گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 21

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
 گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 21

  

 دوسرے دن مسٹر الائیڈ مجھے پھر ساتھ لے کر گاﺅں کی سیر کو نکلے۔ا س مرتبہ ہم دو بوڑھی خواتین کے ہاں گئے۔ ان کی عمریں 70,70 سال ہوگی۔ ایک چھوٹے سے مکان میں دونوں ساتھ رہتی تھیں۔ ان کے نام نینی اور سیلی تھے۔ پادری مسٹر لائیڈ اپنے خیراتی فنڈ سے ان بڑھیوں کی مدد کرتے تھے۔ ان دونوں نے اپنی ساری عمر میں کبھی ٹرین نہیں دیکھی تھی حالانکہ ٹکنال سے ملبورن کا ریلوے سٹیشن بمشکل دو میل دور ہوگا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی کہ اس وقت (1912ءمیں) انگلینڈ میں بھی اتنی غربت، جہالت اور پسماندگی تھی۔

مسٹر لائیڈ نے سیاہ سوٹ اتوار کے دن پہننے کے لئے مجھے خریدکر دیا تھا، اور اس سے مجھے ا ندازہ ہوا کہ انگریزی کے الفاظ ”سنڈے سوٹ پہننا“ کس درجہ اہمت رکھتے ہیں۔

ٹکنال ایک چھوٹا سا گاﺅں ہے اور انگلینڈ کے بیشتر دیہات کی طرح شاہراہ کے دونوں طرف آباد ہے۔ گاﺅں میں تھوڑی سی دکانیں تھیں جن میں سے بعض دکانوں کے مالک کسان تھے اور یہ کام انہوں نے گھر ہی میں شروع کررکھا تھا۔ مکانوں کی چھتیں پھونس کی بنی ہوئی تھیں اور میں یہ سوچ کر ہمیشہ حیران ہوتا کہ یہ چھتیں ٹپکتی کیوں نہیں۔ سروانسی کریو وہاں کی اراضی کے مالک تھے اور مزارع جب زمین کا نقد لگان ادا کرتے تو وہ انہیں سال میں ایک بار کھانے پر مدعو کرتے۔ مزارعے اس تقریب پر سنڈے سوٹ پہنتے تھے۔ سروانسی ایک عالیشان مکان میں رہتے تھے، جس کا آہنی صدر دروازہ تھا اور دروازہ کے ساتھ دربان کی رہائش گاہ تھی کیونکہ ان کے پارک میں ہرن پلے ہوئے تھے۔ میں نے فوری طور طبی امداد کی جماعت میں بھی داخلہ لے لیا اور سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ چند سال بعد شملہ میں مَیں نے اپنے ایک ملازم کو مرنے سے بچالیا۔ اس نے اپنی کلائی کی رگیں کاٹ لی تھیں۔ اگر میں گرہ لگا کر خون بند کرنے کی ترکیب نہ جانتا ہوتا تو جریان خون کے سبب اس کی موت واقع ہوجاتی۔

مسٹر لائیڈ کو سال کے تین سو پونڈ ملتے تھے۔ جسے وہ گزارہ کا نام دیتے تھے۔ سروانسی پادری کا انتخاب عمر بھر کے لئے کرتے تھے لیکن انہیں اسے برطرف کرنے کا اختیار نہ تھا۔ یہ اختیار بشپ کو حاصل تھا۔ تنخواہ کی رقم لگان پر ایک خاص شرح کے تحت وصول کی جاتی تھی۔ مشرق کے عوام کو بھی اپنے مذہبی اداروں کی تنظیم کرنی چاہیے۔ لگان پر ایک معمولی ٹیکس کے نفاذ سے تنخواہوں کی رقم نکل آئے گی۔ افریقی اور ایشیائی ملکوں کی یونیورسٹیوں میں تکمیل دین کی بھی ایک ڈگری ہونی چاہیے اور صرف مستند لوگوں کو ائمہ مساجد مقرر کرنا چاہیے۔ ستھ ہی ان کا سیاست میں حصہ لینا ممنوع ہو۔

ٹکنال کے کسان ہٹی کے پائپ منہ میں دبائے، اپنے کتوں اور مویشیوں کے ساتھ پھرتے مجھے بھلے لگتے تھے۔ کھیتوں کے چاروں طرف جھاڑیاں، باڑ اور دروازے بنے ہوئے تھے، تاکہ مویشی رات میں اندر نہ گھس جائیں۔ ان کے کھیتوں کو کھاد خوب ملتی رہتی تھی۔ ہم اپنے مویشی اپنے مکانوں کے اندر باندھتے ہیں۔ اس طرح گندگی پھیلتی ہے اور کسانوں کے لئے بلا وجہ کام بڑھتا ہے لیکن یہ بھی ہے کہ اگر ہم انہیں باہر باندھیں تو ہر وقت مویشی چوروں کا دھڑکا لگا رہے گا۔ جو ہماری دیہی زندگی میں ایک بڑی لعنت ہیں۔ سروانسی کے یہاں سﺅروں کا باڑہ نہایت غلیظ تھا اور میں یہ دیکھ کر کانپ گیا کہ ان کے سور غلاظت میں نہ صرف لوٹ رہے تھے بلکہ اسی کو کھا بھی رہے تھے۔ آج کل یورپ میں سﺅروں کے باڑوں کی بڑی دیکھ بھال ہوتی ہے اور وہ لرزہ خیز بیماریاں جو سﺅروں کی چھوت سے پیدا ہوتی تھیں، ختم ہوگئی ہیں۔

میرے پہنچنے سے پہلے ایک لڑکا ٹکنال ویکاریج میں تعطیل گزارنے کے لئے گولڈ کوسٹ سے آیا تھا۔ وہ ایڈنبرا میں 11 سال تک طب کا طالبعلم رہ چکا تھا لیکن ڈگری سے محروم تھا۔ اس نے ہمارے سامنے اعتراف کیا کہ میری سب سے بڑی کمزوری گراموفون اور ریکارڈ ہیں اور میرے پاس ریکارڈوں کا وافر ذخیرہ اکٹھا ہوچکا ہے۔ اس نے بتایا کہ جب وہ پہلی بار ایڈنبرا گیا تو پہلا مسئلہ یہ پیش آیا کہ بیٹھنے کے کمرے میں گیس کی روشنی کس طرح گل کی جائے۔ اس نے پھونک مار کر بجھانا چاہا، جیسے تیل کے لیمپ کو بجھاتے ہیں لیکن ناکام رہا۔ بالآخر چھت کی درمیانی بتی کے نیچے اس نے ایک کرسی رکھی اور اوپر چڑھ کر زور سے پھونک ماری۔ روشنی گل ہوگئی اور وہ یہ کہہ کر کہ ”اللہ تیرا شکر ہے“ اپنی خواب گاہ میں سونے کے لئے چلا گیا۔ صبح جب مالکہ مکان ناشتہ لے کر آئی تو کمرے میں گیس کی بوپھیلی ہوئی تھی۔ اس نے ناشتے کی تھالی زمین پر پٹخی اور چیخ مار کر الٹے پاﺅں بھاگی۔ میرے د وست کو وہ بورڈنگ ہاﺅس چھوڑنا پڑا۔ دوسرے جس مکان میں رہنے کیلئے گیا وہاں بیٹھنے کے کمرے میں کوئلے کی آگ دہکتی رہتی تھی۔ اس نے دہکتے ہوئے کوئلوں سے اپنی خواب گاہ کو بھی گرم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کوئلے کا ایک بڑا سا دہکتا ہوا انگارہ دست پناہ سے اٹھا کر چلا ہی تھا کہ وہ کوئلہ پیش قیمت قالین پر گر پڑا اور قالین جل گیا۔ نئے قالین کے لئے بارہ پاﺅنڈ ادا کرنے کے بعد اسے اس بورڈنگ ہاﺅس سے بھی نکلنا پڑا۔ وہ ان چند نفیس ترین لوگوں میں سے تھا جن سے زندگی میں ملاقات کا اتفاق مجھے ہوا ہے۔ میرے قیام کے دوران جب پہلا کرسمس آیا تو مجھ سے کہا گیا کہ ویکاریج کے عقبی دروازہ سے باہر نکل کر صدر دروازہ سے اندر داخل ہوں(بعد میں مجھے بتایا گیا کہ کرسمس کے دن کسی انگریز کے گھر میں سیاہ فام باشندے کی آمد بڑا نیک شگون سمجھا جاتا ہے) بعد میں مجھے زینے کے نیچے بیرونی ہال میں جس کی چھت سے سدا بہار پھولوں کی بیلیں لٹک رہی تھیں، کھڑا کردیا گیا۔ ان کی چھوٹی بیٹی ایلین اور میں دونوں شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ افسوس مجھے اس وقت تک اپنے اس استحقاق کا علم نہ تھا کہ اس مبارک تقریب میں ساتھ کھڑی ہونے والی لڑکی کا بوسہ بھی لیا جاسکتا ہے۔(جاری ہے)

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 22 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر