ایک اور بھارت۔ امریکہ دفاعی معاہدہ!

10 ستمبر 2018

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

میرے سامنے 8ستمبر 2018ء کا ’’دی نیویارک ٹائمز‘‘ کھلا ہوا ہے۔ یہ اخبار پاکستان میں ’’دی ٹریبون‘‘ کے ہمراہ روزانہ شائع ہوتا ہے۔ یعنی ایک ٹکٹ میں دو مزے ملتے ہیں۔ البتہ اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اور ہفتہ کے روز اس کا جو ایڈیشن پاکستان میں شائع ہوتا ہے اس میں اتوار کا پرچہ بھی شامل ہوتا ہے۔ 8ستمبر کے اسی اخبار کے صفحہ 14پر ایک آرٹیکل شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے: ’’کیا میں اپنے بڑے بھائی کو اپنی ولدیت کا سچ بتا سکتا ہوں؟‘‘۔۔۔ یہ عنوان دیکھ کر میں چونکا کہ دیکھوں یہ ’’امریکی سچ پُتّر‘‘ کون ہے۔ لیکن اس کے نام کے سامنے لکھا ہوا تھا: ’’ہم عمداً لکھنے والے کا نام شائع نہیں کر رہے‘‘۔

۔۔۔ذرا دیکھئے اس آرٹیکل کا آغاز کیسے ہوتا ہے:’’میری عمر 45سال ہے اور میں امریکہ میں رہتا ہوں۔ میرا بھائی مجھ سے دو سال بڑا ہے اور وہ آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اپنی والدہ سے زیادہ میل جول نہیں رکھتا۔ ان کی عمر 86برس ہو چکی ہے اور وہ لندن میں مقیم ہیں۔ ہمارا والد 1985ء میں انتقال کر گیا تھا۔ ہم دونوں بھائی والدہ کی بجائے والد کے زیادہ قریب تھے۔ والد جب طویل علالت کے بعد عالمِ ارواح کو سدھارے تو اس وقت میری عمر 13برس اور بھائی کی 15برس تھی۔ اتنی چھوٹی عمر میں ہمارا یتیم ہو جانا ہمارے لئے ایک بڑا سانحہ تھا کیونکہ والدہ نے ہماری پرورش میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی تھی۔حال ہی میں، مجھے اپنا DNA ٹیسٹ کروانا پڑا کہ اس کی محکمہ ء صحت کو ضرورت تھی۔ جب رپورٹ آئی تو اس میں لکھا تھا کہ میں صرف 52% یہودی ہوں! لیکن جہاں تک مجھے علم ہے میرے آباؤ اجداد خالص یہودی النسل تھے اور صدیوں سے ایسا ہو رہا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مجھے 100% یہودی ہونا چاہیے تھا۔

میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ میں 52% یہودی کیوں ہوں اور 100% کیوں نہیں۔میں نے آسٹریلیا میں اپنے بھائی کو فون کرنا چاہا۔ لیکن پھر کچھ سوچ کر رک گیا اور والدہ سے لندن میں رابطہ کیا۔ گزشتہ ایک برس سے میں نے ان سے ٹیلی فون پر بھی کوئی بات نہیں کی تھی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ اگر مائنڈ نہ کریں تو کیا اپنا DNA ٹیسٹ کروا سکتی ہیں؟ وہ سن کر پریشان ہو گئیں اور کہا کہ وہ شائد ایسا نہیں کر سکیں گی۔ میں نے جب اگلا سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ یہودی ہوتے ہوئے بھی DNA ٹیسٹ کروانے سے کترا رہی ہیں تو کچھ توقف کے بعد بولیں: ’’اگر تم حقیقت جاننا ہی چاہتے ہو تو سنو کہ تمہارا باپ اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں تھا، اس لئے تم اور تمہارا بڑا بھائی کسی اور کے نطفے ہو!‘‘

یہ خبر پڑھ کر میرے ذہن کے افق پر تین چار یادیں پھیل گئیں جن کا تعلق نطفے سے تھا۔۔۔ ایک یہ تھی کہ ہمارے علاقے میں اگر کسی کو سب سے بڑی اور بُری گالی دینی ہوتی تھی تو کہا جاتا : ’’تم نطفہ ء حرام ہو!‘‘۔۔۔ اور دوسری وہ گھریلو تبصرہ تھا جو میرے ایک ہمسائے کے گھر میں عموماً جاری رہتا تھا۔ وہ دونوں انکل اور آنٹی بڑے ہوشمند اور لکھے پڑھے تھے۔ لیکن میں جب بھی ان کے ہاں اپنے دوست کو ملنے جاتا تو جواب ملتا : ’بیٹا! ابھی طفیل باہر گیا ہے، آتا ہی ہوگا‘۔ میں طفیل کا انتظار کرتا تو اتنے میں طفیل کے دو بھائی جھینپتے جھانپتے گھر میں داخل ہوتے تو انکل کی ناگفتنی گالیوں کا نشانہ بنتے۔ میں یہ سن کر سوچتا کہ اگر ایسے میں طفیل بھی آ گیا تو اس کا سواگت بھی ان دونوں بھائیوں سے کم نستعلیق زبان میں نہیں ہوگا۔ دریں اثناء محترم انکل ،محترمہ آنٹی کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے: ’’بھاگوان، یہ سب تھے تو حلال کے لیکن ہو نطفہ ء حرام گئے ہیں۔۔۔‘‘۔

تیسرا خیال مجھے یہ آیا کہ اگر امریکی محکمہ ء صحت نے اپنے عوام کا DNA ٹیسٹ کروانا لازمی قرار دے دیا تو کیا ہوگا؟۔۔۔ قارئین ذرا اپنے تصور کو کھینچ کر دیکھیں تو بات بہت دور تک نکل جائے گی!

اور چوتھا خیال مجھے امریکیوں کی اخلاقی قدروں کا آیا۔ ایک عرصے سے مجھے تلاش تھی کہ یہ معلوم کروں کہ یہ امریکی اتنے بدعہد، بدقماش، بدکردار، بدگفتار اور بداخلاق کیوں ہوتے ہیں۔ اس خیال کے آتے ہی تخیل کا لامحدود اور بیکراں افق سمٹ کر اپنے جنوبی ایشیائی خطے میں چلا آتا۔ پاکستان نے امریکہ سے گزشتہ 71 برسوں میں 71 معاہدے کئے ہوں گے اور 71بار امریکہ کی طرف سے ان کے توڑے جانے کا منظر بھی دیکھا ہوگا! کبھی ہم امریکہ کے ’نان نیٹو اتحادی‘ کہلائے اور کبھی خارجہ پالیسی کا ’کارنر سٹون‘ بنے رہے۔ لیکن یہ کیفیت زیادہ دیر تک باقی نہ رہ سکی، طوطا چشمی کی انتہائیں ہوتی گئیں اور عہد شکنی کی بار بار تکرار نے مملکتِ خدادادِ پاکستان کو یہ سبق دیا کہ پاکستانی ریاست کی بنیادیں جن اخلاقی قدروں پر اٹھائی گئی ہیں وہ امریکی اخلاقی اقدار کا الٹا عکس ہیں۔

ویسے تو مجھے پہلے ہی شک تھا کہ اس امریکی بدعہدی کی وجہ شائد ان کی جین (Gene) کی کسی خرابی میں تلاش کی جا سکتی ہے لیکن ’دی نیویارک ٹائمز‘ (NYT) کی درجِ بالا سٹوری نے تو سارا بھانڈہ ہی پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ اخبار بھی امریکی ہے اور اس کا سارا عملہ بھی امریکی ہے۔ لیکن پھر دل میں سوال پیدا ہوا کہ خود امریکی میڈیا اپنے اخلاق کی دھجیاں اس طرح بکھیرنے اور اس کو ساری دنیا میں نشر کرنے کا ارتکاب کیوں کر رہا ہے؟۔۔۔ اس سوال کا جواب اس حقیقت میں ملاکہ دی نیویارک ٹائمز کے مالک، چیف ایڈیٹر، ایڈیٹر اور پبلشرز تمام یہودی ہیں!

ذرا یہ بھی دیکھئے کہ ابھی چار دن پہلے کی بات ہے، امریکی وزیرخارجہ اور ان کی مسلح افواج کے کمانڈر دونوں اسلام آباد آئے۔ ان کے ان چند گھنٹوں کے اس دورے پر میڈیا میں کافی بحث ہو چکی، میرا گزشتہ کالم بھی اسی موضوع پر تھا۔ لیکن یہ بھی ملاحظہ کیجئے کہ خود امریکی وزیر خارجہ اسلام آباد میں کیا فرما رہے تھے اور ان کی وزارت کی ترجمان واشنگٹن میں کیا بیان دے رہی تھیں۔ اس کے بعد یہ امریکی وفد بھارت چلا گیا۔ اگلے روز دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کے درمیان پہلے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں۔ فریقین کا موقف ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ بھارت نے کہا کہ ہم ایران سے تیل بھی خریدیں گے اور روس سے فضائی دفاعی نظام (S-400) کا سودا بھی کریں گے جبکہ امریکی صدر کئی بار کھل کر کہہ چکے ہیں کہ ’ایران اور روس کا جو یار ہے، وہ ہمارا غدار ہے‘۔۔۔

لیکن اس کے باوجود 6ستمبر کی شام کو دونوں ملکوں میں جو دفاعی معاہدہ ہوا اور جس پر 2+2 برابر 4 نے دستخط کئے اس میں بھارت کی اس ہٹ دھرمی کا کوئی ذکر نہیں۔ دوسرے لفظوں میں امریکی مفادات کا ’کارنر سٹون‘ اب بھارت بن چکا ہے جس کو چین کے برابر لانے میں اس کی مدد کی جارہی ہے۔ امریکہ کے نزدیک ایران سے تیل اور روس سے S-400 کی خرید گویا ایک ٹیکٹیکل معاملہ ہے اور چین کے خلاف امریکہ۔ بھارت گٹھ جوڑ ایک سٹرٹیجک نوعیت کا موضوع ہے۔۔۔ ذرا یاد کیجئے کہ 1980ء کے عشرے میں جب پاکستان بیک وقت افغان جہاد کی روح رواں تھا توساتھ ہی اپنا جوہری پروگرام بھی ترتیب و تکمیل کر رہا تھا۔ امریکیوں کو معلوم تھا کہ پاکستان کیا کر رہا ہے۔ لیکن ان کے نزدیک افغانستان سے سوویٹ یونین کو نکالنا ایک سٹرٹیجک ترجیح تھی اور پاکستان کا جوہری پروگرام ٹیکنیکل اہمیت کا حامل تھا!

اس تازہ دفاعی معاہدے کے نمایاں خدوخال یہ ہیں:

1۔بھارت، امریکہ سے جدید ترین اسلحہ خریدے گا اور امریکہ، بھارت سے حساس ملٹری ٹیکنالوجی شیئر کرے گا، کیونکہ دونوں کی نظر میں چین ان کا مشترکہ حریف ہے۔

2۔بقول امریکی وزیر دفاع :’’ آج کی مبنی بر صداقت باہمی گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ دُنیا کی دونوں بڑی جمہوریاؤں میں ہر قسم کا تعاون جاری رہے گا۔ ہم مل کر اس خطۂ بحر ہند و بحرالکاہل (Indo-Pecific) کو آزاد اور خوشحال بنائیں گے۔‘‘دونوں ملکوں نے اس دفاعی معاہدے پر دستخط تو کر دیئے ہیں،لیکن دونوں کے دِل میں چور ہے۔دونوں نے وعدہ تو کر لیا ہے کہ آئندہ برس(2019ء میں) جومشترکہ ملٹری مشقیں کی جائیں گی وہ بھارت میں ہوں گی اور تینوں سروسز (آرمی، نیوی اور فضائیہ) ان میں حصہ لیں گی۔ اس سے پہلے یہ مشقیں زیادہ تر بھارت سے باہر یا اس کے قرب و جوار میں کی جاتی تھیں۔ دوسرے امریکہ کو شک ہے کہ بھارت، چین کا مقابلہ کیسے کر سکے گا؟۔۔۔بھارت کے پاس صرف 18 آبدوزیں ہیں اور چین کے پاس78 ہیں۔ چین کا دفاعی بجٹ175ارب ڈالر ہے اور بھارت کا صرف45ارب ڈالر ہے۔۔۔

آج کل چینی آبدوزیں بحرہند میںآزادانہ آ جا رہی ہیں اور بھارت ان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا۔امریکہ کو اندیشہ ہے کہ یہ آبدوزیں ان ملکوں کی بندرگاہوں کو وزٹ کر رہی ہیں جنہوں نے بھارت کو گھیرے میں لے رکھا ہے،یعنی پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش۔۔۔۔ امریکی وزارتِ دفاع کو خطرہ ہے کہ اگر ان بندر گاہوں کو چین نے بحری مستقروں (Bases) میں تبدیل کر دیا تومحصور انڈیا کا حشر کیا ہو گا۔اس دفاعی معاہدے کی رو سے امریکہ نے بھارت کو اس خفیہ مواصلات تک بھی رسائی دے دی ہے، جو قبل ازیں نہیں تھی۔اس سے پہلے دونوں ملکوں میں مواصلاتی ٹریفک اوپن ریڈیو چینلوں کے توسط سے ہوتا تھا۔اب یہ باہمی مواصلت امریکی مواصلاتی سیاروں کے توسط سے خفیہ کوڈ میں ہوگی۔۔۔ان خفیہ مواصلات کی نوعیت اور اہمیت کیا ہے یہ ایک الگ اور بسیط موضوع ہے جس پر انشااللہ اگلے کالم میں روشنی ڈالی جائے گی!

مزیدخبریں