9/11 حملوں سے پہلے سعودی حکومت نے 2 شہریوں کو کیا کام کرنے کے لئے بھاری رقم ادا کی؟ 16 سال بعد تہلکہ خیز دستاویزات پہلی مرتبہ سامنے آگئیں، نیا ہنگامہ برپا ہو گیا

9/11 حملوں سے پہلے سعودی حکومت نے 2 شہریوں کو کیا کام کرنے کے لئے بھاری رقم ادا ...
9/11 حملوں سے پہلے سعودی حکومت نے 2 شہریوں کو کیا کام کرنے کے لئے بھاری رقم ادا کی؟ 16 سال بعد تہلکہ خیز دستاویزات پہلی مرتبہ سامنے آگئیں، نیا ہنگامہ برپا ہو گیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں ہونے والے نائن الیون کے حملے میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کا تذکرہ کافی عرصے سے ہو رہا ہے اور اب اس حوالے سے اس پر نہایت سنگین الزام عائد کر دیا گیا ہے۔ فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق نائن الیون میں سعودی کردار کے حوالے سے جاری مقدمے میں کچھ نئے ثبوت سامنے آئے ہیں جن کے مطابق واشنگٹن میں موجود سعودی سفارت خانے نے دو سعودی ملازمین کو بھاری رقم دی تھی جو ان دونوں ملازمین نے طیارے ہائی جیک کرنے والوں کی دی۔ ہائی جیکروں اور واردات کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو کو ہدایات بھی یہی دو ملازمین دیتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق ثبوتوں سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دونوں سعودی ملازمین طلبہ کے بھیس میں خفیہ طور پر امریکہ میں مقیم تھے۔ بظاہر وہ یہاں تعلیم حاصل کر رہے تھے لیکن درپردہ وہ سعودی حکومت اور ہائی جیکروں کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھے۔ واضح رہے کہ نائن الیون میں جاں بحق ہونے والے لگ بھگ 1400افراد کے لواحقین نے سعودی عرب کے خلاف ایک مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ ان کی طرف سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس واقعے میں سعودی حکومت براہ راست ملوث تھی۔ ان کے وکیل سین کارٹر کا کہنا ہے کہ ”ہم طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آ رہے تھے کہ القاعدہ اور سعودی حکومت نے مذہبی عناصر میں گہرے روابط تھے۔ ان نئے ثبوتوں سے ہمارا موقف درست ثابت ہو گیا ہے۔“

مزید : بین الاقوامی