چینی کمپنی کی سازش میں استعمال ہونے والے کردار سامنے آنے لگے

چینی کمپنی کی سازش میں استعمال ہونے والے کردار سامنے آنے لگے
چینی کمپنی کی سازش میں استعمال ہونے والے کردار سامنے آنے لگے

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک)چینی کمپنی سے منسلک دھوکا دہی اور جعل سازی، جس کے ذریعے وزیراعلی پنجاب کو منی لانڈرنگ کے کیس میں جعلی دستاویزات کے ذریعے پھنسانے کی سازش مکمل طور پر بے نقاب ہوگئی ہے۔دی نیوز کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ چینی کمپنی یابت نے نامناسب عجلت میں ایک پاکستانی کمپنی کپیٹل انجینئرنگ کو ملتان میں میٹرو بس منصوبے میں بیجنگ میں حکام کے سامنے اپنا شریک کار ظاہر کیا اور یہ کام اسلام آباد میں کمپنی کی رجسٹریشن کے لئے درخواست دینے سے بھی کہیں پہلے کیا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اس کی پاکستانی شریک کار نے ایس ای سی پی کے پاس کپیٹل انجینئرنگ کی رجسٹریشن کے لئے درخواست دی تو اس کی درخواست اس کے نام پر کچھ اعتراضات لگا کر مسترد کردی گئی تھی۔دی نیوز پاکستانی پارٹنر اعجاز اصغر شیخ کا پتہ لگانے میں بھی کامیاب رہا، جن کے بھائی کا نام فیصل ہے۔ جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شیخ نے شہباز شریف کے فرنٹ مین ظاہر کرنے کے لئے اپنے بھائی کا نام استعمال کیا یا کوئی اور فیصل سبحان بھی ہے جسے ابھی دریافت کیا جانا ہے۔چینی کمپنی یاتب کی جانب سے چینی ریگولیٹر سی آیس آر سی کے پاس جمع کرائے گئے بیان میں صرف فیصل سبحان کے دستخط اور ان کے وزیٹنگ کارڈ کی فوٹو کاپی ہے جو پڑھی بھی نہیں جاسکتی۔ فیصل جو کوئی بھی ہے، پنجاب کے وزیراعلی کا مبینہ فرنٹ مین شیخ اعجاز کے علم میں ہے،جسے تلاش کیا گیا توا س نے دی نیوز سے وعدہ کیا کہ وہ فیصل کے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کرے گا لیکن اسلام آباد کے سیکٹر آئی نائن میں اپنے دفتر میں دی نیوز کی ٹیم کو بلانے کے بعد اچانک غائب ہوگیا۔وہ اب بھی منظر پر آنے کے لئے تیارنہیں ہے اور گزشتہ تین روز سے اس کا سیل فون نمبر بند ہے۔ شیخ کا بھائی فیصل راولپنڈی کے راجا بازار میں کراکری کی دکان میں سیلز مین تھا اور اب اسی شہر کے علاقے باغ سرداراں میں اپنے بھائی کا کیبل کا کاروبار چلاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب دی نیوز نے فیصل سے پوچھا کہ آیا اس نے کبھی چینی کمپنی یاتب کو حلف نامہ دیا تھا کہ وہ کپیٹل انجینئرنگ کا سی ای او ہے اور یہ کہ اس کی کمپنی حقیقت میں پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف کی ملکیت ہے تو اس نے کہا کہ اس کے بھائی نے اس سے مختلف کاغذات پر دستخط لیے تھے لیکن اسے یاد نہیں ہے کہ اس نے کب ان پر دستخط کیے۔ مرکزی کردار جس نے سب سے پہلے کمپنی کپیٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کو ایس ای سی پی کے پاس شیخ اعجاز کی ہدایت پر رجسٹرڈ کرانے کی کوشش کی وہ عابد محمود ہے جو اس طرح کی رجسٹریشن کے لئے کنسلٹنٹ ہے۔ایس ای سی پی کی جانب سے کمپنی کے نام پر اعتراض اٹھانے کے بعد عابد نے شیخ اعجاز کو اس کے بارے میں مطلع کیا ، یہ شیخ اعجاز اور اس کے چینی پارٹنر کے لئے ایک بہت بڑی دھچکے کی خبر تھی کیونکہ ”کپیٹل انجینئرنگ “کے نام سے دستاویزات پہلے ہی چینی ریگولیٹر کے پاس جمع کرائی جاچکی تھیں۔بعد میں اس نام کو کپیٹل انجینئرنگ سے ”سی اے پی ایف اے کنسٹرکشن اینڈ انجینئرنگ (ایس ایم سی پرائیوٹ) لمیٹیڈ“ میں تبدیل کر دیا گیا اور کمپنی کامیابی سے اس نئے نام سے رجسٹرڈ ہوگئی۔ جب دی نیوز نے عابد سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ستمبر میں کسی وقت اعجاز شیخ کی ہدایت پر کپیٹل انجینئرنگ کی رجسٹریشن کے لئے درخواست دی تھی۔تاہم جب دی نیوز نے ان سے سی اے پی ایف اے کی رجسٹریشن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے صاف طور پر سی اے پی ایف اے رجسٹرڈ کرانے کی تردید کی اور دعوی کیا کہ انہوں نے ایس ای سی پی کی جانب سے کمپنی کو کپیٹل انجینئرنگ کے نام سے رجسٹرڈ کرنے سے انکار اور شیخ اعجاز سے اختلافات کے بعدخود کو اس سے الگ کر لیا تھا۔ لیکن ایس ای سی پی کا ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ سی اے پی ایف اے بھی عابد نے رجسٹرڈ کرائی تھی اور ایس ای سی پی کے ریکارڈز میں ان کے رابطے کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔جب دی نیوز نے عابد سے ایک مرتبہ پھر ان کے موقف کے لئے رابطہ کیا تو انہوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ”آپ جو کر سکتے ہیں کریں۔“ اب چینی کمپنی یاتب ٹیکنالوجی پرائیوٹ لمیٹیڈ کی جانب سے اس کے پاکستانی پارٹنر کپیٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی پرائیوٹ لمیٹیڈ کے بارے میں تخلیق کیا گیا معمہ حل ہوگیا ہے لیکن دو سوالات کا اب تک جواب نہیں ملا۔(1) اس پورے پلاٹ اور جعلی دستاویزات کو بنانے کا ماسٹر مائنڈ کون ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ پاکستان میں سے کس نے چین میں کچھ چینی شہریوں کو استعمال کرتے ہوئے یاتب کمپنی رجسٹرڈ کرائی تاکہ ایسی کسی سازش کے لئے مستقبل میں اس کو پاکستان میں استعمال کیا جاسکے؟ کچھ بیرونی ممالک سے اس کی رقم کی غیرمعمولی لین دین کا جواز پیش کرنے کے لئے یاتب نے دعوی کیا کہ اس نے ملتان میٹرو بس منصوبے میں اپنی پاکستانی پارٹنر کمپنی کے ذریعے بھاری منافع کمایا ہے اور اس کمپنی کو جعلی نام دیا جو کپیٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی پرائیوٹ لمیٹیڈ ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے چینیوں نے اس جعلی کمپنی کی جعلی دستاویزات چینی ریگولیٹر سی ایس آر سی کے پاس جمع کرائیں جبکہ ایس ای سی پی میں مذکورہ کمپنی کی رجسٹریشن کا خیال بعد میں آیا۔ سی ایس آر سی کے پاس کپیٹل انجینئرنگ کی کچھ جعلی دستاویزات جمع کرانے کے بعد یاتب کے مالکان نے اپنے پاکستانی پارٹنر کے ہمراہ پاکستان میں ایک مشاورتی فرم کی خدمات حاصل کیں تاکہ اس کمپنی کو پاکستان میں رجسٹرڈ کرایا جاسکے۔چینی کمپنی یابت کو اِس اسکینڈل (درحقیقت سیاسی حکومت کو نقصان پہنچانے کے منصوبے) میں اس وقت پہلا دھچکا برداشت کرنا پڑا جب سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) نے کیپیٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی کا رجسٹریشن اس کے نام پر کچھ اعتراضات کی وجہ سے مسترد کر دیا۔چینی حکام اپنے مقامی پارٹنرز اور کنسلٹنٹ پر دباﺅ ڈال رہے تھے کہ وہ صرف یہی نام (کیپیٹل انجینئرنگ) چاہتے ہیں اور ان کیلئے کوئی اور نام قابل قبول نہیں۔ دی نیوز کی تحقیقات ایک تصویر سے شروع ہوئیں جو یابت چائنا ویب سائٹ پر موجود تھی۔ اس تصویر میں تین چینی اور دو پاکستانیوں کو دکھایا گیا تھا اور تعارف پیش کیا گیا تھا کہ ایک پاکستانی وفد نے نومبر 2015 میں چین کا دورہ کیا تھا۔ایک پاکستانی شہری کا نام مسٹر طاہر شمشاد تھا جو فی الوقت نیسپاک پاکستان کے نائب صدر ہیں۔ دوسرے شخص کی شناخت اس وقت تک نہیں ہو پائی جب مسٹر شمشاد نے دی نیوز کے ساتھ ملاقات کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ دوسرے شخص کا نام ”اعجاز“ ہے۔ بعد میں یابت پاکستان کے ملازمین میں سے ایک نے اعجاز کی شناخت بطور ”اعجاز شیخ“ کی جو یابت پاکستان کا مالک ہے۔یابت چائنا کی ویب سائٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسٹر اعجاز، طاہر شمشاد کی قیادت میں آنے والے پاکستانی وفد کے رکن تھے۔ جبکہ طاہر شمشاد نے دی نیوز کو بتایا کہ مسٹر اعجاز نے ان سے رابطہ کرکے بتایا کہ وہ کسی چینی تنظیم کے نمائندے ہیں۔اس رپورٹر نے جب تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں یابت کے نام سے ایک کمپنی رجسٹرڈ ہے جو یابت چائنا کی سسٹر کمپنی ہے اور دو افراد کے نام پر رجسٹرڈ ہے جن کے نام ہیں مسٹر یونگ لو (پاسپورٹ نمبر جی 54324557) اور ایک پاکستان شخص مسٹر اعجاز اصغر (شناختی کارڈ نمبر 3-0611173-37405)۔ دونوں کو یابت پاکستان کا ڈائریکٹر بتایا گیا ہے اور کمپنی کے شیئرز میں ان کا حصہ 70-30 کا ہے جبکہ کمپنی کا ادا شدہ سرمایہ 10 ہزار روپے ہے۔ جب اس رپورٹر نے یابت پاکستان کے پاکستانی پارٹنر مسٹر اعجاز اصغر سے رابطہ کیا اور ان سے خصوصاً مسٹر فیصل سبحان اور ان سے براہِ راست وابستہ دیگر متعلقہ سوالات اور ان کے چینی پارٹنر کے متعلق سوالات پوچھے گئے تو مسٹر اعجاز نے اس رپورٹر سے اپنی کمپنی کے دفتر (بمقام پلاٹ نمبر 247، اسٹریٹ 6، سیکٹر آئی 9 بٹہ 2) میں ملاقات کا وعدہ کیا۔تاہم ان کے دفتر میں دو گھنٹے تک انتظار کرنے کے باوجود مسٹر اعجاز اصغر نہیں آئے اور اس نمائندے سے ملاقات نہیں کی۔ ان کا موبائل بھی بند تھا۔ ان کی کمپنی کے ملازمین نے اس نمائندے سے کہا کہ وہ آفس سے چلے جائیں اور اگر مسٹر اعجاز آئے تو وہ انہیں بتائیں گے کہ یہ نمائندہ ان سے ملنے کیلئے آیا تھا۔مسٹر اعجاز کی جانب سے موبائل بند رکھنے اور ملنے کا وعدہ کرنے کے باوجود ملاقات نہ کرنے کے بعد اس نمائندے نے ایک اور کمپنی کا دورہ کیا جہاں مسٹر اعجاز اصغر پارٹنر تھے۔اب یہ معاملہ ایف آئی اے کے پاس ہے اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں ان سوالوں کا جواب ڈھونڈیں گی جن کا جواب نہیں ملا تاکہ اس پورے منصوبے کے اصل مجرموں کو سزا مل سکے۔

مزید : اسلام آباد