عبدالقادر بھی”مرحوم“ ہو گئے

عبدالقادر بھی”مرحوم“ ہو گئے
 عبدالقادر بھی”مرحوم“ ہو گئے

  


گزشتہ روز میں اپنے کمرے میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ اچانک میرے موبائل فون کی گھنٹی بجی،کال کیونکہ میری بڑی بہن کی تھی اسی لیے میں نے فورًا اٹھا لی۔کچھ دیر بہن کی جانب سے ٹال مٹول کے بعد اطلاع ملی کہ عظیم قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی اور دنیائے کرکٹ میں گگلی کو بہترین انداز میں پیش کرنے والے مایہ ٗ ناز سابق کپتان و سپنر عبدالقادرحرکت قلب بند ہو جانے کے باعث جہانِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔میرے لیے یہ ایک حیران کن خبر تھی ساتھ دوسری جانب میں مزید پریشانی میں مبتلا ہو گیا کیونکہ میری بہن ڈپریشن میں مبتلا ہیں لہٰذا تمام گھر والے اس قسم کی گفتگو ان کے سامنے کرنے سے گریز کرتے ہیں چاہے کوئی قریبی عزیز یا رشتہ دار ہی کی خبر کیوں نہ ہو۔لیکن پھر مجھے اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا پڑا کہ اس نے میری بہن کو اتنی ہمت و طاقت دی کہ اس کی بدولت اس سانحہ سے آگاہ کیا۔

لیکن ایک بات کا ملال رہے گا اور وہ یہ کہ میں ان کی زندگی میں ان کے انٹرویو سے محروم رہا۔جب کبھی سوچا کہ اپنے انکل شاہنواز رانا جو معروف صحافی ہیں سے بات کر کے قادر صاحب (مرحوم) کا انٹرویو کروں تو بات ہر دفعہ ذہن سے نکل جاتی اور جب ان کے سامنے بات کی تو انہوں نے جلد انٹرویو کی بات کرنے کی حامی بھرنے کی یقین دہانی کروا دی لیکن اللہ نے مجھے اس عظیم کھلاڑی کا انٹرویو کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا تو اس میں بھی کوئی اللہ کی مرضی ہو گی۔

عبدالقادر (مرحوم) کے کیریئر پر نظر دوڑائی جائے تو پندرہ ستمبر کو پیدا ہونے والے عبدالقادر نے 1977 ء میں انگلینڈ کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا۔67ٹیسٹ میچز میں انہوں نے 236وکٹ اپنے نام کیں اور اپنا آخر ی ٹیسٹ میچ چھ دسمبر کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا جبکہ ایک روزہ کرکٹ کا آغاز1983 ء میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ سے کیا 104میچز میں انہوں نے132وکٹ اپنے نام کیں انہوں نے اپنا آخری ایک روزہ میچ 1993 ء میں سری لنکا کے خلاف کھیلا۔

انہوں نے ٹیسٹ میچز میں پانچ مرتبہ دس وکٹ حاصل کیں۔جبکہ ایک روزہ میچز میں پندرہ بار ایسا موقع آیا کہ انہوں نے پانچ یا اس سے زائد وکٹ ایک میچ میں حاصل کیں ہوں۔ عبدالقادر (مرحوم) نے اپنے کیریئر میں اس وقت کے مایہٗ ناز بلے بازوں کو اپنی جادو گر باؤلنگ کے سامنے بے بس رکھا اسی لیے دنیا انہیں جادو گر سپنر اور گگلی ماسٹر کے نام سے جانتی تھی۔ان کو وکٹ پر گیند گھمانے کا ایسا فن میسر تھا کہ اس وقت کہ تمام سپنر انہیں فالو کرتے اور ان سے ملنے اور سیکھنے کی آرزو کرتے۔

رچی بینواور گرہم گوچ ان کی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ اس کے ساتھ وہ اپنے بے لاگ تبصروں،تجزیوں اور پی سی بی کے عہدے داروں کو آڑے ہاتھوں لیتے اسی لیے انہیں صاف گو انسان بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ مشتاق احمد،شاہد آفریدی، شین وارن،انیل کمبلے،دانش کنیریہ،یاسر شاہ انہیں فالو کر کے اپنی باؤلنگ میں نکھار لانے کی کوشش کرتے۔ مجھے یہ بات کہنے میں ذرا بھی ہچکہاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ شین وارن ان کے مداحوں میں پہلے نمبر پر ہوں گے کیونکہ وہ عبدالقاد ر(مرحوم) کی تمام ویڈیوز کا بخوبی جائزہ لیتے اور اس سے سیکھتے جبکہ انہیں وہ استاد کا درجہ بھی دیتے تھے۔

کرکٹ سے فارغ ہو نے کے بعد بطور چیف سلیکٹر ان کو کام کرنے کا زیادہ موقع نہ مل سکا کیونکہ 2008 ء میں جب انہوں نے بطور چیف سلیکٹر یہ عہدہ سنبھالا تو پہلی سیریز انڈیا کے ساتھ تھی جو پاکستان اور انڈیا کے اچھے تعلقات نہ ہونے کے باعث منسوخ کر دی گئی جس کے بعد سری لنکا کو ان کے متبادل ٹیم کے طو رپرمدعو کیا گیا لیکن افسوس لنکن ٹیم پر حملے کے بعد یہ دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا اور انہوں نے یہ عہدہ چھوڑ دیا جس کے بعد انہوں نے اپنی تمام تر توجہ اپنی کرکٹ اکیڈمی کی جانب مبذول کر لی تھی جہاں نا صرف پاکستان کے گراس روٹ لیول کی سب سے بہترین کرکٹ کھیلی جاتی ہے بلکہ پاکستان کی آنے والی نسل کے لیے بہترین کرکٹ بھی میسر ہے جس سے استعفادہ اٹھانا پاکستان کرکٹ بورڈ کا کام ہے کیونکہ وہاں اچھے پلیئر با ٓسانی دستیاب ہیں جو آگے جا کر ملک و قوم کا نام روشن رکھنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔

عبدالقادر کا انتقال پاکستان کرکٹ اور قو م کے لیے سانحہ ہے۔اسی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان جو ان کے ساتھ کھیل چکے ہیں سمیت صدر، آرمی چیف،ڈی جی آئی ایس پی آر،کرکٹرز،شوبز ستاروں،سیاستدانوں اور مختلف شعبہ ٗ زندگی سے تعلقات رکھنے والی شخصیات نے ان کے انتقال پر دلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی سانحہ قرار دیا ہے۔اللہ (مرحوم) کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کی سنہری یادوں کو اس ملک کے باسیوں میں ہمیشہ زندہ ر کھے۔آمین۔

مزید : رائے /کالم


loading...