گرمیت رام کو پھربڑا جھٹکا لگ گیا ،ایک اور متاثرہ خاتون منظر عام پر آ گئی ،’’سچا سودا ‘‘ میں رہنے والی خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کی ایسی ہولناک کہانی بیان کر دی کہ جان کر ہی پورا بھارت سکتے میں آ گیا

گرمیت رام کو پھربڑا جھٹکا لگ گیا ،ایک اور متاثرہ خاتون منظر عام پر آ گئی ...
گرمیت رام کو پھربڑا جھٹکا لگ گیا ،ایک اور متاثرہ خاتون منظر عام پر آ گئی ،’’سچا سودا ‘‘ میں رہنے والی خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کی ایسی ہولناک کہانی بیان کر دی کہ جان کر ہی پورا بھارت سکتے میں آ گیا

  

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع سرسا میں قائم ’’ڈیرہ سچا سودا ‘‘ کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ کو ریپ کیس میں 20سال سزا ملنے کے بعد تہلکپ خیز انکشافات کا سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ،اب گرمیت رام کے ڈیرے کو 15سال قبل الوداع کہنے والی ایک خاتون منظر عام پر آئی ہے اور اس نے گرمیت رام کے بارے میں اب تک کے سنگین ترین انکشافات کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ تین سال تک ڈیرے میں مقیم رہی ،ہر شام کو گرمیت رام خواتین کے رہائشی ایریا کی طرف آتا اور جو بھی لڑکی اسے پسند آتی وہاں کی خواتین سٹاف کو اسے اپنے پاس بھیجنے کا کہتا ،وہ اپنے مخصوص کمرے میں لڑکیوں کو شراب پلا کر ان کا جنسی استحصال کرتا تھا ۔

مزید پڑھیں:”چوہدری نثار کی مریم نواز سے لمبی ملاقات ہوئی جس میں۔۔۔“ مریم نواز کو غیر سیاسی کہنے پر حامد میر نے سابق وزیر داخلہ کو آڑے ہاتھوں لے لیا، ایسا تہلکہ خیز انکشاف کر دیا کہ چوہدری نثار کے غصے کی انتہاءنہ رہے گی

ہندوستان کے نجی ٹی وی چینل ’’ انڈو ٹی وی ‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ اس نے 2002 میں ڈیر چھوڑ دیا تھاسادھوی(ڈیرے میں رہنے والی خواتین اور لڑکیوں کو سادھوی کہا جاتا تھا ) نے بتایا کہ رام رحیم شام کے وقت ’’سادھوی آواس‘‘(خواتین کا رہائشی ایریا ) کی طرف آتا تھا، وہاں کئی خواتین کام بھی کرتی تھیں، رام رحیم کو جو سادھوی پسند آتی وہ خاتون سٹاف سے انہیں اپنے مخصوص کمرے میں بھیجنے کیلئے کہتا۔ خاتون سٹاف رات میں اس سادھوی سے کہتی کہ’’ پتا جی ‘‘(گرمیت رام )نے اسے معاف کرنے کیلئے بلایا ہے،مخصوص کمرے کے اندر جاتے وقت لڑکیاں بہت خوش ہوتیں کہ’’ پتا جی‘‘ نے معافی کیلئے بلایا ہے، ڈیرے کے اندر ہی ایک عالی شان کمرہ تھا ، جہاں رام رحیم لڑکیوں کا استحصال کرتا تھا ، لیکن وہاں سے واپس لوٹنے کے بعد ’’سادھوی‘‘ خاموش رہنے لگتیں۔خاتونکا کہنا تھا کہ وہ ڈیرے میں تین سال تک رہی، اس دوران کئی مرتبہ ’’ مخصوص کمرے ‘‘سے لڑکیوں کے چیخنے کی آواز آتی تھی،گرمیت رام اپنے مخصوص کمرے میں لے جائی جانے والی سادھویوں کو ایک نشیلا مشروب پلایا جاتا تھا، اس مشروب کو جام کہا جاتا تھا،مخصوص کمرے سے لوٹنے کے بعد زیادہ تر سادھویاں خاموش رہتی ، لیکن ایک دو نے یہ بات بتائی۔ خاتون نے بتایا کہ پہلے انہیں بھی یقین نہیں ہوا ، لیکن جب وہ خود’’مخصوص کمرے ‘‘ کے اندر گئی تو اسے اس بات کی حقیقت معلوم ہوئی ۔

مزید پڑھیں:مردوں کو دیکھتے ہی خواتین کی نظر سب سے پہلے جسم کے کس حصے پر پڑتی ہے؟ پہلی مرتبہ سائنسدانوں نے جواب دے دیا

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس وقت وہ طبیعت خرابی کا بہانہ بناکر وہاں سے آگئی تھی ، جب ہم لوگ اپنے والدین کو اس بارے میں بتاتے تو وہ اس بات پر یقین نہیں کرتے تھے، وہ کہتے کہ’’ پتا جی‘‘ ایسا کر ہی نہیں سکتے۔ رام رحیم کے ڈیرے میں تین سال گزارنے والی اس سادھوی کا ماننا ہے کہ اگر 2 سادھویوں نے ہمت کرکے وہ خط نہ لکھا ہوتا تو یہ بات کبھی سامنے ہی نہیں آتی اور ڈیرے میں لڑکیوں کا استحصال جاری رہتا۔متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ ڈیرے میں رہنے والی سادھویاں آپس میں بات نہ کرسکیں اور ’’مخصوص کمرے ‘‘کا سچ ایک دوسرے کو نہ بتا سکیں ، اس کیلئے بھی خاص انتظام کیا گیا تھا، وہاں سخت سیکیورٹی ہوتی تھی ، دھمکایا بھی جاتا تھا کہ اس بارے میں کسی کو بتایا تو بھائی ، ماں باپ کا قتل کردیا جائے گا،مخصوص کمرے کی سیکیورٹی میں ہتھیار بند لوگوں کو تعینات کیا جاتا تھا۔ سادھوی نے بتایا کہ ہتھیار بند لوگوں کو نامرد بنادیا جاتا تھا، ایسا اس لئے کیا جاتا تھا تاکہ سیکیورٹی گارڈز اور سادھویوں کے درمیان معاشقہ نہ ہوسکے اور وہ شادی نہ کرسکیں۔سال 2002ء میں جب دو سادھویوں نے رام رحیم کے خلاف خط لکھا تھا تب سادھوی کے والدین کو ان کی بات پر یقین ہوا اور انہوں نے وہاں سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس معاملے میں اب تک خاموشی اختیار کرنے کے سوال پر سادھوی نے کہا کہ اس کی خوشحال فیملی ہے ، وہ اس ڈر میں خاموش رہی کہ بولنے سے اس کے اہل خانہ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔

مزید : بین الاقوامی