جناب چیف جسٹس! آپ نے سچ کہا

10 ستمبر 2018

تنویر صادق

کچھ دن پہلے لاہور میں پنجاب جوڈیشیل اکیڈمی میں ٹرائل ججز کے لئے افتتاحی پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثارنے عدلیہ کے حوالے سے بہت سی باتیں کیں۔ انہوں نے کہا ،’’ عدالتی نظام میں تبدیلی بتدریج آتی ہے اور اس نظام میں تبدیلی کے لئے بہت سی اصلاحات کرنا بہت ضروری ہے۔عدالتی نظام کسی ہسپتال کی طرح نہیں کہ مریض کی آمد پر علاج شروع کر دیا جائے۔ اس نظام میں دونوں فریقوں کو سنے بغیر انصاف نہیں کیا جاسکتا۔جب تک قوانین کو موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق نہیں ڈھالا جاتااور فرسودہ قوانین کو تبدیل نہیں کیا جاتا، مقدمہ بازی ختم نہیں ہو سکتی۔آج بھی ہم زمین کے انتقال کے لئے پٹواری کے مرہون منت ہیں۔بنیادی تبدیلیوں کے بغیر ہم ضابطے کے موجودہ قوانین کو جتنا مرضی بدل لیں تیز ترین انصاف کا حصول ممکن ہی نہیں۔یہاں بعض اوقات موروثی سرٹیفیکیٹ کے حصول کے لئے پانچ سال خرچ ہو جاتے ہیں۔موجودہ حالات میں قانون کی تبدیلی کے باوجود ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے‘‘۔

جناب چیف جسٹس! یہ بہت اچھی بات ہے کہ ایک چیف جسٹس عدالتی نظام کی خامیوں کو خود محسوس کرتا ہے اور ان خامیوں کو دورکرنے کا خواہاں ہے۔ہر شخص کی طرح مجھے بھی کبھی نہ کبھی عدالتوں سے واسطہ رہا ہے۔ قوانین بہت پرانے سہی۔ مگر ججوں کا سننے کا انداز بھی بڑاپرانا اور عجیب ہے۔ وہ کیس جس کا فیصلہ ایک یا دو بار سننے کے بعد آسانی سے ممکن ہوتا ہے اسے نہ جانے کیوں لٹکایا جاتا ہے ۔ جج حضرات جب تک آٹھ دس تاریخیں نہ دے دیں ، کیس سننے کو تیار ہی نہیں ہوتے، شاید یہ اس کمزور نظام کا تقاضا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وکلا اور فریقین بھی بہت سے کیسوں کو لٹکانے میں دلچسپی لے رہے ہوتے ہیں مگر میں نے دیکھا ہے کہ دونوں فریق ،مع اپنے وکلا کورٹ میں موجود ،کیس کو نپٹانے کے خواستگار ہوتے ہیں مگر جج صاحب کے انکار کے باعث مایوس لوٹ جاتے ہیں۔ ہائی کورٹ میں جج صاحب تو تاریخ بھی ڈیڑھ دو ماہ کی دیتے ہیں، صرف چھ یا سات تاریخوں میں سال بیت جاتاہے۔ ایک خاص بات ،میرے جیسے عام آدمی کو یہ سمجھ بھی آج تک نہیں آئی کہ الیٹ کلاس کے کیس یا بہت سینئر وکلا، جن کی فیس عام آدمی کے بس میں نہیں ہوتی، کے کیس کیسے دنوں میں سنے بھی جاتے ہیں اور ان پر فیصلہ بھی ہو جاتا ہے۔یہ نظام کی سب سے بڑی خامی ہے۔ ایک تو ججوں کو بتایا جائے کہ جس کیس کا فیصلہ فوری ہو سکتا ہے فوراً کریں، تاریخوں کا وقفہ ایک ہفتے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیو (Q)سب کے لئے اور ہر حال میں ایک جیسی ہونی چاہیے۔ الیٹ اور سینئر وکلا کے کیسز کو جلدی سنے جانے کا تاثرختم ہونا بہت ضروری ہے۔

جناب چیف جسٹس نے تسلیم کیا کہ بہت ساری مقدمہ بازی بڑھانے میں ججز کا ہاتھ ہے اور کہا’’کتنے جج ہیں جو پڑھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔جج حضرات کو قانون پر عبور حاصل کرنا ہو گا۔ جس دن جج حضرات قانون پر عبور حاصل کر لیں گے انصاف ہونا شروع ہو جائے گا۔انصاف کرنے والوں کوپتہ ہونا چائیے کہ یہ کوئی معمولی نوکری نہیں ، انہیں اپنا کام عبادت، مغفرت اور نجات کا ذریعہ سمجھ کر کرنا ہو گا۔ جج اپنے اندر فوری انصاف کا جذبہ پیدا کرلیں اپنا کام رزق اور عبادت سمجھ کر کریں،انہیں پھل ملے گا‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’ کتنے جج ہیں جو قانون کو پڑھ کر اس کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ججز کا فرض ہے کہ قانون کے مطابق ٹھیک فیصلے کریں اور اگر غلطی ہو جائے تو خود ہی اسے ٹھیک کریں۔ انہیں اپنے فیصلے کو ریویو کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہونی چائیے‘‘۔

جناب چیف جسٹس صاحب! یہ ٹھیک ہے کہ مقدمہ بازی بڑھانے میں کچھ ججز کا بھی ہاتھ ہے۔ کچھ ججز کیس کا مطالعہ ہی نہیں کرتے۔ فیصلہ مکمل نہیں لکھتے۔ فیصلے میں ایسی خامیاں چھوڑ دیتے ہیں کہ سائل با ر بار اپیل میں جاتا ہے ۔ سائل بھی خراب ہوتا ہے اور عدالت کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔ لیکن مقدمہ بازی بڑھانے میں صرف جج ہی قصور وار نہیں اور بھی بہت سے عوامل ہیں۔ وکلا کا ایک مخصوص گروہ پیسے کمانے کے چکر میں ہر غلط کیس بھی عدالت میں لے آتا ہے یہ لوگ اپنی مرضی کے فیصلے کے لئے ججوں کو پریشان بھی کرتے ہیں۔ سینئر جج اور سینئر وکلا کوشش کے باوجود وکلا کے اس گروپ پر ابھی تک قابو نہیں پا سکے۔ ملتان کا واقعہ آپ کے سامنے ہے جو صورت حال تھی وہ آپ کی ذاتی مداخلت اور حکمت عملی سے مشکل سے حل ہوئی۔اس سلسلے میں بار پر کچھ ذمہ داری ہے جس پر بار کے ارکان پوری طرح توجہ نہیں دے رہے۔ مقدموں کے فریقین میں بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں جو کیس ہی خلق خدا کو خراب کرنے کے لئے کرتے ہیں ۔ان کا فائدہ اسی میں ہوتا ہے کہ کیس جتنا لٹک سکتا ہے لٹک جائے ۔ایسے لوگوں کے سد باب کے لئے کسی نے آج تک کچھ نہیں کیا۔ غلط کیس کرنے والوں کا کسی طرح کا کوئی احتساب نہیں۔ ان حالات میں ججز کی بجائے سسٹم کو قصور وار ٹھہرانا زیادہ موزوں ہے۔

جناب چیف جسٹس کہتے ہیں’’ پاکستان دھرتی ماں ہے اور ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا کہ ہم نے آج تک اپنی ماں کی کیا خدمت کی۔ پاکستان کے بغیر ہم کچھ نہیں۔یہ ملک ہمیں کسی نے تحفے میں نہیں دیا بلکہ بہت جدوجہد سے ملا ہے۔ یہ بہت سی قربانیوں سے حاصل ہوا ہے۔ہم نے ایک جگہ جم کر نہیں رہنا بلکہ آگے بڑھنا ہے۔ ہم کرپشن، بد دیانتی ، ذاتی مفادات اور بنک بیلنس بڑھانے میں لگے رہے۔آج ہر پیدا ہونے والا بچہ ایک لاکھ سترہزار روپے کا مقروض ہے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لئے قربانی دیں اور اپنے اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں‘‘۔ جناب ثاقب نثار نے کہا کہ میں نے بہت سے شعبوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے لیکن میں شاید وہ سب کچھ نہیں کر سکا جو کرنا چاہتا تھا۔

جناب چیف جسٹس! اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے شعبوں میں آپ حسب منشا تبدیلی نہیں لا سکے۔ لیکن آپ کی کاوش کے بہت سے مثبت اثرات عام آدمی محسوس کرتا ہے۔ آ پکے پاس درخواست لے کر آنا تو بڑی بات ، جن لوگوں کے کام نہیں ہوتے وہ متعلقہ محکمے کے لوگوں کو آپ کے نام سے دھمکا بھی دیں تو بہت سے کام ہو جاتے ہیں۔یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔لیکن جو لوگ رشوت دینے اور لینے کے عادی ہیں ان کا کیا حل ہے یہ سمجھ نہیں آتا۔ میں لاہور کا باسی ہوں۔ لاہور میں آپ پولیس کے کسی دفتر چلے جائیں ، ایل ڈی اے کے دفاتر چلے جائیں اور ایسے بہت سے دفاتر ہیں جہاں دیکھیں کہ رشوت دینے والا بڑی دلیری اور اپنی مرضی سے رشوت دیتا ہے اور لینے والا بڑی خوشی سے وہ حرام قبول کرتا ہے۔ آدمی کیا کرے جب لوگوں کے نزدیک حرام اور حلال میں کوئی فرق نہ ہو۔ جب لوگ جائز اور ناجائز کو ایک ہی بات سمجھیں۔جب اخلاقی قدریں مالی قدروں کے مقابلے میں بے آسرا نظر آئیں۔لوگوں کو احساس زیاں کیا، احساس اور زیاں کی وقعت کا بھی پتہ نہ ہو۔ ذہن مردہ ، ضمیر مردہ۔ زندہ لوگ کیسے ہوتے ہیں کوئی انہیں بتاتا ہی نہیں اور اگر کوئی میرے جیسا بتائے بھی تو پاگل سمجھا جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں تعلیمی نظام میں بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

جناب چیف جسٹس آپ کہتے ہیں،’’ پاکستان میں مستقبل میں پانی کی قلت اتنی شدید ہو گی کہ ہماری بقامشکل میں پڑ جائے گی۔ پاکستان کو ویسے نہیں کمزور کیا جا سکتا لیکن پانی کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یہ ایک بین الاقوامی سازش ہے ۔ پانی کا مسئلہ مجرمانہ غفلت ہے۔ پانی کا مسئلہ متعلقہ اداروں کی نا اہلی کے باعث ہوا۔ اب ہم سب کو ڈیموں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ میں پانی کے معاملے میں جذبے سے کام کر رہا ہوں ۔ یہ ہمارے بچوں کا ہم پر قرض ہے‘‘۔جناب چیف جسٹس!پانی کا مسئلہ یقینی بہت اہم ہے اور یہ انتہائی قابل ستائش ہے کہ آ پ نے اپنے حصے کا چراغ جلا دیا ہے۔ لیکن یہ کام اصل میں ہمارے سیاستدانوں کا ہے اوراس مسئلے کی بنیادی وجہ سیاستدانوں کی مجرمانہ غفلت ہے۔ امید ہے نئے آنے والے سیاستدان اس بات کی اہمیت کو محسوس کریں گے اور آپ کے مشن کو پایہ تکمیل تک لے جانے کے لئے دیانتداری سے کام کریں گے۔؂لیکن ماضی میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کو شکنجے میں لانا آپ کا کام ہے۔ یہ کام کر دیجئے تاکہ آئندہ آنے والے سبق سیکھ لیں۔

چیف جسٹس صاحب بہت سچ کہا آپ نے کہ آپ عدلیہ میں جو بہتری لانا چاہتے تھے وہ نہیں لا سکے۔ خدارا اس پر تھوڑی سی توجہ دیں۔کوئی دوسری چیز معاشرے پر اتنی زیادہ اثر انداز نہیں ہو سکتی جتنی ایک اچھی اور فعال عدلیہ۔ اﷲبڑا کارساز ہے۔ کسی بھی چیز کی ابتدا مشکل ہوتی ہے۔ آپ ڈٹ کر کچھ مزید اصلاحات کی ابتدا کر دیں۔امید ہے آپ کے بعد آنے والے آپ کے ساتھی اس مشن کو جاری رکھیں گے۔ میں ایک استاد ہوں اور ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو خود بھی طالب علم ہو۔ جو سکھانے کے ساتھ ساتھ ہر وقت سیکھنا بھی چاہتا ہو۔ علم کتابیں پڑھنا نہیں۔علم ایک طرز زندگی ہے۔میرے نزدیک کوئی چیز دیکھنے کے بعد اگر آپ کا فہم اسے جاننے اورسمجھنے پر مائل ہو تو آپ تعلیم یافتہ ہیں۔ کچھ کالم نویسی کے حوالے سے لوگوں کے مسائل کی نشاندہی اور کچھ ذاتی آلام ،عدالتوں کے بارے سوچنے اور غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔میں نے جو چند چیزیں محسوس کی ہیں ، آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں ۔

ججوں کی سلیکشن کا کوئی معتبر معیار نہیں۔ اس سلیکشن کو بہت معتبر کرنا اس لئے ضروری ہے کہ ماضی میں ،میں نے بہت سے ایسے جج بھی دیکھے ہیں جو کامن سنس استعمال کرنے میں بھی بخل سے کام لیتے رہے ہیں۔ عموماً ایسے جج ایک سال ایڈہاک کام کرتے ہیں، اس دوران ان کی حقیقت اعلیٰ عدلیہ پر منکشف ہو جاتی ہے مگر ان کو مطلوبہ ٹارگٹ حاصل ہو چکا ہوتا ہے اور پھروہ ساری عمر سابق جج کی حیثیت سے شاندار پریکٹس کرتے ہیں۔ ویسے بھی جو شکایت آپ کو آج محسوس ہوتی ہیں ان کا ازالہ معتبر سلیکشن کے سوا کچھ نہیں۔مجھے ذاتی بھی اور دوست وکلا کے مقدمات کے حوالے سے بھی تجربہ ہے۔ وہ جج جو سلیکشن سے پہلے سرکاری وکیل کی حیثیت سے ایڈووکیٹ جنرل یا ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر کام کر چکے ہوتے ہیں ان کا ایک خاص مائنڈ سیٹ ہوتا ہے۔ وہ ساری عمر حکومت کا دفاع کرتے رہنے کی وجہ سے حکومت کے خلاف کچھ سننا اور کوئی فیصلہ خلاف کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے حالانکہ خلق خدا سب سے زیادہ سرکاری محکموں سے ہی نالاں ہوتی ہے۔ ایسے ججوں کا مائنڈ سیٹ بدلنے کے لئے ان کی خصوصی تربیت درکار ہے۔ججوں کے دوست اور بہتر واقف ججوں کے حوالے دے کر اس واقفیت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اس وبا کی روک تھام بھی ضروری ہے۔بہت سارے جج فیصلہ دیتے وقت کچھ ڈر محسوس کرتے ہیں ۔ یہ ڈر کیوں ہے اور کس لئے ہے یہ مجھے کبھی سمجھ نہیںآیا۔ جج کو سوائے رب العزت کے ڈر کے کسی ڈر کو کسی صورت قبول نہیں کرنا چائیے۔وہ جج جو اﷲکے سوا کسی اور ڈر میں مبتلا ہے جج رہنے کے قابل نہیں ہوتا۔

مجھے ذاتی تجربہ ہے ۔ میرا ایک کیس 2007 میں بہت سے دوسرے کیسوں کے ساتھ منظور ہو گیا۔ جانے کیوں مجاز افسر نے اطلاعاً سارے کیس چیف منسٹر کو بھجوا دئیے۔ درمیان میں ایک دوسرے افسر، جو میرے یونیورسٹی فیلو اور جان پہچان والے تھے، نے میرا نام دیکھ کر میری فائل اپنے دراز میں رکھ لی۔ 2009 میں ،میں تنگ آ کر داد رسی کے لئے ہائی کورٹ پہنچ گیا۔ میرے سات سال ضائع ہوئے اور 2016 میں فیصلہ میرے حق میں ہو گیا۔ فیصلہ سناتے وقت جج صاحب نے زبانی کہا کہ مجاز افسر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے یہ چیف منسٹر کو بھیجنا بڑا عجیب ہے یہ تو ایسے ہی ہے کہ میں کوئی فیصلہ لکھوں اور چیف جسٹس کو بھیج دوں کہ فیصلہ دینے کی اجازت ہے۔ہائی کورٹ کافیصلہ محکمے کو مل گیا۔ کیس پروسس ہوا ۔ سب نے لکھا کہ یہ 2007 کا فیصلہ شدہ کیس ہے فائنل آرڈردے دئیے جائیں،مجازافسر نے کھلم کھلا کہا کہ کورٹ کا آرڈر اپنی جگہ مگر میں چیف منسٹر صاحب کی اجازت کے بغیر کچھ بھی کرنے سے لاچار ہوں۔ اس کے اندر چیف منسٹر کااس قدر ڈر تھا کہ اس نے سپریم کورٹ کے 2013 کے فیصلے کا حوالہ دے کر ہائی کورٹ کے فیصلے کو ٹرخا دیا۔ میں دوبارہ ہائی کورٹ اپیل لے کر آ گیا۔ہائی کورٹ کے جج صاحب ،جو کیس سن رہے تھے، کی وکلا میں اچھی شہرت ہے مگر انہیں سپریم کورٹ کا ڈر تھا۔ اس ڈر کی وجہ سے انہوں نے ہمیں ایک لال بتی کااسیر کردیا۔جج صاحب نے کہا کوئی ایسی نوٹیفیکیشن لے کر آؤجس میں لکھا ہو کہ یہ نوٹیفیکیشن 2013 سے پہلے طے شدہ فیصلوں پر نافذ نہیں ہوتا۔ بہت سے کیسوں کے حوالے دئیے مگر ڈر کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔ آپ کی جرات مند اورمشکلوں سے نپٹنے کی عادت ججوں کے لئے تقویت کا باعث ہونی چائیے نہ کہ ڈر کا۔

کسی کے سامنے اس کے بارے سچ کہنا دشوار ہوتا ہے مگر کوئی آپ کا حقیقی خیر خواہ آپ سے سچ چھپاتا ہے تو دشمنی کرتا ہے۔ اسے سچ کا اظہار ضرور کرنا چائیے، اس چیز سے بے نیاز ہو کر کہ اب اس کے مقدر میں شعلے ہیں کہ پھول ۔ میں پنتالیس (45)سال سے پڑھا رہا ہوں۔ اساتذہ کی ہر دور میں بھرپور نمائندگی کی ہے۔ 1999 میں سپریم کورٹ کے حکم سے بحیثیت تنویر صادق پنجاب حکومت کے نہ چاہنے کے باوجود بہت سی پالیسی میکنگ کمیٹیوں کا ممبر رہا ہوں۔میں اساتذہ نمائندے کے طور پر ہمیشہ انتظامی افسروں سے کہتا تھا کہ کوئی ماتحت کام نہیں کرتا یا کسی مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوتا ہے۔ اسے علیحدگی میں اپنے پاس بلائیں۔ اسے وہاں پھانسی پر لٹکا دیں ، میں پھندا ڈالنے اور رسہ باندھنے میں آپ کامدد گار ہونگا۔ آپ کو اپنے قلم کی طاقت کا اگر اندازہ ہے تو اسے استعمال کریں، کسی کو سزا دینے کے لئے قلم سے خطرناک کوئی ہتھیار نہیں۔مگر عوام میں کچھ نہ کہیں۔ عوام میں اس شخص کا تاثر تو یقیناً برا ہو گا مگر آپ اور آپ کے پیشے کے وقار پر بھی حرف آئے گا۔ آپ کی کاوشیں اور محنتیں یقیناًانتہائی ستائش کے قابل ہیں اوراس ملک کے سب درد مند اہل علم اور اہل قلم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں !

مزیدخبریں