حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ

حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ

یہ دنیا ایک عجیب عالم ہے کہ جس میں عجائبات کی کوئی انتہا نہیں۔ ہر زمانہ اپنے کمالات کا آپ شاہد ہے اور ہر آنے والا دور گزشتہ زمانے کے کمالات کا گواہ ہے۔.... اسی کا نام تاریخ ہے.... لوگ بادشاہوں کی تاریخیں تو پڑھتے ہیں مگر بادشاہ نہیں بن سکتے۔ لیکن اللہ کے ولیوں کا ذکر کرتے کرتے ولی ضرور بن جاتے ہیں۔

تاریخ بادشاہوں کی زندگی کا کوئی موثر نمونہ پیش نہیں کرتی یعنی اس کے مطالعہ سے دین ملتا ہے اور نہ ہی دنیا.... ایسی تاریخوں سے عبرت بھی خدا کے برگزیدہ بندوں کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ بادشاہوں کی تاریخ قصے کہانیاں ہیںجن سے سوائے سردردی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ تاریخ تو اللہ تعالیٰ کے ولیوں کی ہے جن کا ہر گوشہءزیست ہدایت کے نور سے چمک رہا ہے۔ اس تاریخ کے ہر پہلو میں اصلاحِ انسانی کی تاثیر بھری پڑی ہے۔ ولی کی پیدائش سے لے کر موت تک اور اس کے بعد ان کے مزارات کا ہر واقعہ اور قصہ ہدایت کا ایک باب بن جاتا ہے جس سے مضطرب دلوں کے لئے اطمینان کا سامان پیدا ہوتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی اشاعت کے لئے جو خدمات اولیائے کرام نے سرانجام دی ہیں ان کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ان اولیائے کرام نے اپنی پاکیزہ زندگی کو عوام کے سامنے بطور نمونہ پیش کرکے دلوں کو مسخر کیا۔ ان میں زہد الانبیائ، شیخ بحرو برحضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کی ذات بابرکات آفتاب کی طرح روشن ہے اور سلسلہ¿ چشتیہ کے دوسرے عظیم المرتبت بزرگ بھی آسمانِ روحانیت کے درخشاں ماہتاب ہیں۔

نسب و ولادت:

بارہویں صدی عیسوی کے وسط میں جب چنگیزی قوم پوری دنیا کو فتح کرنے کا عزم لے کر اُٹھی تو لاکھوں مظلوم انسان ان کے تسخیر کائنات کے اس خوفناک خواب کی بھینٹ چڑھ گئے۔ جب یہ لوگ اپنی تمام تر وحشت ناکیوں کے ساتھ افغانستان میں داخل ہوئے تو وہاں متعدد قبائل اور گھرانوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا۔تاہم اس وقت چند گھرانے ان کی دہشت گردی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان میں سے ایک گھرانہ قاضی شعیب فرخ کا بھی تھا۔

قاضی شعیب فرخ، بادشاہ افغانستان کی اولاد سے تھے۔ اس لئے اس معزز گھرانے کی بڑی قدر و منزلت تھی۔ قاضی صاحب اپنے خاندان کو کابل سے لاہور لے آئے۔ لاہور میں چند دن رہ کر ہجرتِ ثانی فرمائی اور قصور میں رہائش پذیر ہوئے۔ قصور کے قاضی نے حضرت قاضی شعیب کی بڑی خاطر مدارت کی اور بادشاہِ وقت سے ان کو قاضی مقرر کرنے کی درخواست کی جو منظورہوئی۔ بادشاہ نے قاضی شعیب کو ملتان کے قریب قصبہ کھتوال (کبیر والا روڈ ملتان) کا قاضی مقرر کیا اور انہوں نے وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ یہاں آپ کے والد ماجد قاضی جمال الدین سلیمان اور بی بی قرسم خاتون( بابا فرید کی والدہ ماجدہ) کا نکاح ہوا اور یہیں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ قاضی جمال الدین سلیمان، فاتحِ سومنات حضرت سلطان محمود غزنوی کے رشتہ دار بھی تھے....واللہ اعلم

تعلیم و تربیت:

گنج شکر نے ابتدائی تعلیم اپنی والدہ ماجدہ بی بی قرسم خاتون سے حاصل کی۔ اس وقت آپ کی والدہ کے زہد و عبادت کے چرچے قرب و جوار میں پھیل چکے تھے۔ ایک رات بی بی قرسم محوِ عبادت تھیں کہ گھر میں ایک چور (جو ہندومذہب رکھتا تھا) داخل ہوا۔ جوں ہی اس کی نظر آپ پر پڑی، اس کی بینائی جاتی رہی۔ چور معانی مانگنے لگا اور زور زور سے چلانے لگا:” مجھے معاف کردو۔ میں چور ہوں لیکن اب چوری نہیں کروں گا۔ خدا کے لئے میری بینائی واپس لوٹا دو۔.... میں چوری سے توبہ کرتا ہوں“۔

آپ نے دعا کی تو اس کی بینائی لوٹ آئی۔ صبح اس نے اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ اسلام قبول کرلیا۔ اس کا نام محمد عبداللہ رکھا گیا اور اس نے بڑا نام پایا۔ایسی نیک اور پاکیزہ سیرت خاتون نے حضرت بابا فرید کے دل میں بچپن میں ہی عشق الہٰی کی ایسی چنگاری سلگائی کہ جس نے فرید کے جسم اور روح کو بہت جلد انوارِ الہٰی سے بھر دیا۔ بچپن میں ہی فرید الدین کے زہد و تقویٰ کے چرچے کھتوال اور اس کے گرد و نواح میں پھیل گئے۔ مزید تعلیم کے لئے آپ والدہ سے اجازت لے کر ملتان روانہ ہوگئے جہاں حضرت شیخ منہاج الدین ترمذی کے مدرسہ میں داخل ہوئے۔ یہاں آپ نے قرآن و حدیث کی تعلیم مکمل کی۔ یہی مسجد تھی جہاں آپ ہر رات ایک قرآن ختم کرتے اور صبح دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔

بیعت وخلافت:

ایک روزملتان کی منہاج الدین ترمذی کی جامع مسجد میں بیٹھے حضرت فرید الدین فقہ کی ایک کتاب ”نافع“ کا مطالعہ کررہے تھے کہ اچانک ایک درویش مسجد میں داخل ہوئے اور آتے ہی فرید الدین سے سوال کیا: ”صاحبزادے کس کتاب کا مطالعہ کررہے ہو؟“ عرض کیا:” حضور نافع پڑھ رہا ہوں“ ....فرمایا ”یہ کتاب آپ کو ضرور نفع دے گی۔“ درویش جب دعا کر رہے تھے تو فرید الدین کی نظریں درویش سے دو چار ہوئیں۔ آپ اُٹھ کھڑے ہوئے اور عرض کیا:” جو نفع آپ کے فیضِ نظر سے حاصل ہوگا وہ بھلا اس کتاب میں کہاں؟“ فوراً درویش کے قدموں میں گر پڑے اور عرض کیا:” جس کو آپ قبول کرتے ہیں وہ ہمیشہ مقبول ہو جاتا ہے اور آپ کی برکت سے کوئی مایوس نہیں ہوتا۔ آپ جس ذرے پر توجہ دیں، چاہے وہ ایک لمحہ کے لئے ہی کیوں نہ ہو، ہزار سورج سے زیادہ تابناک بن جاتا ہے۔“ بعدازاں آپ اس درویش کے ساتھ ہولئے جن کا اسم گرامی حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ تھا۔ حضرت خواجہ قطب الدین، فرید الدین کو ساتھ لے کر دہلی روانہ ہوئے ۔

روایت کے مطابق حضرت بابا صاحب ملتان میں ان سے بیعت ہوئے، لیکن دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت خواجہ قطب الدین نے فرمایا : ”زہد بے علم خام ہوتا ہے اس لئے کچھ عرصہ تعلیم ظاہری کی تحصیل مکمل کرو پھر ہمارے پاس دہلی آجانا۔“ اس دوران آپ نے پانچ سال مختلف ممالک میں حصولِ علم میں صرف کیے۔ اس کے بعد آپ دہلی میں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ خواجہ صاحب آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور حاضرین و مریدین کے سامنے ارشاد فرمایا:”مولانا فرید اپنا کام ختم کرکے میرے پاس آیا ہے ۔“....اور پھرتین روز بعد آپ کو اپنی بیعت سے مشرف فرما کر کلاہِ چہار ترکی عطا فرمایا۔پھر ایک دن آپ کو مخاطب کرکے فرمایا:” اے فریدؒ جب تک تھوڑا نہ کھائے گا درویشی کا جوہر تجھ میں ہرگز پیدا نہ ہوگاکیونکہ درویش وہ ہے جس نے نیند کو اپنے اوپر تقریباً حرام کرلیا ہو، زبان گونگی کرلی ہو، کھانا درختوں کے پتوں کا کھایا ہو اور صحبتِ خلق کو مارِ آستیںشمار کیا ہو.... ایسے ہی درویش صحبت خداوندی کو پہنچ سکتے ہیں“۔

فیضانِ چشت:

ان دنوں کہ جب آپ دہلی میں خدمتِ مرشد کی سعادت حاصل کررہے تھے، سلطان الہند خواجہءخواجگان حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیریؒ دہلی تشریف لائے۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ ان کے استقبال کو جانے لگے تو ا ٓپ نے ارشاد فرمایا:” اے فرید بڑے خواجہ صاحب تشریف لائے ہیں کیا تم بھی میرے ساتھ چلو گے؟“ آپ نے عرض کیا: ” حضور! ایک ہی دل تھا جسے آپ کے قدموں میں ڈال دیا۔ اب ان کی نذر کے لئے دوسرا دل کہاں سے لاﺅں گا؟“چنانچہ کمالِ ادب کی وجہ سے آ پ نہ گئے۔ حضرت خواجہ غریب نواز نے قطب الدین سے پوچھا کہ مولانا فرید کیوں نہیں آئے؟ عرض کیا حضور شائد کمالِ ادب کی وجہ سے نہیں آئے۔ خواجہ نے فرمایا چلو ہم خود ان کے پاس چلتے ہیں، چنانچہ دونوں حضرات آپ کے پاس پہنچے توآپ محوِ عبادت تھے۔ خواجہ قطب الدین نے باہر سے آواز دی۔” اے فرید بڑے خواجہ تشریف لائے ہیں۔“ آپ دوڑ کر باہر آئے اور آتے ہی خواجہ غریب نواز کے قدموںکو بوسہ دیا۔ حضرت خواجہ غریب نواز نے فرمایا :”قطب الدین تم نے بڑے شہباز کو قید کررکھا ہے۔.... فرید ایک ایسی شمع ہے جو خانوادہ¿ درویشاں کو منور کردے گی۔ اس لئے آج ہم فرید کو وہ سب روحانی نعمتیں عطا کرتے ہیں جو مجھے میرے پیر طریقت اور شیوخ عالم نے دی تھیں۔

لقب گنج شکر:

حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کا لقب گنج شکرکیوں پڑا، اس سلسلہ میں بہت سی روایات مشہور ہیں، لیکن ہم یہاں صرف دو روایات پیش کرتے ہیں:

پہلی روائت یہ ہے کہ آپ کو بچپن ہی سے شرینی سے خاص رغبت تھی۔ آپ کی والدہ ماجدہ جب رات کو نماز عشاءادا کرنے لگتیں تو بیٹے کے مصلے کے نیچے شکر کی پڑیا رکھ دیتیں۔ ایک دن بابا فرید نے پوچھا کیا نماز پڑھنے سے شکر ملتی ہے؟ فرمایا کہ ہاں۔ اس طرح آپ روزانہ آپ نماز ادا کرتے اور مصلے کے نیچے سے پڑیا اٹھا لیتے۔ ایک دن والدہ صاحبہ شکر رکھنا بھول گئیں لیکن فرید کو نماز کے بعد حسب معمول شکر کی پڑیا عطا ہوگئی۔ والدہ ماجدہ وظائف میں مشغول تھیں۔ انہیں یاد آیا کہآج شکر نہیں رکھی۔لیکن کیا دیکھا کہ حضرت بابا فرید الدین شکرؒ کھا رہے ہیں۔ فرمایا ” بیٹا یہ شکر کہاں سے لی۔“ عرض کیا اماں جی! اسی جگہ سے جہاں سے روز ملتی ہے۔ والدہ سمجھ گئیں کہ اللہ تعالیٰ نے غیب سے عطا فرمائی ہے۔ اسی وقت بارگاہ الہٰی میں سجدہ ریز ہوگئیں اور دعا کی کہ اے رب العالمین! جس طرح تو نے غیب سے شکر عطا کی ہے، فرید کی زبان کو بھی شکر عطا فرمادے۔ الغرض والدہ صاحبہ کی اس شفقت و محبت سے نہ صرف بچپن میں نماز ادا کرنے کی عادت پختہ ہوگئی بلکہ گنج شکر کے لقب سے جہاںمیں مشہور ہوگئے۔

دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ایک دن آپ سر راہ تشریف فرما تھے۔ ایک تجارتی قافلہ گزرا جو گڑ اور شکر فروخت کرنے جارہا تھا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ ان اونٹوں پر جو بورے لدے ہوئے ہیں ان میں کیا ہے۔ انہوں نے سوچا کہ کہیں فقیر سوال نہ کردے کہ مجھے بھی دو.... اس نے کہا کہ نمک ہے۔ جواب میں فرمایا کہ نمک ہی ہوگا۔ جب یہ قافلہ منڈی میں پہنچا تو دیکھا کہ سب کا سب گڑ اور شکر نمک بن چکا ہے۔ متعجب ہوئے اور کہا کہ ہو نہ ہو یہ اسی درویش کی زبان کا اثر ہے۔ فوراً واپس آئے۔ حضرت بابا فریدؒ سے منت سماجت کرنے لگے کہ حضور ہمارا بہت نقصان ہوا، ہمارے بورے گڑ اور شکر سے بھرے تھے، وہ نمک ہو چکے ہیں دعا فرمائیں کہ وہ گڑ اور شکر ہو جائے۔ فرمایا: ” جھوٹ بولنا اچھا نہیں۔ جاﺅ وہ شکر تھی توشکر ہی ہوگی....“چنانچہ تمام بورے گڑ اور شکر کے ہوگئے۔

چلّہءمعکوس:

جناب محمد شفیع خان بلوچ اپنے ایک مضمون میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اگر یہ کہا جائے کہ زہد و تقویٰ اور ریاضت و مجاہدہ میں آپ کا کوئی ہم پلہ نہیں تو بے جانہ ہوگا۔ آپ نے بڑی کٹھن اور جان لیوا ریاضتیں کیں۔

ایک دفعہ آپ کو مرشد نے حکم دیا کہ فرید چلہ معکوس کرو(یعنی پاﺅں باندھ کر کسی کنویں میں لٹک کر 40 راتیں عبادت کرواور اس عبادت کی شہرت نہ ہو.... آپ اپنے مرشد کے حکم کی تکمیل میں کسی ویران سی جگہ کی تلاش میں کھتوال سے ہوتے ہوئے اُوچ شریف پہنچے۔ اوچ شریف کی ایک مسجد وحاج کے ساتھ ایک کنواں دیکھا۔ ویران سی جگہ تھی وہیں ڈیرہ لگالیا۔ اس مسجد کا موذن شیخ رشید الدین مینائی تھا جو ہانسی کا باشندہ تھا اور آپ کا عقیدت مند بھی تھا۔ چند دن تک اس کواعتماد میں لے کر راز دان بنالیا۔ وہ آپ کو عشاءکی نماز کے بعد کنویں میں الٹا لٹکا دیتا اورصبح اذان کے وقت باہر نکال لیتا۔یوں آپ نے اُوچ شریف میں چالیس رات کا چلہءمعکوس مکمل کیا۔

آپ مسلسل روزہ رکھتے تھے اور اسے روحانی ترقی کے لئے ناگزیر گردانتے تھے۔ شائد ہی کبھی ایسی نوبت آئی کہ آپ نے روزہ نہ رکھا ہو۔ سحری کھائے بغیر بھی روزہ رکھتے اور افطار کے وقت تھوڑا سا شربت پی لیتے اور باقی تمام کھانا اور مشروب حاضرین میں تقسیم فرما دیتے۔

حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سے روحانی فیض حاصل کرنے کے بعد ہانسی چلے گئے، جہاں آپ نے بیس برس تبلیغ دین میں صرف کئے۔ جہاں حضرت خواجہ جمال الدین ہانسوی نے بھی آپ کے شانہ بشانہ یہ خدمات سر انجام دیں۔ حضرت بابا فریدؒ ایسی جگہ کو تبلیغ کے لئے منتخب فرماتے جہاں جہالت و کفر کا سیلِ رواں بہہ رہا ہوتا۔ اس لئے آپ نے ہانسی جیسے غیر معروف کفر قصبے کو منتخب کیا اور سینکڑوں گمراہوں کو صراطِ مستقیم پر گامزن کیا۔ حضرت خواجہ قطب صاحب کی وفات کے بعد آپ نے ہانسی چھوڑ کر اجودھن (جسے آج کل پاک پتن شریف کہتے ہیں) میں قیام فرمایا۔ قیام کے دوران کسی نے آپ کی خدمت میں ایک طلائی قینچی کا تحفہ پیش کیا۔ آپ نے یہ کہہ کر واپس کردی کہ اس کی فطرت کاٹنا ہے مجھے تو سوئی لاکر دو، جس سے لوگوں کے دلوں کو پروکر مالا بناسکوں۔

حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ نے دین اسلام اور سلسلہءچشتیہ کے لئے جو خدمات انجام دیں ہیں ان کی نظیر نہیں ملتی.... سید نصیر احمد جامعی اپنی کتاب ”تذکرہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ “ میں لکھتے ہیں: ”حضرت بابا فرید الدین نے نہ صرف پنجاب بلکہ تمام دنیائے اسلام میں دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت فرمائی“۔ اس کے علاوہ آپ نے دو مرید و خلفائ، حضرت علاﺅ الدین علی احمد صابرؒ اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الہٰیؒ جیسے بزرگوں کی تربیت کرکے، سلسلہءچشتیہ کو وسیع اور مستحکم بنیادوں پر کھڑا کیا۔ اشاعتِ اسلام میں جتنی کامیابیاں حضرت بابا فریدؒ کو ہوئیں وہ پورے براعظم پاک و ہند کے کسی دوسرے بزرگ کو شاذ ہی ہوئیں ہوں گی۔ مغربی پنجاب کے کئی بڑے بڑے قبیلے ان کے ہاتھوں پر مسلمان ہوئے۔ مثلاً راجپوت، جٹ، سیال، ڈھڈی، کھرل، کھوکھر، جلمیرے راٹھور اور کاٹھیے وغیرہ۔ پنجاب کے عوام میں کامیاب اشاعتِ اسلام کے علاوہ بابا فریدؒ نے بڑے بڑے صاحبِ سطوت بزرگوں کی تربیت بھی کی۔ چشتیہ سلسلے کو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ نے دہلی اور خواجہ غریب نواز اجمیری نے اجمیر شریف کو رونق بخشی تھی، لیکن پاک و ہند میں اس کو وسعت اور استحکام حضرت بابا فرید کی ذات بابرکات سے نصیب ہوا، اس لئے آپ کو سلسلہ چشتیہ کا بانی ءثانی بھی کہا جاتا ہے۔

وفات اور مزار شریف:

حضرت بابا فرید الدین، مجموعہءاوصافِ حسنہ تھے۔ وہ سراپا خلوص، ہمدرد، دیانت دا ر، شفیق اور منکسر المزاج تھے۔ تمام اخلاقِ عالیہ ان کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے، وہ جن چیزوں پر عمل کرنے کی تلقین کرتے پہلے خود ان پر عمل کرتے ۔ آپ نے تمام زندگی قرآن و سنت پر عمل کرتے گزاری۔ آپ نے حضورﷺ کی حیاتِ مقدسہ کو مشعلِ راہ بنایا۔ آپ کو تمام دنیا کی نعمتیں میسر تھیں مگر آپ نے تمام زندگی فقرو فاقہ میں گزاری۔ آپ کا کھانا کریر اور پیلو کے پھلوں جیسی معمولی خوراک تھی۔ تمام عمر نیا کپڑا نہ پہنا بلکہ ہمیشہ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس رہتے۔

ایک بار ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ حاضرین سے فرمایا کہ ”میرا وقت اب پورا ہوگیا ہے اور دربارِ الہٰی کی حاضری کا وقت آگیا ہے۔“.... چنانچہ عشاءکی نماز ادا کی اور بے ہوش ہوگئے۔ کچھ دیر بعد ہوش آیا تو پوچھا کہ کیا میں نے نماز عشاءادا کرلی ہے؟ مولانا بدر الدین اسحاق نے عرض کیا جی ہاں۔ لیکن آپ نے دوبارہ نماز عشاءادا کی اور پھر بے ہوش ہوگئے۔ ہوش آیا تو فرمایا! چلو بطور احتیاط ایک بار پھر سہی۔ گویا آپ نے تین مرتبہ نماز عشاءادا کی۔ پھر مولانا بدرالدین اسحق سے فرمایا :”قریب آﺅ“.... آہستہ سے فرمایا۔ ”مولانا نظام الدین دہلی میں ہے اور میں بھی اپنے پیرِ روشن ضمیر قطب الاقطاب خواجہ قطب الدین کی وفات کے موقع پر ہانسی میں تھا۔ میرے انتقال کے بعد وہ تبرکات جو مرشد حق سے مجھے ملے تھے وہ مولانا نظام الدین کے پاس پہنچا دینا ....“پانی طلب فرمایا، وضو کیا اور دو نفل ادا کئے۔ بعد میں یا حی، یاقیوم کا ورد کرتے ہوئے آپ کی روح پُر فتوح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ، انا اللہ وانا لیہ راجعون

آپ کی وفات 5محرم الحرام 670 ہجری میں ہوئی اس وقت آپ کی عمر مبارک 94سال تھی۔ آپ کا مزار پاکپتن شریف میں مرجعِ خلائق ہے۔ ہر سال آپ کا عرسِ مبارک 25ذوالحج سے 10محرم تک پندرہ روز جاری رہتا ہے۔

بہشتی دروازہ:

آپ کے مزار شریف کے دو دروازے ہیں۔ایک مشرقی دروازہ جس کو نوری دروازہ کہتے ہیں اور دوسرا جنوبی دروازہ جو صدیوں سے بہشتی دروازہ کہلاتا ہے۔ اس کی پیشانی پر باب جنت کے حروف کنندہ ہیں۔ نہایت خوبصورت پرکشش اور جاذب نظر ہے۔ حضور گنج شکرؒ کے عقیدت مند اس سے گزرنا باعث سعادت اور برکت سمجھتے ہیں۔ اس دروازے کی ایک کرامت یہ بھی ہے کہ عام دنوں میں جاکر تو دیکھو تو بالکل چھوٹا دروازہ نظر آتا ہے۔ لیکن عرس کے دنوں میں اس سے گزریں تو بالکل اونچا اور ہاتھ تک نہیں لگ سکتا۔ لوگ چھلانگیں لگا کر ہاتھ لگاتے ہیں۔ سالانہ عرس مبارک کے دنوں میں پانچ محرم الحرام کو شام کے بعد پہلے صرف دو راتوں کے لئے یہ دروازہ کھلتا تھا اور 7محرم الحرام کو بند ہوجاتا تھا۔ جب رش زیادہ ہوا تو حضرت میاں علی محمد خان آف بسی شریف اور دیوان غلام قطب الدین چشتیؒ کے مشورے کے بعد پانچ راتوں تک کو کھلنے کی رسم ادا کی جانے لگی۔بہشتی دروازے کی جملہ تقریبات حضرت بابا صاحب کے موجودہ سجادہ نشین ہی ادا کرتے ہیںجن کو دیوان صاحب کہا جاتا ہے اور موجودہ دیوان مودود مسعود فاروقی چشتی ہیں۔

حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ میرے حجرہ اور ریاض الجنت کے درمیان جو جگہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ہے۔ دوسری اس روائت ہے کہ مومن کی قبر جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہوتی ہے۔ اس فرمان کی رو سے یہ دروازہ اتباعِ رسولﷺ کی دلیل ہے۔ داتا گنج بخش کشف المحجوب میں لکھتے ہیں۔ ”ابوالنصر سراج جو کہ اعلیٰ مقام کے بزرگ ہیں انہوں نے انتقال کے وقت فرمایا بفضلہ تعالیٰ جو میت میرے مزار کے سامنے لائی جائے گی۔ اس کی بخشش ہوگی ان شاءاللہ۔“ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے فرمایا ”جو کوئی مسلمان میری مسجد اور خانقاہ کے درمیان سے گزرے گا، اس پر عذاب قیامت نہیں ہوگا۔“ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ نے فرمایا ”مجھے بشارت ہوئی ہے کہ فرید تیرے مرقد کی طرف ایک دروازہ ہوگا جو تاقیامت اس سے گزرے گا اس پر آتشِ دوزخ حرام ہوگی۔“ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ فرماتے ہیں ”مجھے خواب میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو اس دروازے سے گزرے گا اور ایمان و اخلاص ومحبت کے ساتھ داخل ہوگا ،وہ امن میں رہے گا۔ “

حضور نبی کریمﷺ کا فرمان عالی اس دروازہ پر لکھا ہوا ہے کہ جو اس دروازے سے ایمان و اخلاص کے ساتھ داخل ہوا وہ امن میں ہے۔ اس لحاظ سے اس دروازہ کو آج تک بہشتی دروازہ کہتے ہیں زائرین کی زبان پر اللہ محمد چار یار حاجی خواجہ قطب فرید کا نعرہ مستانہ ہوتا ہے اور اس وقت فضاءفرید فرید کے نعروں سے گونجتی رہتی ہے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...