔“

وحید مراد نے ایک لمبی سی سانس لی اور طارق صاحب سے پوچھا ”اب ہمیں جانے کی اجازت ہے؟“

طارق صاحب نے کہا ’تھینک یو وحید، کل صبح دس بجے پہنچ جانا ،تمہارا ڈریس کل تیار ملے گا۔“

”اور مجھے کل کیا کرنا ہے؟“ زیبا نے پوچھا

”کل آپ کا کام نہیں ہے۔ ہماری طرف سے آپ آرام کریں۔ “

”تھینک یو“ زیبا نے مسکرا کر کہا ”اوکے آفاقی خدا حافظ“ اور سیٹ سے باہر چلی گئیں۔

سیاہ ساڑھی میں ملبوس وہ بہت سمارٹ لگ رہی تھیں۔ فلم میں وحید مراد ایک غریب نوجوان ہیں مگر اس وقت وہ بھی محمد علی کی طرح سوٹ اور ٹائی میں تھے اور بہت اچھّے لگ رہے تھے۔

سیٹ پر مزدوروں اور ترکھانوں نے دوبارہ کام شروع کر دیا تھا اور وہ ٹھکا ٹھک کی آوازوں سے گونجنے لگا۔

ہم سیٹ کے کاموں اور ضروری سامان کی فراہمی کا جائزہ لینے کے بعد اپنے دفتر میں داخل ہوئے تو طارق صاحب بیٹھے ہوئے سگریٹ کے کش لگا رہے تھے۔ ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔ چپڑاسی نے چائے کی پیالی لا کر رکھی اور کمرے سے رخصت ہوگیا۔

”شکر ہے تصویر تو ٹھیک بن گئی“ ہم نے خود کلامی کے انداز میں کہا۔

طارق صاحب کہنے لگے ”آفاقی صاحب‘ اس طرح کیسے کام چلے گا؟“

ہم نے ان کی طرف دیکھا۔

طارق صاحب بولے ”ایک تصویر بنانے میں اتنی پرابلم پیش آئی ہے۔ ابھی تو پوری فلم بنانی ہے۔ ان لوگوں کا یہی رویّہ رہا تو شوٹنگ کیسے ہوگی اور فلم کیوں کر مکّمل ہوگی۔ یہ تو بہت لمبا کام ہے۔“

ہم نے کہا” ان لوگوں میں ذرا بچپنا ہے۔“

”مگر فلم بنانا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔“ طارق صاحب نے سنجیدگی سے کہا ”آفاقی صاحب آپ ان لوگوں سے سیریسلی بات کیجئے، مجھے تو ایسا لگتا ہے جیسے ہمیں کاسٹ بدلنی پڑےگی۔“

ہم نے گھبرا کر ان کی طرف دیکھا ”کل ہماری شوٹنگ شروع ہو رہی ہے اور اس سیٹ پر کافی کام کرناہے ۔اتنی جلدی آرٹسٹ کیسے بدلیں گے اور دوسرے آرٹسٹوں کی ڈیٹس کیسے ملیں گی۔؟ “

”مگر ان تینوں کا جو روّیہ ہے اس کو دیکھتے ہوئے آنے والے واقعات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کی آپس میں نہیں بنے گی اور سارا ملبہ ہمارے اوپر پڑ جائے گا۔ میرا دل کہتا ہے کہ ہمیں کاسٹ میں تبدیلیاں ضرور کرنی پڑیں یا تو زیبا اور وحید مراد کو بدلیں اور یا پھر محمد علی کو، اس کے بغیر کام نہیں چلے گا۔ “

ہم سوچ میں پڑ گئے۔

طارق صاحب نے کہا ”آپ ان تینوں سے بالکل کھل کر بات کر لیجئے۔“

ہم نے تجویز پیش کی” آپ کیوں نہیں بات کرتے۔ “

انہوں نے کہا” آپ کے زیبا اور محمد علی سے زیادہ اچھّے تعلقات ہیں۔ آپ بے تکلفی سے ان سے بات کر سکتے ہیں۔ وہ آپ کا لحاظ بھی کرتے ہیں۔“ یہ کہہ کر طارق صاحب سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے کمرے سے باہر چلے گئے۔

ہم نے غور کیا تو طارق صاحب کا مشورہ بالکل درست پایا۔ یہ تو محض ایک تصویر اور چند منٹ کا معاملہ تھا۔ ہم نے سمجھا بجھا کر یہ مسئلہ حل کر لیا تھا مگر فلم کی شوٹنگ شروع ہونے کے بعد ہر سین اور ہر شاٹ سے پہلے یہ کارروائی ممکن نہ تھی۔

اب کیا کرنا چاہیے اتنے کم وقت میں نئے فن کار دستیاب نہیں ہو سکتے۔ ہمارے لئے محمد علی اور زیبا دونوں میں سے کسی ایک کو بھی فارغکرنا ہمارے بس میں نہیں تھا۔ ہم اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ کامران مرزا آگئے۔

”دیکھ لیا آفاقی صاحب، پروڈیوسر کی جان کو کتنے مسائل چمٹے رہتے ہیں۔ “

ہم نے کہا” کامران صاحب آپ تو وہاں موجود تھے اب سچ سچ بتائیے کہ واقعہ کیا ہوا تھا۔ محمد علی ناراض کیوں ہوگئے تھے اور اس میں زیادتی کس کی تھی؟ “

انہوں نے کہا ” ا گر اتنا مشکل کام کرانا ہے تو پہلے کافی منگائیں۔“ ہم نے چپڑاسی کو کافی بنانے کے لئے کہا اور ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ گئے۔

کامران مرزا نے قریب قریب وہی کہانی سنائی جو زیبا اور وحید مراد نے ہمیں سنائی تھی۔

ہم نے کہا ”مگر اس میں تو کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ محمد علی ناراض ہوتے۔ “

وہ کہنے لگے ”بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے۔ مگر کوئی نہ کوئی بات تو ضرور ہوگی ورنہ محمد علی کو یہ سچویشن پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ “

یہ دلیل بھی معقول تھی۔ جتنی دیر کامران کافیپیتے رہے ہم اپنے دماغ پر زور ڈال کر سوچتے رہے کہ دراصل بنیادی مسئلہ کیا ہو سکتا ہے اور اس کو حل کیسے کیا جائے گا۔ لیکن جب تک مسئلے کی نوعیت ہی کا علم نہ ہو تو اس کا حل کیونکر تلاش کیا جا سکتا ہے۔

کافی غور و خوض کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اصل مسئلہ زیبا اور محمد علی کے درمیان میں ہے۔ وحید مراد صرف ”سپورٹنگ کاسٹ“ ہیں۔ بہرحال‘ حقیقت کچھ بھی ہو یہ مسئلہ حل کئے بغیر ہماری فلم کی شوٹنگ التوا میں پڑ سکتی تھی۔ (جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 208 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فلمی الف لیلیٰ