نئی حکومت...نئی توقعات...مگر طریقے پرانے!

نئی حکومت...نئی توقعات...مگر طریقے پرانے!

بزنس ایڈیشن

حامد ولید

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے اکنامک ایڈوائزری کمیٹی کا اعلان ہوچکا اور اب بزنس ایڈوائزری کونسل کا اعلان ہونے کو ہے۔ گیس کی قیمتوں میں 46فیصدا ضافے کی باتیں عام ہیں، اوگرا کی سفارش پر وزیر اعظم اس اضافے کی منظوری دے چکے ہیں اور اب اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی میں اس کی حتمی منظوری کا امکان ہے۔ ادھر ملکی برآمدات کے فروغ کے لئے جمعے کے روز سہ پہر میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور مشیر تجارت برائے وزیر اعظم رزاق داؤد نے پہلی باضابطہ میٹنگ کی ہے ۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے یا نہ جانے کے حوالے سے کنفیوژن ابھی تک موجود ہے ، خیال کیا جا رہا ہے کہ اس ضمن میں چین، سعودی عرب ، جاپان اور ایشیائی ترقیاتی بینک پر ابتدائی انحصار کیا جائے گا اور بعد میں آئی ایم ایف جایا جائے گا۔ تاہم ابھی تک نوکریوں کے پیدا کرنے اور پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے ضمن میں کوئی بڑاا علان نہیں ہوا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سنیئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت پر تنقید 100دن کے بعد کی جائے۔ اس دن کے بعد سے ماحول میں تھوڑی سی تبدیلی آئی ہے وگرنہ پہلے دس بارہ دنوں میں تو اس قدر تنقید ہوئی تھی کہ حکومت جکڑ بند ہو کر رہ گئی تھی۔

اس میں شک نہیں کہ اصل امتحان وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا ہے ۔ انہیں ملک میں ایک ایسا توازن پیدا کرنا ہے جس سے انڈسٹری کا ہر شعبہ اور معیشت کا ہر پہلو ترقی کرتا نظر آئے۔

نون لیگ نے ترقی کو یقینی بنانے کے لئے انفراسٹرکچر کی تعمیر پر زور رکھا تھا اور اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی نے سرکاری ملازمتوں میں نوجوانوں کو کھپا کر اسی ترقی کو پانے کا اہتمام کیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کس طرح سے ترقی کا پہیہ گھماتی ہے کہ جس سے ہر طبقہ ہائے زندگی کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا موقع مل سکے۔ ابھی تک اسد عمر اس حوالے سے کوئی بلیو پرنٹ پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس وفاق سے یہی خبریں آرہی ہیں کہ ملکی دولت لوٹ کر باہر لے جانے والوں کے گرد شکنجہ کسا جا رہا ہے اور تازہ خبر یہ آئی ہے کہ 100ایسے افراد کی فہرست تیار ہو گئی ہے جن کی بیرون ملک جائیدادیں اور اثاثے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی ترغیب دی گئی ہے کہ جو کوئی ایسے مزید افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا اس کو برآمد کی جانے والی رقم کا بیس فیصد دیا جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ آیا ایسے اقدامات سے ملکی معیشت کا پہیہ چل پڑے گا؟ کیونکہ سرمایہ کاروں کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ ان کی مثال ایک کبوتر کی سی ہوتی ہے جو ذرا سی آہٹ ہونے پر جھٹ سے اڑ جاتا ہے ۔ چنانچہ اگر سرمایہ کار کو یقین نہ ہو کہ اس کا سرمایہ کسی جگہ پر محفوظ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کی عمومی فضا پیسہ بنانے کی پریکٹس کے خلاف ہے تو بھی وہ ایسی جگہ کا رخ مشکل سے ہی کیا کرتا ہے۔ اس تناظر میں حکومت کی جانب سے کرپشن کی بیخ کنی کا عزم اور لوگوں کے چہروں سے نقاب اتارنے کا عمل سیاسی طور پر تو سودمند ہوسکتا ہے لیکن معاشی طور پر اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے اور ایک ایسی صورت حال میں جب ملک میں معاشی ترقی جمود کی شکار ہے ، لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے نام پر لوگوں کے خلاف جس طرح شکنجہ کسا جاسکتا ہے اس سے عام لوگوں کے لئے ریلیف کا کوئی پہلو فوری طور پر برآمد ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ ملک میں موجود نوجوانوں کے لئے نوکریاں پیدا کرنا موجودہ حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بعض ایک سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ حکومت نوکریاں پیدا کرنے کے لئے ایک کام یہ کرسکتی ہے کہ سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ کی عمر کم کرکے 55برس کردی جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ بیوروکریسی نے سرکاری مفادات کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کے لئے جان بوجھ کر ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہلے 55برس سے بڑھا کر 60برس کیا اور اب 62برس کردیا ہوا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق اگر حکومت ریٹائرمنٹ کی عمر کو دوبارہ 55برس پر لے جائے تو بہت سی نوکریاں پیدا کی جاسکتی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد سرکاری نوکریوں کی جانب اس طرح سے رغبت نہیں رکھتی جس طرح کبھی اس جانب رجحان تھا۔ فی زمانہ نوجوان بین ا لاقوامی معیار کی تعلیم پاتے ہیں ، ماں باپ کا لاکھوں روپے کا خرچہ ہوتا ہے اس لئے ان والدین اور بچوں کی پہلی ترجیح بھی کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں ابتدا میں ہی لاکھوں روپے کی نوکری ہوتی ہے۔ چنانچہ جب تک حکومت ایسے اقدامات نہیں کرتی جن سے ملک کے اندر کاروباری فضا میں بہتری پیدا ہو اور سرمایہ کاری کا راستہ نکلے تب تک نوجوان نسل کے مسائل حل ہونے والے نہیں ہیں۔

اکنامکس میں سوشل سیکٹر کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ۔ سوشل سیکٹر میں تعلیم اور صحت کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیوں کا وعدہ کیا ہے اور خیبر پختونخوا کی طرح پورے پاکستان میں سرکاری سکولوں کے معیار کو اس سطح پر لانے کا نعرہ لگایا ہے جس کے بعد والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں سے نکال کر سرکاری سکولوں میں داخل کرواتے ہوئے فخر محسوس کریں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جس طرح پرائیویٹ ٹرانسپورٹ مافیا پاکستان ریلویز کی حالت نہیں سدھرنے دیتا اور اس کی حالت کو اس قدر پتلا کئے رکھتا ہے کہ عام عوام ٹرینوں کی بجائے پرائیویٹ بسوں، ویگنوں اور فلائنگ کوچوں میں بھاری کرایہ ادا کرکے سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ، اسی طرح پرائیویٹ سکولوں کا مافیا سرکاری سکولوں کی حالت زار میں تبدیلی کا مخالف ہے اور کسی صورت بھی ملک کے اندر سرکاری سکولوں کی حالت کو اس حد تک سدھرنے نہیں دیتا جس کے بعد لوگ بچوں کا رخ سرکاری سکولوں کی طرف موڑ دیں۔

یہی حال ہمارے ہاں صحت کے شعبے کا ہو چکا ہے کہ پرائیویٹ شعبے میں اس کی ترقی مثالی ہے مگر سرکاری شعبے میں کام کا ڈاکٹر ملتا ہے اور نہ ہی علاج میسر ہے۔ دراصل نوے کی دہائی میں سب سے بڑا ظلم یہ ہو اکہ تعلیم اور صحت کے شعبے کو پرائیویٹائز کردیا گیا ۔ آج عالم یہ ہے کہ جن لوگوں کا تعلیم اور صحت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے وہ بڑے بڑے سکول اور اسپتال چلا رہے ہیں۔ خاص طور پر صحت کے شعبے میں تو سرمایہ کاروں نے مل کر اسپتال قائم کرلئے ہوئے ہیں جہاں سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹر صاحبان کو بھاری تنخواہوں کی آفر کی جاتی ہے جو کوئی لحاظ کئے بغیر عوام کی صحت سے کھیلتے ہیں اور ان کی جیبیں ڈھیلی کرواتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان دو شعبوں میں کام کرنے والے لوگوں کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں اور عالیشان بنگلے آجاتے ہیں اور ریاست بے بس نظر آتی ہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ لاکھوں کی فیسیں جب بینکوں میں جمع ہوتی ہیں تو ان پر حاصل ہونے والے مفافع سے تعلیمی اداروں کے مالکان گل چھرے اڑاتے ہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ آیا پی ٹی آئی ایسے لوگوں کی سرکوبی کر سکے گی کیونکہ دیکھا جائے تو عمران خان کو ووٹ دینے والوں میں اکثریت ایسے ہی طبقے کی ہے جو ایسے ہی حیلوں بہانوں سے مال بنارہا ہے ۔ اب اگر حکومت ان پر ہاتھ ڈالے گی تو کیونکر ڈالے گی اور کس طرح ملک میں تعلیم اور صحت کی سہولتوں میں کمی لا سکے گی؟ کیونکہ صحت کے مسائل محض صحت کارڈ جاری کردینے سے حل نہیں ہوں گے ، اس کے لئے بڑے پیمانے پر ایک ایمرجنسی کا نفاذ کرنا ہوگا اور تعلیم اور صحت کے شعبوں کو پرائیویٹ شعبے کے چنگل سے آزاد کرکے دوبارہ سے پبلک سیکٹر میں لاکر فعال بنانا ہوگا۔

پنجاب کی سابق حکومت نے شہروں کی صفائی کے لئے ترکی کے تعاون سے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا پروگرام شروع کیا تھا ۔ اس پروگرام نے پنجاب میں اس قدر فعال طریقے سے کام کیا کہ کراچی جیسے شہر کی خوبصورتی ماند پڑ گئی تھی اور پورے ملک میں کراچی کے کچرے کی باتیں زباں زد عام تھیں۔ لیکن سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروگرام کی ساری لاگت حکومت نے اٹھائی تھی ۔ اگر یہی لاگت عوام پر لاگو کردی جاتی تو عوام کی چیں بول جاتی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکار کو عوامی سطح پر سہولیات بہم پہنچانے کی بھاری قیمت اداکرناپڑتی ہے جس کو برداشت تبھی کیا جاسکتا ہے اگر سرکار کے پاس بے پناہ مالی وسائل ہوں یا پھر ترکی کی طرح کوئی ملک اس لاگت کو شیئر کرنے کے لئے تیار ہو۔ دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت اس ضمن میں کیا کوئی ایسا لائحہ عمل ترتیب دے سکتی ہے جس سے اس لاگت کو قابو کیا جا سکے یا پھر ترکی جیسے کسی ملک کو تیار کیا جا سکے کہ وہ اس لاگت کو پاکستان کے ساتھ شیئر کر سکے۔

وزیر اعظم عمران خان یوم دفاع کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاک فوج واحد ادارہ ہے جو اس ملک میں اپنی ساکھ قائم رکھے ہوئے ہے۔ ان کی تقریر کا مدعا یہ تھا کہ ملک کے باقی تمام ادارے نہ صرف اپنی ساکھ کھوچکے ہیں بلکہ عوام کی نظر میں اپنی افادیت بھی کھو چکے ہیں۔ یہی وزیر اعظم عمران خان کا چیلنج ہے کہ فوج کے علاوہ دیگر اداروں کی ساکھ اور افادیت کو بحال کرنا ہے جس کے بعد بقول ان کے دنیا بھر سے لوگ پاکستان میں آکر کام کرنے کو ترجیح دیں گے۔ ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران 3.6کھرب روپیہ اکٹھا کیا تھا جس میں سے 2کھرب روپیہ بینکوں کے قرضوں کی مد میں دے دیا گیا جبکہ 1.2کھرب روپیہ دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پاک فوج کے حوالے کردیا گیا اور پیچھے حکومت کے خزانے میں محض 400 ارب روپیہ بچا جس سے باقی کے تمام اداروں کو چلانا، ان میں بہتری لانا اور نئی ترقیاتی کاموں کا اجراء شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ محض 400ارب روپے سے وفاقی حکومت کون سا انقلابی پروگرام شروع کرسکتی ہے اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی طرح منصوبے کی ساری لاگت کو برداشت کرسکتی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو بیرونی قرضوں پر انحصار کرنا پڑے گا اور جب بیرونی قرضے لئے جائیں گے تو اس کی واپسی کے لئے آئی ایم ایف کڑی شرائط عائد کرے گا جس سے عوام کے لئے زندگی مشکل ہو جائے گی۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو وزیر اعظم عمران خان کے سامنے ایک ایسا ٹاسک موجود ہے جیسا کبھی ہرکولیس کو درپیش تھا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جلد ہی وزیر اعظم عمران خان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے درخواست کریں گے کہ وہ پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے عطیات بھیجیں ۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف بھی قرض اتارو ملک سنوارو سکیم کا ڈول ڈال چکے ہیں مگر ملکی قرضے ابھی بھی عوام کا منہ چڑا رہے ہیں۔ چنانچہ دیکھنا یہ ہے کہ اب وزیر اعظم عمران خان کی اپیل کس قدر کام دکھاتی ہے اور کس طرح بیرون ملک مقیم پاکستانی عطیات کی بارش کرتے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو جتنا بڑا ایجنڈا وزیر اعظم عمران خان نے سیٹ کردیا ہے اور جتنی اونچی توقعات عوام نے ان سے باندھ لی ہیں اگر وہ پوری نہ ہوئیں تو عوام اگلے چھے ماہ کے بعد سڑکوں پر ہوں گے ۔ انڈسٹری تو پہلے ہی ان سے توقعات لگائے بیٹھی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت آتے ہی ان کے سپیشل الیکٹرسٹی ٹیرف کا اعلان کردے گی، ان کے قرضے معاف کردے گی اور ان پر مراعات کی بارش کردے گی لیکن ایسا تب تک ممکن نہیں ہوگا جب تک کہ حکومت کے پاس تو بہت سا سرمایہ موجود ہو یا پھر وہ عوام کی حاصل سہولتوں پر کمپرومائز کرتے ہوئے ان پر کٹ لگا کر انڈسٹری کا پیٹ بھرنے کا جتن کرے۔

سرخیاں

حکومت نوکریاں پیدا کرنے کے لئے ریٹائرمنٹ کی عمر 55برس کرے

محض 400ارب روپے سے وفاقی حکومت کون سا انقلابی پروگرام شروع کرسکتی ہے

نوے کی دہائی میں سب سے بڑا ظلم یہ ہو اکہ تعلیم اور صحت کے شعبے کو پرائیویٹائز کردیا گیا

تصاویر

عمران خان

اسد عمر

سرکاری سکول

سرکاری اسپتال

ایف بی آر

سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی گاڑیاں

مزید : ایڈیشن 2