13لاکھ کا دہی ایک کروڑ کی سبزی

13لاکھ کا دہی ایک کروڑ کی سبزی
 13لاکھ کا دہی ایک کروڑ کی سبزی

  


ایک فور سٹار ہوٹل کے اکاؤنٹ آفس کا منظر ہے جہاں تین چار اکاؤٹنٹ آمنے سامنے بیٹھے کمپیوٹروں کو گھور رہے ہیں۔ قریب ایک شخص بیٹھا ہے جو اپنے چیک کا متمنی ہے۔ اس اثناء میں ایک شخص اندر داخل ہوتا ہے اور اکاوئٹنٹ سے کہتا ہے کہ ہوٹل کی جانب میری کل واجب الادا رقم بتادیں، اکاوئٹنٹ نے کمپیوٹر پر دو تین ٹیب دبائے اور کہنے لگا کہ ہوٹل نے آپ کا 13لاکھ دینا ہے۔ قریب بیٹھے چیک کے متمنی شخص نے پوچھا کہ آپ نے کہا ہے کہ 13لاکھ دینا ہے تو وہ شخص گویا ہوا کہ میں ہوٹل کو دہی سپلائی کرتا ہوں۔

چیک کا متمنی خاموشی سے اٹھ کر کمرے سے نکل آیا، ہوٹل کی لفٹ میں بیٹھا اور لفٹ آپریٹر سے کہنے لگا کہ دہی کا بل 13لاکھ بن چکا ہے جو ہوٹل نے ادا نہیں کیا ہے، یہ تو بہت عجیب بات ہے، ہوٹل میری ٹرانسپورٹ کا بل کہاں سے دے گا؟ اس پر لفٹ آپریٹر نے کہا جناب آپ تو دہی والے کی بات کرتے ہیں، ہوٹل نے تو سبزی اور پھل سپلائی کرنے والے کا بھی ایک کروڑ روپیہ دینا ہے۔

تو جناب یہ ہے آج کل ملک بھر میں بزنس کی صورت حال، ایسے میں اگر حکومت نے جی آئی ڈی سی کی مد میں بڑے بزنس مینوں کو 208ارب روپے معاف کرنے کا صدارتی آرڈیننس نکالا تو ہر کوئی لٹھ لے کر حکومت کے پیچھے پڑگیا، حالانکہ حکومت کا مقصد یہ تھا کہ جی آئی ڈی سی کے قضیے کو ختم کرکے ان بڑے بزنس مینوں کو کاروبار کے لئے سرمایہ لگانے کی طرف راغب کیا جائے، لیکن ایسا نہ ہوسکا اور اب ایک مرتبہ پھر جی آئی ڈی سی کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا ہے اور معیشت کی فوری بحالی کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر ملک میں کاروباری سرگرمیاں بحال کیوں نہیں ہو رہی ہیں تو اس کا سیدھا سیدھا جواب یہ ہے کہ چونکہ حکومت نے ترقیاتی کاموں پر توجہ نہیں دی ہے، اس لئے ملک بھر میں کاروباری سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں۔ ہوتا یہی ہے کہ اکانومی کے اندر یا تو حکومت خود ترقیاتی کاموں کے نام پر روپیہ پھینکتی ہے یا پھر بڑے کاروباری گروہوں کو ایسی ترغیبات دی جاتی ہیں جس سے وہ ملک میں سرمایہ کاری کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ اس سے ہمیں اوباما کے دور میں ہونے والا ایک واقعہ یاد آیا۔

جب امریکہ میں کاروں کی انڈسٹری بحران کا شکار ہوئی تو بے تحاشا مزدور بے روزگار ہو گئے۔ حکومت نے کاروباری مسائل سننے کے لئے امریکی صدر اور آٹو انڈسٹری کے بڑے گروپوں کے درمیان ایک میٹنگ رکھی جس میں امریکی آٹو کمپنیوں نے کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے لئے 20ارب ڈالر کی خطیر رقم کا مطالبہ کیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی آٹو کمپنیوں کے مالکان یہ میٹنگ اٹینڈ کرنے کے لئے اپنے پرائیویٹ جہازوں میں واشنگٹن سے آئے تھے۔

ہمارے یہاں انڈسٹریلسٹ کو ہمیشہ چور سمجھا گیا ہے اور اس میں بڑا کردار خود حکومتی اداروں، خاص طور پر ایف بی آر کا رہا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اگر حکومت کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے لئے کوئی ایسا اقدام اٹھاتی ہے تو فوری طور پر حکومت کے اندر اور باہر ایک لابی حرکت میں آجاتی ہے اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنالیتی ہے۔ نتیجہ وہی نکلتا ہے جو جی آئی ڈی سی کے صدارتی آرڈیننس کا ہوا ہے۔

تاہم پی ٹی آئی حکومت کا ایک اور المیہ بھی یہ ہے کہ گزشتہ دو ادوار کے دوران عمران خان نے ہر بات میں مین میخ نکال نکال کر ملک کے اندر ایک ایسی فضا پیداکردی ہے کہ اب ان کا اپنا کہا ہی بار بار ان کے سامنے آرہا ہے اور کئی ایک محاذ پر آرہا ہے اور انہیں بالآخر یہ کہنا پڑا ہے کہ وہ یوٹرن لے لے کر وزیر اعظم بن گئے اور ان کے مخالفین آج جیلوں میں پڑے ہیں۔ پی ٹی آئی اب حکومت میں آئی ہے تو اسے اندازہ ہوا ہے کہ ملک میں معیشت کو رواں دواں رکھنے کے لئے کون کون سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ خالی کرپشن کے خلاف کاروائیوں سے ملکی معیشت کا بھٹہ اسی طرح بیٹھ جایا کرتا ہے جس طرح اس وقت بیٹھ چکا ہے۔

کرپشن کے حوالے سے بھی سن لیجئے کہ کسی بھی ملک میں سسٹم کی مثال ایک بھینس کی ہوتی ہے جو کیچڑ میں لت پت رہنا پسند کرتی ہے، ادھر آپ اسے نہلاتے دھلاتے ہیں اور ادھر وہ کسی جوہڑ میں جا گھستی ہے یا پھر زمین پر دھرنا مار کر بیٹھ جاتی ہے۔ عقلمندی یہ نہیں ہوتی کہ ہر وقت اس بھینس کو چمکاتے رہیں بلکہ عقلمندی یہ ہوتی ہے کہ اس کے تھنوں کو دھو کرکے دودھ نکال لیا جاتا ہے۔ ملک کے اندر معاشی نظام بھی ایسے ہی چلتا ہے اور موجودہ حکومت یہ بات جتنی جلدی سمجھ لے گی، اس کے لئے اتنا ہی اچھا ہوگا!

مزید : رائے /کالم


loading...