پاک بھارت تعلقات؟

پاک بھارت تعلقات؟

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے خیال ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کے عوام بھی بھارت کے ساتھ دوستی اور اچھے تعلقات چاہتے ہیں،اس حوالے سے حکومت کو فوج کی حمائت حاصل ہے، حکومت نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا،لیکن بھارت کی طرف سے جواب نہیںآیا،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت سکھوں کے لئے کرتار پور کا بارڈر بھی کھولنے کی تیاری کر رہی ہے۔دوسری طرف سے سابق کرکٹر اور پنجاب میں کانگریسی حکومت کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پاکستان نے ایک قدم بڑھایا تو بھارت بھی دو قدم بڑھائے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن اور دوستی سے عوام کے مسائل حل ہوں گے۔فواد چودھری اور نوجوت سنگھ سدھو کے خیالات،اظہار اور جذبات اپنی جگہ بہتر اور اچھے ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ بھارت پر بی جے پی حکمران ہے اور بھارت میں ریاستی انتخابات وقفے وقفے سے ہوتے رہتے ہیں،اب تو اگلے برس لوک سبھا کے انتخابات بھی ہونے والے ہیں،بی جے پی نے انتہا پسندی سے مُلک بھر میں پاکستان مخالف ہی نہیں،اسلام اور مسلمان ممالک دشمن فضا بھی بنا رکھی ہے اور اسی دشمنی اور تعصب کی بنا پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی جاتی ہے۔ اگرچہ بھارت کی کانگرس سمیت دوسری جماعتیں بھی پاکستان کی خیر خواہ نہیں،لیکن ان کی پالیسی شدید تعصبانہ اور دشمنی کی حد تک نہیں جاتی،اِس لئے بی جے پی کے ہوتے ہوئے پاک بھارت تعلقات میں دوستی اور مفاہمت مشکل امر ہے۔اِسی طرح کرتار پور کا بارڈر سکھوں کے لئے کھولنے کا مسئلہ بھی بھارت کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں کہ یہ دوطرفہ مسئلہ ہے۔اگر پاکستان رضا مند ہے، بھارت نہ ہو تو یہ مسئلہ بھی حل نہیں ہو گا،اِس لئے بہتر ہو گا کہ اِس حوالے سے وزارتِ خارجہ سے قابلِ عمل پالیسی بنوائی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ