ووٹ کے تقدس کے مشن میں نواز شریف کے ساتھ ہوں مگر طریقہ کار پر اختلاف ہے:چوہدری نثار

ووٹ کے تقدس کے مشن میں نواز شریف کے ساتھ ہوں مگر طریقہ کار پر اختلاف ہے:چوہدری ...
ووٹ کے تقدس کے مشن میں نواز شریف کے ساتھ ہوں مگر طریقہ کار پر اختلاف ہے:چوہدری نثار

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)رہنماءمسلم لیگ(ن) چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ووٹ کے تقدس کے مشن میں نواز شریف کے ساتھ ہوں مگر ان کے طریقہ کار پر اختلاف ہے۔ ووٹ کا تقدس عوامی حقوق کی بحالی اور گڈ گورننس سے قائم ہوسکتا ہے۔ سیاست دانوں کی عوامی فلاح و بہبود کے لئے کارکردگی کی بنیاد پر ہی عوام ان کے لئے باہر نکلتے ہیں۔ جب آپ عوام کے ساتھ اعتماد اور بہتر کارکردگی کا رشتہ قائم کرتے ہیں تو وہ آپ کے چوکیداراور محافظ بن جاتے ہیں اگر آپ کارکردگی نہیں دکھائیں گے تو عوام کسی دوسرے مسیحا کی تلاش میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ طیب اردگان نے عوام کے ساتھ رشتہ قائم کیا تو وہاں کے لوگ ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے۔انہوں نے عوام کو لیڈ رڈیلیور کیا جس کے بعد عوام ان کے خلاف بغاوت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور اس حوالے سے سابق وزیر اعظم ، آرمی چیف اور مجھے علم ہے جبکہ موجودہ وزیر اعظم کو اس حوالے سے کوئی علم نہیں ہے، ہمیں اتحاد و یگانگت کے ساتھ ان خطرات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

نواز شریف کے بعد مسلم لیگ ن کی صدارت کے لیے سب سے موزوں آدمی کون ہو گا ؟سینئر صحافی سلیم صافی نے سوال کیا تو چوہدری نثار نے ایسا جواب دے دیا کہ سن کر نواز شریف بھی ہکا بکا رہ جائیں گے

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”جرگہ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اختلافات کے باوجود نواز شریف کے ساتھ گزارہ ہوسکتا ہے ۔مریم نواز شریف کا اب تک کردار صرف نواز شریف کی بیٹی کے طور پر رہا ہے، بچے بچے ہوتے ہیں وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں انہیں لیڈر کیسے مانا جاسکتا ہے، دوست کی بچی ہے مگر پھر بھی بچی ہے۔ جب وہ عملی سیاست میں آئیں گی تو اس وقت کے لوگ خود ہی فیصلہ کریں گے کہ ان میں قائدانہ صلاحتیں ہیں یا نہیں ہیں ۔اگر مریم نواز میں قیادت کی صلاحیت ہے تو انہیں خود کو منوانا ہوگا۔سیاست چھوڑنے سے متعلق بیان میڈیا نے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔ میری صورت حال واقعی کافی خراب تھی مگر میں نے پارٹی کے سینئر افراد کے کہنے پر اپنا فیصلہ تبدیل کیا۔ نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو مجھ سے مشاورت کے بعد وزیر اعظم بنایا گیا۔ کابینہ بننے سے ایک دن قبل شاہد خاقان عباسی میرے پاس آئے اور مجھ سے اپیل کی کہ میں کابینہ میں شامل ہو جاﺅں مگر میں نے انکار کردیا ،کیوں کہ مجھے اپنی سیاسی زندگی میں عہدوں کی لالچ رہی ہے اور نہ ہی وزارت کا کوئی شوق ، میں ایک عام کارکن کی طرح رہنا پسند کرتا ہوں۔۔مجھے مسلم لیگ (ن) میں33سال ہوگئے اور نواز شریف کے بعد سب سے سینئر میں ہوں مگر میں پارٹی صدارت میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ میری نظر میں شہباز شریف پارٹی صدارت کے لئے موذوں ترین آدمی ہیں۔

آپ جیسا شریف انسان عمران خان کا دوست کیسے بن گیا ؟سلیم صافی نے چوہدری نثار سے سوال کیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے ایسا جواب دے دیا کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

چوہدری نثار کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ملک کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور ہمارے پاس ہائی پروفائل انٹیلی جنس رپورٹس ہیں جنہیں پبلک نہیں کیا جاسکتا۔ ا ن خطرات کے حوالے سے تانے بانے بالکل واضح ہیں ۔ پانچ افراد کو اس بارے میں معلوم تھا جن میں سابق وزیر اعظم، سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف اور اب موجود ہ آرمی چیف کو اس بارے میں علم ہے مگر موجودہ وزیر اعظم کو اس حوالے سے بالکل بھی معلوم نہیں ہے۔ ہمارے پاس انتہائی بلیک اینڈ وائٹ رپورٹس ہیں کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر گھیرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان چیزوں کو شیئر یا پبلک نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ جو کام ہو رہا ہے وہ رک جائے گا۔ سول ملٹری اختلاف اتنے خراب نہیں ہیں جتنا بنا کر پیش کیا جا تا ہے اور یہ تاثر بھی غلط ہے کہ آپ کی مرضی کا جرنیل آکر آپ کو فائدہ دے گا کیوں کہ میرا بھائی بھی اگر آرمی چیف بن جائے تو وہ سب سے پہلے اپنے ادارے سے مخلص ہوگا۔ پرویزمشرف کا نام ڈھائی سال تک میں نے ای سی ایل میں ڈالے رکھا لیکن عدالت کے حکم پر انہیں باہر جانے دیا ۔ جب ان کے خلاف فیصلہ ہوا تو مشرف نے اسی وقت باہر جانے کی ٹکٹ کرا لی تھی مگر میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ انہیں روکا جائےگا۔ انہوں نے سارا سامان تیارکر لیا تھا مگرمیں نے تفصیلی فیصلہ آنے تک انہیں نہیں جانے دیا۔

کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہتا ہوں،عمران خان کو بطور سابق کھلاڑی دعوت دی:نجم سیٹھی

سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن میں نے خود شروع کیاتھا،اس وقت کے ڈی جی رینجرز جنرل رضوان کا تبادلہ کر دیا ہوا تھا مگر میں نے اسے رکوایا اور انہوں کراچی میں ایک بہترین انداز میں آپریشن کیا اور شہر میں امن و امان کو بحال کیا۔ یہ آپریشن ملٹری نے شروع کیا اور نہ کسی اور نے بلکہ اس کی اونر شپ مکمل طور پر سویلین ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے پاﺅں پر خود ہی کلہاڑی مارتے ہیں،ملک میں کسی بھی قسم کے بین آرگنائزیشنز کا وجود نہیں ہے اور ہمارے سیاست دان خود ہی کہتے ہیں کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہیے۔ ہم نے اپنا گھر ٹھیک کرنے کے لئے جتنی قربانیاں دی ہیں اتنی دنیا کے کسی بھی ملک نے نہیں دی، بھارت میںد رجنوں دہشت گرد تنظیمیں ہیں مگر انہوں نے کبھی یہ بات نہیں کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہئے۔ علمائے کرام اس ملک کا ایک مئوثر طبقہ ہیں اور ہم نے ملک میں امن و امان لانے اور فرقہ واریت کا خاتمہ کرنے کے لئے علمائے کرام کے ساتھ کام کیا ہے، میں بحیثیت وزیر داخلہ ہر مکتبہ فکر کے علمائے کرام سے رابطے میں رہتا ہوں اور سب کے ساتھ میرے بہترین تعلقات ہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں