پاک چین سٹرٹیجک تعلقات اور وزرائے خارجہ کے دورے

10 ستمبر 2018

پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ میں اتفاق ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے سٹرٹیجک تعلقات بڑھائے جائیں گے،دہشت گردی و غربت کے خاتمے، برآمدات میں اضافے، روزگار کی فراہمی اور فروغِ تعلیم کے لئے مشترکہ میکنزم بنایا جائے گا،چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ سی پیک کے قرضے بوجھ نہیں بنیں گے،پاکستان کی معیشت میں استحکام کے لئے مدد دیں گے، تمام منصوبے مکمل کریں گے،نئی حکومت کے ساتھ رابطے بڑھانے کے لئے آئے ہیں، چین اپنی خارجہ پالیسی کے مطابق پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا،چینی وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کو دورۂ چین کی دعوت بھی دی۔ دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) منصوبہ تیز رفتار ترقی کا باعث ہے، یہ منصوبہ نئی حکومت کی اولین ترجیح ہے، چین کے ساتھ تعلقات خارجہ پالیسی میں انتہائی اہم ہیں، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ چین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ پاکستان کی قربانیوں کو سراہا جائے، ہم اپنی سرزمین کسی مُلک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ مُلک میں چینی باشندوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا،دونوں وزرائے خارجہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔چینی وزیر خارجہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی۔

سعودی عرب کے وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عواد بن صالح السعواد بھی چینی وزیر خارجہ کی موجودگی میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے وفاقی وزراء اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں سعودی فرمانروا کی طرف سے امن واستحکام کے لئے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی،اِس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بھی پاکستان کا دورہ کر کے واپس جا چکے ہیں،5ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو اپنے مُلک کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈنفورڈ کے ہمراہ پاکستان کا مختصر دورہ کر کے واپس جا چکے ہیں، مزید وزرائے خارجہ کے دورے بھی متوقع ہیں،اِن دوروں کے دوران ملکوں کا نقطہ نظر جاننے کے بعد نئی حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال تشکیل دینے میںآسانی رہے گی۔

امریکی وفد کے دورہ کو تو افغانستان کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، امریکہ آج کل اِس کوشش میں ہے کہ افغان طالبان کسی طرح مذاکرات کی میز پر آ جائیں اور ان مذاکرات میں کوئی ایسا راستہ نکالنے میں کامیابی ہو جائے،جس کے ذریعے امریکہ افغانستان کی سترہ سالہ جنگ سے جان چھڑا لے،جو اب امریکی معیشت کو بھی متاثر کرنے لگی ہے اور رائے عامہ بھی اِس جنگ کی طوالت سے اُکتا گئی ہے۔صدر ٹرمپ نے اگرچہ اِس سال کے شروع میں اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے دھمکی آمیز لب و لہجے میں افغانوں سے کہا تھا کہ وہ اب یہ مسئلہ قوت کے زور پر حل کریں گے اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کی تاریخ کا تعین نہیں کیا جا سکتا،اس سے وہ یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ امریکی فوج غیر معینہ مدت کے لئے افغانستان میں رہے گی۔امریکہ نے بھارت کو بھی کردار دے کر دیکھ لیاہے،لیکن بالآخر وہ اِس نتیجے پر پہنچا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے بغیر مسئلہ افغانستان کا حل نکلتا نظر آتا۔یہی وجہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے دورے کے دوران یہ عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔

ایران کے وزیر خارجہ کا دورہ بھی اِس لحاظ سے اہمیت کا حامل تھا کہ اسے دوبارہ امریکی پابندیوں کا سامنا ہے اِس سے پہلے ایران پر طویل عرصے تک جو پابندیاں عائد رہیں اُس نے ایران کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ پابندیاں نیو کلیئر ڈیل کے بعد ختم ہوئی تھیں اور معیشت کی بحالی کی جانب قدم اٹھنے ہی لگے تھے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں لگا دیں۔ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کا مقصد اِن پابندیوں کے اثرات سے کچھ نہ کچھ ریلیف حاصل کرنا بھی تھا اور ایران،پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن بچھانے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا ہو گا، کیونکہ ایران کے لئے یہ منصوبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، پائپ لائن کا ایرانی حصہ مکمل کر لیا گیا ہے اور اگر پاکستان کے علاقے میں یہ پائپ لائن مکمل ہو جائے تو گیس کی سپلائی شروع ہو سکتی ہے، اس وقت تک اس پراجیکٹ پر ایرانی سرمایہ کاری منجمد رہے گی، پاکستان نے ایرانی اور سعودی عرب کے تعلقات کی بہتری کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں،جو اب تک باوجود کوششوں کے کشیدہ ہیں، بلکہ خطے کے دوسرے ممالک بھی اس کے اثرات کی زد میں ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کے بعد سعودی وزیر اطلاعات کی آمد سے پاکستان نے اپنی خدمات تعلقات کی بہتری کے لئے سعودی عرب کو بھی پیش کی ہوں گی، اِس سے پہلے عمران خان کے اقتدار سنبھالتے ہی سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اُن سے فون پر بات کی اور توقع ہے وزیراعظم عمران خان جلد ہی سعودی عرب کا دورہ بھی کریں گے، ان دوروں کے نتیجے میں توقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تعلقات کی تجدید نو ہو گی اور اگر پاکستان کی کوششوں سے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک خوش آئند بات ہو گی۔

چین کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان کے لئے خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور اس دورے کے نتیجے میں دونوں ممالک نے سی پیک کی اہمیت کو دوبارہ اُجاگر کیا ہے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برملا کہا ہے کہ اِس منصوبے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو ترقی ملی ہے۔چینی وزیر خارجہ نے اِس منصوبے کے حوالے سے چینی قرضوں کا خصوصی تذکرہ ضروری سمجھا، کیونکہ پاکستان کے اندر اور باہر بعض حلقے اِن منصوبوں اور قرضوں کے متعلق منفی پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں اور پچھلے دِنوں جب آئی ایم ایف سے نئے قرضے کی بات زیر بحث تھی تو امریکہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف کا قرضہ چینی قرضوں کی واپسی کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔یہ ایک طرح سے پیشگی انتباہ تھا اور پھر اِس بات کو لے کر آگے بڑھایا گیا کہ چینی قرضے سخت شرائط پر لئے گئے ہیں، اِس لئے چینی وزیر خارجہ کو خصوصی طور پر یہ وضاحت کرنا پڑی کہ یہ قرضے پاکستان پر بوجھ نہیں بنیں گے، دراصل قرضہ وہی بوجھ بنتا ہے،جو پیداواری مقاصد پر پورا نہ اُترتا ہو، جس قرضے سے ایسے پراجیکٹ تکمیل پائیں جن سے کسی بھی قسم کی پیداوار میں اضافہ ہو تو قرضہ معیشت میں بہتری لانے کا باعث بنتا ہے۔البتہ غیر پیداواری قرضے ہمیشہ منفی اثرات پیدا کرتے ہیں، لیکن چینی قرضوں سے جو منصوبے مکمل ہو چکے ہیں وہ تو پہلے ہی قومی معیشت میں اپنا حصہ ادا کر رہے ہیں،انرجی سیکٹر کے منصوبے خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں،اب چینی وزیر خارجہ کی وضاحت سے متعلقہ حلقوں کو اطمینان ہو جانا چاہئے۔ سی پیک کے منصوبے اگر بروقت مکمل ہو جائیں تو معیشت ٹیک آف کی پوزیشن میں آجائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت جیسے مُلک اس کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں اور امریکہ کو بھی اِس ضمن میں غلط معلومات دے کر گمراہ کیا جاتا ہے۔ پاک چین سٹرٹیجک تعلقات تو نئی بلندیوں کی طرف گامزن ہیں اور امریکی فوجی امداد بند ہونے کے بعد چین کے ساتھ اس نوعیت کے سٹرٹیجک تعلقات کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔توقع ہے کہ دوست ممالک کے وزرائے خارجہ کے دوروں کے بعد خارجہ پالیسی کے نئے خدوخال جلد ہی اُبھر کر سامنے آ جائیں گے۔

مزیدخبریں