ڈیم کا پہرے دار

ڈیم کا پہرے دار
ڈیم کا پہرے دار

  

وطنِ عزیز کے حالات میں بہتری لانے کی کوشش بہت سے رہنماء اس وقت سے کرتے چلے آ رہے ہیں جب سے یہ معرضِ وجود میں آیا ہے۔ اس سلسلے میں جمہوری نظام کو برقرار رکھنے کے لئے ہر پانچ سال کے بعد الیکشن بھی کروائے جاتے ہیں، عسکری قیادت کی جانب سے مختلف آپریشن بھی کیے جاتے ہیں اور اعلٰی عدلیہ کی جانب سے کئی کرپٹ عناصر کو سزائیں بھی سنائی جاتی ہیں لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود ترقی کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ رہے۔ ایک عام پاکستانی کے حالات بہتر ہونے کی بجائے روز بروز ابتری کی طرف جا رہے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی ان کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے۔ تمام اعلٰی ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس قدر بہترین کام کر رہے ہیں کہ اسے مزید بہتر بنانا ناممکن ہے۔ ایسی صورت حال میں عوام کی امیدوں کی ٹمٹماتی ہوئی شمع صرف ان دنوں میں زیادہ روشن رہتی ہے جب الیکشن کے دن قریب آنے لگتے ہیں۔

پاکستان جن گھمبیر مسائل میں گھر چکا ہے ان کی فہرست نہایت طویل ہے، مگر ان میں کچھ مسائل ایسے ہیں کہ ان کے بغیر زندہ رہنا اور ترقی کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ان میں سب سے اہم لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ماضی کی کسی حکومت نے سنجیدگی سے کام نہیں کیا۔ پچھلی حکومتوں نے جتنے بھی منصوبے شروع کیے وہ سارے کرپشن کی نذر ہو کر ختم ہو گئے۔ جو اقدامات کیے گئے وہ سب کے سب عارضی نوعیت کے تھے۔

یوں تو بجلی کے بحران کو شمسی توانائی اور ایٹمی توانائی دونوں کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے مگر پانی سے بنائی گئی بجلی اس سے کہیں زیادہ سستی ہوتی ہے اور اس کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ڈیم بنانے سے پانی سے متعلقہ مسائل بھی حل ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کے کئی علاقوں میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے جبکہ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں سیلاب سے بہت زیادہ تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے ڈیم بنانا نہایت اہم اور ناگزیر ہے۔

اگرچہ پاکستان میں کالاباغ ڈیم بہت آسانی سے اور بغیر کسی اضافی بجٹ کے بنایا جا سکتا تھا، تاہم اسے سیاست کی نظر کر کے اس پر کام روک دیا گیا۔ دوسرا آپشن دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر تھی، جس کے لئے کسی سیاست دان یا کسی وزیر نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے عزت مآب چیف جسٹس محترم ثاقب نثار صاحب نے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا اور ابتدائی طور پر اس میں اپنی طرف سے دس لاکھ روپے بھی جمع کرا دیئے۔ بعد میں اس فنڈ میں کئی پاکستانیوں نے اپنی رقوم شامل کر کے کروڑوں کا سرمایہ جمع کر لیا۔ یہ زبردست اقدام یقیناًنہایت قابلِ تعریف ہے۔

گزشتہ روز چیف جسٹس صاحب نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیم پر پہرہ دیں گے۔ یہ بات شاید انہوں نے اس خدشے کے پیش نظر کی ہے کہ ہو سکتا ہے ان کے منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد ڈیم کی رقم ضائع ہو جائے، کیوں کہ ماضی میں بھی ایک سابق حکمران نے "قرض اتارو، ملک سنوارو" کے نام سے کروڑوں، اربوں روپے اکٹھے کیے تھے اور قرضہ بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا تھا۔

دانشوروں کا ایک طبقہ البتہ چیف جسٹس صاحب کے ڈیم فنڈ سے شدید اختلاف کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی کرپشن کی دولت 300 ارب روپے، زرداری کے سوئس بینکوں میں پڑے 600 ارب روپے، ڈاکٹر عاصم کی کرپشن 480 ارب روپے، فریال تالپور کی 90 ارب روپے، احد چیمہ کی کرپشن 1850 ارب روپے، مشتاق رئیسانی سے برآمد ہونے والی کیش رقم 84 ارب روپے، شرجیل میمن کے 426 ارب روپے کیش، اور صرف پنجاب گورنر ہاؤس کے وسیع و عریض رقبے کی مالیت 350 ارب روپے ہے، یہ سب ملا کر کئی کھرب روپے سے زیادہ بن جاتے ہیں جبکہ جاتی عمرہ، بلاول ہاؤسز کی جائیدادیں، کئی شوگر ملز، سینکڑوں غیر قانونی نجی کاروبار، متعدد آفشور کمپنیاں اس کے علاوہ ہیں۔ اس لئے نئی حکومت اور چیف جسٹس صاحب کو چاہئے کہ افلاس زدہ مزدور پیشہ قوم سے ڈیم کے پیسے نکلوانے کی بجائے ان لٹیروں سے پیسا نکلوائیں۔

ڈیم کی تعمیر بھی اگرچہ بہت ضروری ہے مگر یہ چیف جسٹس صاحب کے فرائض میں شامل نہیں ہے۔ انہیں ایسے اقدامات سے قبل سپریم کورٹ میں التواء میں پڑے ہزاروں کیسز کو نمٹانا چاہیے، تمام سیاستدانوں کا یکساں احتساب کرنا چاہیے، انصاف کے عمل کو سستا اور تیز تر کرنا چاہیے، قانونی اور عدالتی نظام میں اصلاحات کرنی چاہئیں اور دن دیہاڑے 14 لوگوں کو ماڈل ٹاؤن میں گولیوں سے چھلنی کرنے والوں کو گرفتار کر کے سزا دینی چاہیے۔ اگر یہ سب اقدامات ہو گئے تو پاکستان یقیناً ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بن جائے گا۔انصاف ہوگا تو ڈیم بھی بن جائے گا ۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ