افغانستان،امن اور استحکام؟

10 ستمبر 2018

رانا اکرام ربانی سابق صوبائی وزیر پنجاب

اگرچہ اعلانیہ فائر بندی نہیں ہے،لیکن امید کی جاتی ہے کہ بالآخر افغانستان میں امن قائم کرنے اور قائم رکھنے کا عمل جاری رہے گا۔توقع تھی کہ عیدالفطر کی طرح عیدالاضحی پربھی اعلانیہ فائر بندی ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔افغانستان کے صدر اشرف غنی کی طرف سے اشارے دیئے جاتے رہے کہ اگر طالبان کی طرف سے اِس خواہش کا اظہار ہوا کہ عیدالاضحی پر بھی فائر بندی ہو جائے تو افغانستان کی حکومت(جو صرف کابل میں ہی موجود ہے)اس کا احترام کرے گی،لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہ دیا تو اشرف غنی نے باقاعدہ پیشکش کر دی، لیکن طالبان کی طرف سے خاموشی ہی رہی، بلکہ غزنی پر بھرپور راکٹ حملہ ہوا،غزنی پر قبضے کے لئے بھرپور جنگ ہوئی (پاکستان پر بھی الزام آیا کہ اِس حملے میں زخمی ہونے والے طالبان کو علاج کے لئے کوئٹہ لایا گیا تھا) طالبان نے ایسا کیوں کیا؟اِس سے کیا پیغام دینا مطلوب تھا؟۔۔۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی وجوہات

*اول: طالبان سمجھتے ہیں کہ عیدالفطر کے بعد دوسرا وقفہ شائد اُن کی کمزوری سمجھا جائے گا۔ ویسے بھی اگست میں طالبان کا انداز ہمیشہ بہت جارحانہ ہوتا رہا ہے، غزنی کے علاوہ صدارتی محل پر بھی راکٹ حملہ کیا گیا،جس نے پوری دُنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی،لیکن طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی،لیکن داعش(کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم امریکی حمایت اور تربیت یافتہ ہے اور انہیں اسلحہ بھی امریکی مہیا کرتے ہیں اور وہ امریکی ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں۔( یہ الزام افغانستان کے سابق صدر نے عائد کیا ہے)۔۔۔ یاد رہے کہ عیدالفطر پر فائر بندی میں داعش شامل نہیں تھی اور انہوں نے اس وقفہ میں بھی حملے کئے تھے۔اس فائر بندی کا افغانستان کے عام شہریوں میں بڑا مثبت ردعمل تھا۔
دوم: طالبان کے قائدین کے مطابق وہ فائر بندی بھی نہیں ہونی چاہئے تھی،کیونکہ اس دوران طالبان جنگجو،افغان فوجی اور عام شہری مل کر عید کی خوشیاں منا رہے تھے،جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید طالبان کی صفوں میں بھی انتشار اور اختلاف رائے کی صورت پیدا ہو رہی ہے کہ اب جنگ بند کر دینی چاہئے۔اس تاثر کو دور کرنے کے لئے طالبان کمانڈروں نے طالبان سے یہ میل جول بند کر کے شہروں سے واپس آنے کا حکم دیا اور وہ دوبارہ ایسی صورتِ حال اور تاثر پیدا کرنے یا پیدا ہونے کے خلاف تھے۔ طالبان کی اس خاموشی اور پالیسی نے کابل حکومت کو خاصا مایوس کیا ہے۔


سوم: طالبان کا یہ ’’ردعمل یا فیصلہ‘‘ اس لئے بھی ہو سکتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقفے سے یا تاثر پیدا ہو گا کہ اشرف غنی کی حکومت مستحکم ہے،کیونکہ اکثر ایسے فیصلے برابری کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے،کیونکہ وہ اشرف غنی کو امریکہ کی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں۔ عیدالفطر کے دوران وقفے کو بھی وہ کہتے ہیں کہ یہ اشرف غنی کی اپیل پر نہیں کیا تھا،بلکہ یہ فیصلہ عام افغان شہریوں کو پریشانی سے محفوظ رکھنے کے لئے کیا تھا، اِسی لئے اِس بار اشرف غنی نے اشارہ تو دیا،لیکن واضح طور پر فائر بندی کا عندیہ نہیں دیا اور سمجھتا رہا کہ طالبان کی طرف سے پہل کی جائے تاکہ وہ کہہ سکے کہ اُس نے فائر بندی طالبان کی طرف سے اپیل کے جواب میں منظور کی ہے، لیکن طالبان نے اسے یہ ایڈوانٹیج نہیں لینے دیا۔


اِن سب وجوہات کے باوجود، بظاہر ماحول نہ ہونے کے باوجود ’’پردے کے پیچھے‘‘ کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے،جس سے افغانستان میں امن اور استحکام کے امکانات اور امید دم نہیں توڑ رہی،بلکہ بندھ رہی ہے کہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح،کسی نہ کسی حوالے سے امریکہ اور طالبان کے دوران مذاکرات ہوتے ہیں۔پچھلے چھ ماہ کے دوران حملوں، جنگ، راکٹ حملے کے باوجود امن کی باتیں ہوتی رہی ہیں۔امن کی خواہش کا اظہار ہوتا رہا ہے۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ روس بھی کوشش کر رہا ہے کہ اشرف غنی اور طالبان قیادت کو ماسکو آنے کی دعوت دی جائے۔ روس کے وزیر خارجہ نے اس کا اظہار بھی کر دیا ہے، طالبان کی طرف سے اس کی تردیدسامنے نہیں آئی کہ وہ اشرف غنی سے مذاکرات کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی اشرف غنی کی طرف سے کہا گیا کہ یہ محض افواہ ہے۔

روس کی یہ پیش رفت ضروری نہیں کہ اس نیت سے ہو کہ افغانستان میں امن اور سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہو سکے،بلکہ اس کا ارادہ ہو کہ وہ ایسے علاقائی تنازعہ میں شامل ہو کر امریکہ کے لئے پریشانی اور سر درد کا باعث بن سکے، لیکن اس سارے پس منظر میں مثبت پہلو یہ ہے کہ افغانستان کے تمام پڑوسی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن اور سیاسی استحکام پیدا ہو جائے۔چین کے بارے میں غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وہ افغان فوجیوں کی تربیت کے لئے امداد دینے پر آمادہ ہے اور اِس مسئلے پر کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے اور کسی ذریعے سے طالبان کو بھی مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے آمادہ کر رہے ہیں۔لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ طے شدہ ہے کہ ’’ہنوز امن دور است‘‘ جنوبی ایشیا،وسط ایشیا، یورپ حتیٰ کہ لاطینی امریکہ میں بھی خواہش اور کوشش کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ سال2018ء میں افغانستان میں امن اور سیاسی استحکام کی طرف پیش رفت ممکن ہو گی۔

مزیدخبریں