نواسۂ رسول ؐ، جگر گوشۂ بتولؓ سیدنا حضرت حسینؓ کے فضائل و مناقب

نواسۂ رسول ؐ، جگر گوشۂ بتولؓ سیدنا حضرت حسینؓ کے فضائل و مناقب

برائے خصوصی اشاعت 10 محرم الحرام یوم شہادت

تحریر: مولانا مجیب الرحمن انقلابی

hmujeeb786@hotmail.com

نواسۂ رسولؐ، جگر گوشہ بتولؓسیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ عظیم ہستی ہیں،جن کے فضائل و مناقب، سیرت و کردار اور کارناموں سے تاریخ اسلام کے صفحات روشن ہیں۔ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے خاندانِ نبوت، فاتح خیبر سیدنا حضرت علی المرتضیؓ کے گھر میں آنکھ کھولی۔ آپؓ کے نانا ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کے کان میں بنفس نفیس آذان دی۔ اپنے پاکیزہ اور مبارک ہاتھوں سے شہد چٹایا۔ اپنا لعاب مبارک آپؓ کے منہ میں داخل فرمایا...... دعائیں دیں اور حسین نام رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کی والدہ ماجدہ، اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی لخت جگر، خاتونِ جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراہ رضی اللہ عنہا کو ”عقیقہ“ کرنے اورسر کے بالوں کے برابر چاندی خیرات کرنے کی تلقین فرمائی۔ سیدنا حضرت حسینؓ نے اپنے نانا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ شفقت و محبت کو سمیٹا اور سیدنا حضرت علی المرتضیؓ کی آغوش محبت میں تربیت و پرورش پائی۔ جس کی وجہ سے آپؓ فضل و کمال، زہد و تقویٰ، شجاعت و بہادری، سخاوت، رحمدلی، اعلیٰ اخلاق اور دیگر محاسن و خوبیوں کے بلند درجہ پر فائز تھے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپؓ سے بہت زیادہ محبت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو گود میں اٹھاتے، سینہ مبارک پر کھلاتے، کاندھے پر بٹھاتے اور کبھی ہونٹوں پر بوسہ دیتے اور رخسار چومتے.........

آپؓ کے والد مکرم خلیفہ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضیؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ سینہ سے لے کر سر مبارک تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے اور سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ قدموں سے لے کر سینہ تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال کی عکاسی کرتے تھے۔ ایک موقعہ پر حضور اکرم ﷺ نے حسنین کریمین ؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ یہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں۔ ایک موقعہ پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنین کریمین کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جس نے ان دونوں کو محبوب رکھا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا (ابن ماجہ) ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حضرت حسینؓ کے رونے کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتونِ جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تم کو معلوم نہیں کہ ان کا رونا مجھے غمگین کرتا ہے.........شہید کربلا سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے زہدو تقویٰ اور عبادت گزاری کی یہ حالت تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ شبِ زندہ دار اور سوائے ایام ممنوعہ کے ہمیشہ روزہ سے ہوتے۔ قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے فرماتے اور حج بھی بکثرت کرتے ایک روایت کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ نے پچیس حج پیدل فرمائے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی مجالس وقار و متانت کا حسین مرقع اور آپ رضی اللہ عنہ کی گفتگو علم و حکمت اور فصاحت و بلاغت سے بھرپور ہوتی۔ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے اوران کے سامنے ایسے سکون اور خاموشی سے بیٹھتے تھے گویا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں..........آپ رضی اللہ عنہ بہت زیادہ حلیم الطبع اور منکسر المزاج تھے، مالی حیثیت میں کمزور لوگوں سے سے بھی خندہ پیشانی سے ملتے تھے بعض مرتبہ آپ ر ضی اللہ عنہ غرباء کے گھروں پر خود کھانا پہنچاتے تھے اگر کسی قرض دار کی سقیم حالت کا پتہ چلتا تو خود اس کا قرض ادا فرما دیتے۔

حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما میں سے کوئی بیت اللہ کے طواف کے لئے نکلتا تو آپ رضی اللہ عنہ کو سلام و مصافحہ کے لئے لوگ اس طرح پروانہ وار ٹوٹ کر گرتے کہ ڈرلگتا کہ کہیں ان کو تکلیف و صدمہ نہ پہنچے........ایک موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حسین رضی اللہ عنہ مجھ سے ہے اور میں حسین رضی اللہ عنہ سے ہوں جو حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرے اللہ تعالیٰ اس سے محبت کریں گے، حسین میری اولاد کی اولاد ہے۔ (ترمذی) خلیفہء اوّل سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ سمیت تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو بھی حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اور خاندانِ نبوت سے بہت زیادہ عقیدت و محبت اور اُلفت تھی..........سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ جب بچپن میں پہلی مرتبہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے بے اختیار عقیدت و محبت میں فرمایا کہ ”بیٹا علیؓ کا ہے مشابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے ہے“۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ”حیرہ“ علاقہ فتح ہوا تو مالِ غنیمت میں سے ایک نہایت ہی قیمتی چادر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بطور ”ہدیہ“ بھیجی جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بخوشی قبول فرمائی.........خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں ”بدری صحابہ کرامؓ “کے وظائف سب سے زیادہ یعنی پانچ ہزار دہم سالانہ مقرر کیے تھے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے وظائف بھی بدری صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے برابر ہی مقرر فرمائے....... حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے حقیقی بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ محبت حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے کرتے تھے، ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں یمن سے کچھ پوشاکیں آئیں۔

. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس میں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے موافق اور شان کے مطابق کوئی پوشاک نہ ملی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خصوصی طور پر یمن کے علاقہ کے طرف آدمی بھیج کر مناسب لباس منگوایا جس کو حسنین کریمین رضی اللہ عنہما نے زیبِ تن کیا........ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دیکھ کر فرمایا! اب میری طبیعت خوش ہوئی ہے.........اسی طرح خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اور خاندانِ نبوت سے عقیدت و محبت، آپس میں رشتہ داری اور اُلفت و تعلق کے بہت زیادہ واقعات تاریخ کے روشن صفحات پر محفوظ ہیں........ سیدنا حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت مین جب بلوائیوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کیا تو جنتی نوجوانوں کے سردار حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اپنے والد ماجد سیدنا حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے حکم سے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے گھر کا پہرہ دے رہے تھے........ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ذات مبارکہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے لئے انتہائی عقیدت و احترام او رمحبت و تکریم کا مرکز تھی یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کے تقریبًا 57برس مدینہ منورہ میں عام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور ان کی اولادوں کے درمیان بسر فرمائے.... یہاں کا ہر مسلمان آپ رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا اور آپ رضی اللہ عنہ کا دل و جان سے جانثار تھا........ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کے ان 57 برسوں میں انہی لوگوں کے ساتھ نمازیں ادا کیں انہی لوگوں کے ساتھ مل کر جہاد و قتال کیا۔ انہی لوگوں کے ساتھ اپنا اٹھنا بیٹھنا رکھا اور احکامِ اسلام کی تعمیل و تکمیل کی..........خاندانِ نبوت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اسلام کی دو روشن آنکھیں ہیں اور ان دونوں سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان مقدس شخصیات کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مزید : ایڈیشن 2


loading...