جانِ شہادت

جانِ شہادت

سب کچھ خبر تھی، سب کچھ عیاں تھا

معصوم اصغرؓ، ناداں کہاں تھا

باغِ ارم بھی، جس پر نچھاور

صرصر کی زد میں، وہ گلستاں تھا

یورش اُسی پر، تھی اشقیا کی

مسجودِ عالم، جو آستاں تھا

دینِ خدا کی،جاں پر بنی تھی

کنبہ نبیؐ کا، آتش بہ جاں تھا

جانِ شہادت، یوں قتل ہو گا

کس کو خبر تھی، کس کو گماں تھا

بزمِ شہادت، بن میں سجی تھی

کون و مکاں میں، حشرِ فغاں تھا

لاشے پڑے تھے، ریگِ تپاں پر

مقتل میں ہائے، کیسا سماں تھا

شوقِ شہادت، لایا تھا رن میں

لڑنے کے قابل، قاسمؓ کہاں تھا

اصغرؓ کا جذبہ، اللہ اکبر

نامِ خدا اب، یہ بھی جواں تھا

بادل نہیں تھے، وہ آسماں پر

خیمے جلے تھے، ان کا دُھواں تھا

ہوتے وہ کیونکر، خائف اجل سے

سِرّ ِشہادت، جن پر عیاں تھا

تسخیر اُس کی، ممکن کہاں تھی

عزمِ حسینیؓ، کوہِ گراں تھا

حرؓ کی جبیں تھی، قدموں پہ شہؓ کے

احوال دل کا، رخ سے عیاں تھا

نبضِ مشیت، ٹھہری ہوئی تھی

سوکھے گلے پر، خنجر رواں تھا

مولاؓ بلاتے اور ہم نہ جاتے

فاتح، بھلا یہ ممکن کہاں تھا

مزید : ایڈیشن 2


loading...