A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 67

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 67

Sep 10, 2018 | 13:20:PM

ادریس آزاد

قاسم ابھی تک ’’رومیلی حصار‘‘ میں ہی تھا ۔ اسے شہنشاہِ قسطنطنیہ کے اقدامات کی خبر ملی۔ تو اس نے مصلح الدین آغا سے اجازت لی اور قسطنطنیہ جانا چاہا۔ لیکن اس کے دل میں روزی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا دکھ تھا ۔ اس نے دل میں فیصلہ کیا کہ وہ قسطنطنیہ روانہ ہونے سے پہلے ایک مرتبہ روزی کی بابت معلومات ضرور حاصل کرے گا۔ تاکہ اس معصوم لڑکی کو مصیبت سے چھٹکارا دلائے۔ یہی سوچ کر وہ سب سے پہلے مچھیروں کی بستی کی طرف روانہ ہوا۔ اب اس کے جسم پر عام شہریوں جیسا لباس تھا ۔ اور اس نے سر پر قسطنطنیہ کی مخصوص ٹوپی پہن رکھی تھی۔ وہ ’’رومیلی حصار‘‘ سے ایک صحت مند گھوڑے سے روانہ ہوا۔ اور مچھیروں کی بستی کے قریب پہنچ کر رک گیا ۔ اسے کسی ایسے شخص کی تلاش تھی۔ جو اسے روزی کے بارے میں بتاسکتا۔ اسی اثناء میں اس کی نظر ایک نو دس سالہ لڑکے پر پڑی اور اس نے اپنے چہرے کو اپنے مفلر سے چھپاتے ہوئے اس لڑکے کو آواز دی۔ لڑکا قاسم کے پاس دوڑا چلا آیا۔ قاسم نے اسے پہچان لیا۔ وہ بستی کا ہی ایک بچہ تھا ۔ جو قاسم سے اچھی طرح مانوس تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ قاسم نے اپنا چہرہ چھپائے رکھا اور اس سے پوچھا:۔

’’بیٹا ! تمہارے سردار کی بیٹی کو یونانی سپاہی لے گئے تھے..........اس کا کیا ہوا؟‘‘

بچے نے انتہائی تعجب سے قاسم کی آنکھوں میں دیکھا ۔ اور اسے پہچاننے کی کوشش کی۔ قاسم نے اپنا سوال پھر دھرایا تو بچہ بولا:۔

’’ہمارے سردار کی بیٹی ٹھیک ٹھاک ہے۔ اور واپس آچکی ہے۔ لیکن وہ بے حد غمزدہ رہتی ہے۔‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 66پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قاسم کے دل کو دھچکا لگا۔ لیکن اس نے خود کو سمجھایا اور بچے کو شاباش دے کر رخصت کردیا ۔ اب قاسم کی منزل قسطنطنیہ تھی۔لیکن وہ سو چ رہا تھا کہ وہ قسطنطنیہ میں داخل کس طرح ہوگا۔ کیونکہ شہر کے سارے دروازے تو بند تھے۔ اور دروازوں کی کھڑکیاں بے شک کھلی تھیں۔ لیکن شہر میں داخل ہونے والے ہر شخص کی اچھی طرح چھان بین کی جاتی تھی۔ اور دوسری اہم بات یہ تھی کہ قاسم شہر کی جنوبی سمت میں ’’آبنائے باسفورس‘‘ کے کنارے پر موجود ہونے کی وجہ سے شہر کے اصل دروازے سے بہت دور تھا ۔ قاسم کے لیے ضروری تھا کہ وہ یاتو شہر کے بڑے دروازے ’’سینٹ رومانس‘‘ تک طویل فاصلہ طے کرے، یا آبنائے باسفورس کی شاخ ’’گولڈن ہارن‘‘ کو کشتی کے ذریعے عبور کرکے پرلی طرف شہر کی بندرگاہ پر جااترے۔

قسطنطنیہ کا نقشہ بڑا عجیب تھا ۔ یہ براعظم یورپ کے کنارے پر ایشیا کے بالکل سامنے واقع تھا ۔ براعظم یورپ اور براعظم ایشیا کے درمیان آبنائے باسفورس کا نیلا پانی حدِ فاصل تھا ۔ آج سے چھ لاکھ سال پہلے جب خشکی کے یہ دونوں بڑے ٹکڑے یعنی براعظم ایشیا اور براعظم یورپ جب سمندر میں تیرتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آئے تو دونوں اپنے درمیان ایک سے تین میل کا فاصلہ رکھ کر اپنی اپنی جگہ رک گئے۔ یہی درمیانی فاصلہ ’’آبنائے باسفورس‘‘ ہے۔ اور قسطنطنیہ ہی وہ مقام ہے۔ جہاں کھڑے ہوکر ایشیا سے یورپ اور یورپ سے ایشیا کو صاف دیکھا جاسکتا ہے۔اور پھر قسطنطنیہ کا محلِ وقوع آبنائے باسفورس کے پرلے ساحل یعنی یورپی ساحل پر بھی نہایت عجیب ہے۔

فضا سے دیکھاجائے تو دونوں براعظموں کے درمیان لیٹی یہ آبنائے ایک بیل کی گردن اور سرسے مشابہہ ہے۔ جس کا صرف ایک سینگ ہے۔ جو بائیں طرف زمین میں دراڑ ڈالتا ہوا ایک چھوٹی سی خلیج کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اسی کوسنہری سینگ کہتے ہیں۔سنہری سینگ یعنی ’’گولڈن ہارن‘‘ اگر باسفورس کے دیوتا کو پربت کے رخ پر تصور کیا جائے تو ’’گولڈن ہارن‘‘ایسے ہے جیسے باسفورس کے دیوتا نے اپنا ایک بازو فضا میں پھیلا رکھا ہو۔ باسفورس کی اسی شاخ کو ’’شاخ زریں‘‘ کہتے ہیں۔ اب قسطنطنیہ کا محل وقوع ایسے ہے کہ باسفورس سے ایک طرف نکلتی ہوئی خلیج کی وجہ سے اس مقام پر واقع خشکی کے ٹکڑے نے ایک نوکدار اور مثلث نما شکل اختیار کرلی ہے۔ اسی مثلث پر قسطنطنیہ کا شہر آباد تھا ۔ اور اس وقت شہر کی فصیل بھی ساحل کے ساتھ ساتھ گھومتی چلی گئی تھی۔ شہر کے ایک پہلو پر وسیع آبنائے اور دوسرے پر ’’گولڈن ہارن‘‘ کا پانی تھا ۔ اسی گولڈن ہان کے دہانے پر ایک آہنی زنجیر باندھی گئی تھی۔ جو بوقتِ ضرورت کھینچ کر گولڈن ہارن میں جہازوں اور کشتیوں کا داخلہ روک دیا جاتا ۔ اس مثلث شہر کی یہ دونوں اطراف سمندر کی وجہ سے محفوظ تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان اطراف کی فصیلیں بہت زیادہ مضبوط اور بلند نہ بنائی گئی تھیں۔ شہر کی اکلوتی سمت جو خشکی کی جانب تھی ایک مضبوط اور بلند فصیل کے ذریعے محفوظ کردی گئی تھی۔’’برجِ غلاطہ‘‘ ، گولڈن ہارن کے کنارے شہر کی فصیل کے نزدیک واقع تھا۔ قاسم نے بندرگاہ کی جانب سے شہر میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ فی الحقیقت وہ ’’گولڈن ہارن‘‘ میں لٹکی اس آہنی زنجیر کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ’’برجِ غلاطہ‘‘ کو بھی اچھی طرح دیکھنا چاہتا تھا ۔ اس طرف آتے ہوئے قاسم کو پہچان لیے جانے کا ڈر بھی تھا ۔ کیونکہ ’’برجِ غلاطہ‘‘ یونانی سپاہیوں کے قبضے میں تھا ۔ اور ان سپاہیوں میں سے چند ایک نے قاسم کو دیکھ رکھا تھا ۔ لیکن قاسم نے اسی جانب سے شہر میں داخل ہونا ضروری سمجھا۔

’’گولڈن ہارن‘‘ کے اس کنارے پر جہاں اس وقت قاسم پہنچنے والا تھا ۔ یونانی سپاہیوں کا ایک مستقل کیمپ بھی لگا رہتا تھا ۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں سے ’’مقرون‘‘ نے چار سو سواروں کا لشکر لیا تھا ۔ لیکن قاسم تو اس راستے پر جارہا تھا جو عام لوگوں کے استعمال کا راستہ تھا ۔ اسی راستے سے بعض ممالک کا سامان اور بہت سے قافلے قسطنطنیہ کی طرف جایا کرتے تھے۔ شہر کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے اگر چہ اس شاہراہ پر عام مسافروں کی آمد و رفت تو کم تھی۔ لیکن بڑی بڑی بیل گاڑیوں پر بہت زیادہ سامانِ رسد لایا جارہاتھا ۔ یہ وہ سامان تھا جو آبنائے باسفورس کی مختلف گودیوں پر اتارا اور ساحل کے راستے شہر میں جمع کیا جارہا تھا ۔ قاسم نے سامان سے لدی بیل گاڑیوں کو دیکھا تو سوچا.........قیصر، قسطنطنیہ کے محاصرے کی بے پناہ تیاریاں کررہا ہے۔ وہ شہر میں اتنا سامانِ رسد اکٹھا کررہا ہے کہ شاید کئی ماہ تک بے فکری کے ساتھ محصور رہ سکے۔ ’’گولڈن ہارن‘‘ میں در حقیقت اس عظیم شہر کی بندرگاہ تھی۔ یہاں ’’بحرِ اسود‘‘ اور بحرِ مارمورا‘‘ سے آنے والا تمام سازو سامان اور مسافر اترتے تھے ۔’’آبنائے باسفورس ‘‘ کے ساحل پر اور بھی بہت سی گودیاں تھیں۔ جنہیں چھوٹی چھوٹی بندرگاہیں کہا جاسکتا ہے۔ اگر سلطان محمد خان کا ’’رومیلی حصار‘‘ کامیابی کے ساتھ تعمیر کر لیا جاتا تو ’’آبنائے باسفورس‘‘ کی پوری ایک سِمت یعنی ’’بحرِ اسود ‘‘ سے آبنائے میں داخل ہونے والا پورا راستہ عیسائی جہازوں کے لیے بند ہوسکتا تھا۔ اگرچہ قیصر کے پاس آبنائے میں داخل ہونے کے لیے مندر کی طرف سے ابھی ’’بحرِ مارمورا‘‘ کا راستہ کھلا تھا ۔ ’’درِ دانیال‘‘ بھی اسی جانب تھا ۔ چنانچہ اب بھی مغربی یورپ کے جہاز اسی راستے سے آبنائے میں داخل ہوکر ’’گولڈن ہارن‘‘ میں داخل ہوسکتے تھے۔ ’’رومیلی حصار‘‘ تو گولڈن ہارن سے پانچ میل ’’بحرِ اسود‘‘ کی جانب دور تھا۔ لہٰذا گولڈن ہارن کو سلطانی کشتیوں کے گشت فوری طور پر بند نہ کرسکتے تھے۔ لیکن یہ بھی ایک بہت بڑی بات تھی کہ آبنائے میں داخل ہونے کے لیے ’’بحرِ اسود ‘‘ کا راستہ بند کردیا جائے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں