A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

کار سرکار اور عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ

کار سرکار اور عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ

Sep 10, 2018 | 16:49:PM

عائشہ نور

قادیانی ماہرمعاشیات عاطف میاں کی اقتصادی مشاورتی کونسل میں بطورمشیر تقرری کے خلاف سوشل میڈیا پر زبردست احتجاج ہوا۔ عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کونسل سے علیحدہ کرنے کے حکومتی فیصلے پربھی کافی لے دے ہورہی ہے۔ حتیٰ کہ اقتصادی مشاورتی کونسل کے ایک ممبر عاصم اعجاز خواجہ نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔

عاطف میاں امریکہ میں میسا چوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں تعلیم کے دوران اسلام سے منحرف ہو کر قادیانی ہوا جس کا اعتراف اس نے قادیانیوں کی شائع کردہ کتاب "بائی دی ڈانز ارلی گلوری " میں کیا ہے۔ ارتداد کے باعث وہ اپنے والدین کی ناراضگی کا ذکر بھی کرتا ہے۔ اس کتاب میں قادیانی مذہب قبول کرنے والے لوگوں کی کہانیاں بتائی گئی ہیں۔ عاطف میاں نے 2002 میں قادیانی مذہب کافارم بھرا اور مجلس خدام احمدیہ میں کام کرتا ہے۔ عاطف میاں مرزا مسرور احمدقادیانی کا مالیاتی مشیر اور افریقہ میں قادیانی مبلغ مشن کا انچارج مبلغ بھی ہے۔

7 ستمبر 1974 کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ جس کی روسے آئینِ پاکستان "عقیدہ ختم نبوت ﷺ " سے کسی بھی صورت انکاری فرد کو "کافر " قرار دیتا ہے۔ " قادیانی خود کو غیر مسلم اور کافر نہیں مانتے۔ قادیانی خود کو مسلم قرار دیتے ہیں جو کہ آئینِ پاکستان کو تسلیم نہ کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ جب قادیانی آئینِ پاکستان کو نہیں مانتے تو پھر اسی آئینِ پاکستان کی رو سے ملنے والے اقلیتی حقوق پر دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تسلیم شدہ اقلیتوں ہندو , سکھ , عیسائی , پارسی وغیرہ کو حاصل ہیں۔ دیگر اقلیتیں آئینِ پاکستان کے مطابق خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتی ہیں , جس کی بناء پر وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی روسے دئیے گئے اقلیتی حقوق حاصل کرنے کی مجاز ہیں۔ لہٰذا قادیانی بھی خود کو پہلے آئینِ پاکستان کی رو سے خود کو غیرمسلم اقلیت تسلیم کرلیں تو ہم ان کے اقلیتی حقوق کو بھی تسلیم کرلیں گے۔ جو لوگ ہندو جسٹس رانا بھگوان داس کی مثالیں دیتے ہیں , وہ یہ فرق سمجھیں کہ ہندو خود کو غیرمسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں , اسی لیے وہ اقلیتی حقوق رکھتے ہیں۔ جبکہ قادیانیوں نے 1984 میں وفاقی شرعی عدالت میں ایک اپیل دائر کی تھی کہ انہیں مسلم کہلوانے , کلمہ پڑھنے , اذان دینے اور اپنی عبادت گاہوں کو مسجد قرار دینے کی اجازت دی جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ چونکہ انہیں غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا گیا ہے , لہذٰا بطور غیرمسلم اقلیت انہیں مذہبی آزادی دی جائے۔ تب ڈاکٹر طاہرالقادری نے چھ گھنٹے وفاقی شرعی عدالت میں دلائل دے کر ثابت کیا کہ چونکہ یہ شعائر اسلام ہیں اور قادیانی چونکہ آئینِ پاکستان کی رو سے غیرمسلم اقلیت قرار دئیے جا چکے ہیں , لہٰذا وہ ایسی مذہبی آزادی کے مجاز نہیں کہ ان اسلامی شعار کو اپنا سکیں اور اس طرح وفاقی شرعی عدالت میں قادیانی اپنا کیس ہار گئے۔

لبرل قادیانیوں کو قائل کیوں نہیں کرتے کہ وہ خود کو غیرمسلم تسلیم کرلیں؟؟؟ قائداعظم محمد علی جناح نے اقلیتوں کی پاکستان میں جس مذہبی آزادی کا وعدہ کیا تھا , وہ مذہبی آزادی ان تمام اقلیتوں کو حاصل ہے جو خود کو غیر مسلم تسلیم کرتی ہیں۔ جہاں تک سوال قائداعظم محمد علی جناح کی جانب سے سر ظفراللہ خان قادیانی کی بطور وزیر خارجہ تقرری کا سوال ہے تب تک قادیانیوں کو آئین و قانون کی روسے غیرمسلم قرار نہیں دیا گیا تھا۔

جہاں تک قادیانی مبلغ عاطف میاں کی تقرری کا سوال ہے تو موصوف خود مسلم سمجھتے تھا جو کہ آئینِ پاکستان کی نفی ہے۔ پھر اسی آئین پاکستان کی روسے وہ کیسے اپنے اقلیتی حقوق کا دعویٰ کرسکتا تھا ؟؟؟ جہاں تک ان کے ماہرِ معاشیات ہونے کا تعلق ہے تووہ اکلوتے آدمی نہیں تھے جو میرٹ پر پورا اترتے تھے۔ کئی اور ایسی پاکستانی شخصیات موجود ہیں جو میرٹ پر پورا اترتی ہیں اور حکومت پاکستان ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاسکتی ہے۔ مجھے بعض لبرلز پر حیرت ہے جو اس ضمن میں ایک احساسِ کمتری کا اس طرح شکار نظرآتے ہیں کہ جیسے عاطف میاں پاکستان کے لیے آخری چوائس رہ گئے تھے۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں