داغستان،شہری نے داعش میں شامل ہونے والی بیوی سے بچے واپس لے لیے

داغستان،شہری نے داعش میں شامل ہونے والی بیوی سے بچے واپس لے لیے
داغستان،شہری نے داعش میں شامل ہونے والی بیوی سے بچے واپس لے لیے

  

ماسکو(این این آئی)روسی ریاست داغستان کے شہری نے بچوں سمیت فرارہوکر شام میں داعش کی صفوں میں شامل ہونے والی بیوی سے دونوں بچے چھڑالیے جبکہ بیوی کو وہیں چھوڑ کر آگیا۔

گرمیت رام کو پھربڑا جھٹکا لگ گیا ،ایک اور متاثرہ خاتون منظر عام پر آ گئی ،’’سچا سودا ‘‘ میں رہنے والی خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کی ایسی ہولناک کہانی بیان کر دی کہ جان کر ہی پورا بھارت سکتے میں آ گیا

غیرمیڈیارپورٹس کے مطابق آرترنے بتایاکہ وہ داغستان میں مقیم ہیں اوران کی اہلیہ گھر سے فرار ہوکرداعش کی خود ساختہ خلافت میں شامل ہوگئیں،جس کے بعد میں استنبول اوروہاں سے ایک ایجنٹ کے ذریعے شام میں اس جگہ پہنچنے میں کامیاب ہوگیا جہاں ان کی بیوی اوربچے رہ رہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ میرے بچے مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ میری بیٹی فاطمہ نے سیاہ کپڑے اور حجاب پہن رکھا تھا جبکہ میری دوسری بیٹی مزارت چونکہ چھوٹی تھی اس لیے اس نے پہلے جیسے ہی کپڑے پہن رکھے تھے۔جب میں وہاں پہنچا تو میری بیوی وہاں نہیں تھی لیکن جب وہ واپس آئی مجھے دیکھا تو سمجھ گئی کہ وہ مشکل میں پڑ گئی ہے،جس کے بعد ایک شرعی عدالت نے بچوں کو میرے حوالے کر دیالیکن انہیں خلافت کے علاقے سے باہر جانے کے اجازت نہیں تھی۔

آرتر نے کہاکہ گھر لوٹنے کے لیے انہیں یہاں سے فرار ہونا تھا، ایک رات وہ ترکی کی سرحد کے لیے نکل پڑے ۔ ترک سرحدی محافظ 50 میٹر دور تھے اور انھوں نے گولیاں چلانی شروع کر دیں،جس پر ہم نے ایک نالے میں چھلانگ لگا دی اور 20 منٹ تک وہاں چھپے رہے اس دوران گولیاں ہمارے سروں کے اوپر سے گزر رہی تھیں ۔آخر کارآرتر اور ان کی بیٹیاں استنبول تک پہنچ گئے جہاں روسی قونصلیٹ نے گھر لوٹنے میں ان کی مدد کی۔

مزید : بین الاقوامی