لنڈی کوتل میں شادی کی تقریب میں موسیقی کی تقریب، دارالعلوم آستانہ صدیقہ بنوریہ نے آلات ہی جلا کر راکھ کردیئے لیکن پھر انتظامیہ کے نوٹس پر ایسی بات کہہ دی کہ ہرکوئی حیران رہ گیا

لنڈی کوتل میں شادی کی تقریب میں موسیقی کی تقریب، دارالعلوم آستانہ صدیقہ ...
لنڈی کوتل میں شادی کی تقریب میں موسیقی کی تقریب، دارالعلوم آستانہ صدیقہ بنوریہ نے آلات ہی جلا کر راکھ کردیئے لیکن پھر انتظامیہ کے نوٹس پر ایسی بات کہہ دی کہ ہرکوئی حیران رہ گیا

  

خیبرایجنسی (ویب ڈیسک) لنڈی کوتل میں ایک دینی مدرسے کے علما اور انتظامیہ نے سازندوں سے چھینے گئے موسیقی کے آلات جلانے پر معذرت کرتے ہوئے اسے غلط فہمی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دو روز قبل اس مدرسے سے تعلق رکھنے والوں نے یہ آلات چھین کر اسے اپنے احاطے میں جمع کر کے آگ لگا دی تھی۔ یہ سازندے شیخمل خیل اور مختار خیل نامی دیہاتوں میں شادی کی تقریبات میں موسیقی کے پروگرام میں شریک تھے، آلات جلائے جانے کی تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

اس واقعے کے بعد دارالعلوم آستانہ صدیقہ بنوریہ کی انتظامیہ میں شامل محمد ابراہیم عرف باچا جان نے موسیقی کے آلات کو جلا کر ان کے بقول غیر اسلامی فعل کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش میں ساتھ دینے پر مقامی لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا تھا تاہم واقعے کے بعد لنڈی کوتل کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے مدرسے کے انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس پر جواب طلب کیا تھا جس کے جواب میں ہفتہ کو انتظامیہ نے تحریری طور پر اس سرگرمی پر معذرت کرتے ہوئے اسے غلط فہمی کی بنیاد پر پیش آنے والا واقعہ قرار دیا۔

خیبر پختونخواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں شادی بیاہ کی تقریبات میں موسیقی کا استعمال کوئی انوکھی بات نہیں لیکن گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کے علاوہ سخت گیر موقف رکھنے والے عسکریت پسندوں نے موسیقی کو غیر اسلامی قرار دے کر اس کے اہتمام پر پابندی لگا رکھی تھی، ایسی ہی قدغنوں کی وجہ سے بہت سے سازندے اور فنکار اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر بھی مجبور ہوئے۔

تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی دینی مدرسے کی طرف سے موسیقی کے آلات کو نذر آتش کرنے پر انتظامیہ سے معذرت کی گئی اور آئندہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔

مزید : خیبر