جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر85

10 ستمبر 2017 (13:00)

میں ہر طرف سے بے نیاز ہو کر بھاگتا ہوا گاڑی کے پاس پہنچا اور درواز کھول کر بچوں کوبٹھا دیا جو کسی طور مجھ سے جدا ہونے کے لئے تیار نہ تھے۔ میں نے بمشکل بچوں کو پچھلی سیٹ پر بٹھایا اوردروازہ بند کرکے آگے بیٹھنے لگا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر84 

”کہاں جا رہا ہے میلچھ؟آ....مجھے نشٹ کر....قائر! ڈر کر بھاگ رہا ہے۔ ہا....ہا....ہا....“اس کے قہقہے کی باز گشت میری رگوںمیں ابل لے آئی۔ دل تو چاہا اسی وقت اس حرامزادے کو قبرمیں اتار دوں۔ اگر وہ مجسم حالت میں میرے سامنے آتا تومیں اپنے انجام کی پرواہ کیے بغیر اس سے بھڑ جاتا۔ لیکن مجبوری یہ تھی کہ وہ بزدل صائمہ کے جسم کی پناہ لے کر مجھے للکار رہا تھا۔ میں نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور گاڑی سٹارٹ کرکے اسے ریورس کرتا باہر نکل آیا۔صائمہ کو اس حالت میں چھوڑنے پر میرا خون کے آنسو رو رہا تھا۔ مومنہ کی ہچکیاں اب بھی جاری تھیں۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ احد بھی فوراً اگلی سیٹ پر آگیا۔ وہ خوفزدہ نظروں سے پیچھے دیکھ رہا تھا۔ میں نے ایک ہاتھ سے سٹیرنگ سنبھال کر اس کے سر پرہاتھ پھیرا۔

”احد بیٹا! آپ تو بہت بہادر ہو کسی سے نہیں ڈرتے۔“ میں نے اسکا سر تھپتھپایا۔

”بب....بابا! ماما کو کیا ہوا ہے ان کی شکل کیسی ہوگئی تھی؟ وہ اس طرح کیوں بول رہی تھیں؟“ اس نے خوفزدہ لہجے میں پوچھا۔

”بیٹا! ماما بیمار ہیں اس لئے ان کی ایسی حالت ہوگئی ہے۔“ میں نے اس کی تسلی کے لیے کہا۔

”لل....لیکن ماما کی شکل تو بہت بری ہوگئی تھی وہ ہمیں کیوں مارنا چاہتی تھیں؟“ بے ساختہ آہ میرے منہ سے نکل گئی۔

”بیٹا! وہ آپ کو مارنا نہیں چاہتیں جب وہ بیمار ہو جاتی ہیں تو ان کو سمجھ نہیں آتی کہ کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں؟ آپ فکر نہ کرو میں ااپ لوگوں کو آنٹی نازش کے گھر چھوڑ کر ماما کو ہاسپٹل لے جاﺅں گا ڈاکٹر ان کا علاج کرے گا تو وہ ٹھیک ہو جائیں گی؟“

اس کے بعد اسنے کوئی سوال نہ کیا۔ میرے لیے یہ خیال ہی سوہان روح تھا کہ میں صائمہ کو اس بدبخت کے رحم و کرم چھوڑ آیا تھا۔ عمران کے گھر پہنچ کر میں نے بچوں کو نازش کے حوالے کیا اور اسے بتایا کہ صائمہ کی طبیعت خراب ہے میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جا رہا ہوں اور بچوں کو وہاں داخلہ ممنوع ہے۔

”فاروق بھائی! کیا ہوا بھابی کو؟“ وہ فکر مند ہوگئیں۔

”معمولی سا بخار ہے۔“ میں نے جلدی سے کہا اور مومنہ کو ان کی گودمیں دے دیا۔

”ارے....اسے کیا ہوا یہ تو بہت بری طرح ڈری ہوئی ہے؟“ نازش نے اسے اپنے سینے سے لگاکر پوچھا۔

”صائمہ نے بخار میں اسے ڈانٹ دیا تھا اسلئے یہ بے چاری سہم گئی ہے۔“ میں نے کہا۔ پھر احدکو ایک طرف لے جاکر سمجھایا کہ وہ آنٹی سے کوئی ایسی ویسی بات نہ کرے۔ اسنے اپنا ننھا سا سرہلا دیا۔ مجھے یقین تھا وہ میری بات پر عمل کرے گی۔ ان کو وہاں چھوڑ کر میں سیدھا بینک چلا گیا۔ جلدی سے محمد شریف کوبلوا کر میں نے ساری صورتحال بتائی وہ اسی وقت میرے ساتھ جانے پر تیار ہوگیا۔

”خان صاحب! وہ تعویذ کہاں ہے جو میں نے آپ کو دیا تھا؟“ اسنے پوچھا۔

”میری جیب میں ہے کیوں؟“

”اسے اپنے سے جدا مت کیجئے گا وہ خبیث مجھے تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن آپ کے اوپر وارکرنے سے نہیں چوکے گا۔“

ہم دس منٹ میں دوبارہ گھرپہنچ گئے گیٹ ابھی تک کھلاہوا تھا۔ گاڑی پورچ میں کھڑی کرکے میں جلدی سے اندرکی طرف بھاگا۔ محمد شریف میرے پیچھے تھا۔ بیڈ روم میں پہنچے تو وہ خالی تھا۔(جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر86 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں