ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر کا معاملہ

ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر کا معاملہ

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے باوجود رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کو اجلاس میں شرکت کی اجازت نہ دینا اسمبلی رولز کی خلاف ورزی ہے۔ فریال تالپور جب تک نیب کی تحویل میں تھیں انہیں اسمبلی اجلاس میں لایا جاتا رہا۔ 16اگست سے جب سے وہ عدالتی حکم پر جیل میں ہیں انہیں اسمبلی اجلاس میں نہیں لایا گیا۔ اس عمل میں پنجاب کی حکومت پوری طرح ملوث ہے، ہم احتساب یا تفتیش سے بھاگنے یا گھبرانے والے نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ قانون پر عمل کریں اور سندھ کے لوگوں سے زیادتی نہ کریں۔ سندھ اسمبلی کا اگلا اجلاس 13ستمبر سے شروع ہونا ہے جس کے لئے سپیکر نے فریال تالپور کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیئے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ فریال تالپور کو پیش کیا جاتا ہے یا نہیں، فریال تالپور کو اسمبلی میں لانے کے لئے سندھ اسمبلی نے 23اگست کو ایک قرارداد بھی پیش کی، لیکن اس قرارداد پر بھی عمل نہیں ہوا، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا استحقاق چھینا جا رہا ہے۔ فریال تالپور کو اجلاس میں شرکت سے روک کر سندھ کے ساتھ زیادتی کا تاثر سامنے آرہا ہے۔

پروڈکشن آرڈر کا مسئلہ صرف سندھ اسمبلی تک محدود نہیں ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی بعض ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد ان احکامات کی من مانی تشریحات بھی سامنے آتی رہتی ہیں، حالانکہ جب کسی سپیکر نے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیا تو پھر اس میں مین میخ نکالنے کی بجائے گرفتار رکن کو سیدھے سبھاؤ اجلاس میں پیش کردینا چاہئے اور اس مقصد کے لئے قانون کے تحت طریق کار اختیار کرنا چاہئے اور کسی بھی حکومت کو یا کسی عہدیدار کو اس سلسلے میں اپنی انا، ضد، یا ہٹ دھرمی کو درمیان میں نہیں لانا چاہئے۔ اگر کچھ لوگ کسی حکمران کو پسند نہیں ہیں تو وہ اس کی اپنی ذات کا مسئلہ ہے جو بھی منتخب لوگ ہیں اجلاس میں شرکت ان کا استحقاق ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا ہے کہ وہ ہر کیس میں جائزہ لے کر پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہیں انہیں بھی بلاتخصیص تمام گرفتار ارکان کے آرڈر جاری کرنے چاہیں اور یہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ کسی اجلاس میں توکسی ایک رکن کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیں اور آئندہ کسی اجلاس میں اپنے ہی طے کر دہ طریق کار کی مخالفت کرتے ہوئے پروڈکشن آرڈر روک لیں۔ قومی اسمبلی کے دو ارکان تو ایسے ہیں جن کے پروڈکشن آرڈر آج تک جاری نہیں ہوسکے۔ حالانکہ وہ بھی دوسرے گرفتار ارکان ہی کی طرح کے رکن ہیں اور ملکی قانون کے تحت ہی گرفتار ہوئے ہیں، ارکان کے ساتھ اس طرح کا امتیازی سلوک کسی طور پر مناسب نہیں اگر کسی رکن کا پروڈکشن آرڈر کسی خاص وجہ سے جاری نہیں، ہوسکتا تو اس کی وضاحت ہونی چاہئے۔ ایسا نہیں کہ ایک بار کسی رکن کا آرڈر روک لیا اور اگلی بارکسی دوسرے کا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے فریال تالپور کا جو معاملہ اٹھایا ہے اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ وہ جب تک نیب کی حراست میں رہیں اس وقت تک تو ان کے پروڈکشن آرڈر پر انہیں اسمبلی میں باقاعدگی سے لایا جاتا رہا، لیکن جب سے انہیں عدالتی حکم پر پنجاب کی جیل میں بھیجا گیا ہے اس وقت سے ان کے احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، حالانکہ آرڈر جاری کرنے والی اتھارٹی پہلے والی ہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ان کے احکامات پر پہلے عمل ہورہا تھا اور محترمہ فریال تالپور کو نیب کی حراست سے اسمبلی کے اجلاس میں لایا جاتا تھا تو کیا وجہ ہے کہ اب اس اتھارٹی کے احکامات پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ فرق غالباً یہی پڑا ہے کہ اب کی بار درمیان میں پنجاب حکومت آگئی ہے اور کسی وجہ سے وہ نہیں چاہتی کہ فریال تالپور کو اسمبلی اجلاس میں جانے دیا جائے، اگر ایسا ہے تو حکومت کو اس کی وضاحت بھی کرنی چاہئے اور یہ بھی بتانا چاہئے کہ کس قانون اور کس چہرے کی خوشنودی کے لئے ایسا کیا جا رہا ہے۔

جہاں تک پنجاب اسمبلی کے سپیکر کا تعلق ہے انہیں جب سے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا اختیار ملاہے وہ بلا امتیاز حکومت اور اپوزیشن تمام ارکان کے آرڈر جاری کر رہے ہیں اور ان کے حکم پر گرفتار ارکان کو اسمبلی میں لایا جاتا ہے یہ ارکان اگر چند گھنٹوں کے لئے اجلاس میں آکر ساتھیوں سے مل لیتے ہیں اور سپیکر کے بھی شکر گزار ہو جاتے ہیں تو اس میں کیا خرابی ہے۔ جہاں تک ان کے خلاف مقدمات کا تعلق ہے وہ تو ابھی عدالتوں میں چل رہے ہیں اور ابھی سے یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کا اختتام کیا ہوگا اور ان مقدمات میں سزایاب ہوں گے یا بری ہو جائیں گے۔ اس لئے کسی سزا سے پہلے یہ فرض کرلینا کہ فلاں رکن چونکہ ”سنگین جرائم“ میں ملوث ہے اس لئے اسے اسمبلی میں نہیں لایا جاسکتا، بچگانہ دلیل ہے، جس جرم میں کوئی رکن ماخوذ ہو وہ سنگین ہو یا ہلکا، اس کا فیصلہ توسزا ملنے کے بعد ہی ہوگا۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کو کسی ”سنگین جرم“ میں وزارت عظمیٰ سے نہیں ہٹایا گیا انہیں صرف اس لئے ہٹایاگیا کہ انہوں نے اپنی وہ تنخواہ جو وصول بھی نہیں کی تھی، اپنے اثاثوں میں ڈیکلیئر نہیں تھی، حالانکہ ایک ڈکشنری کی تعریف کی رو سے یہ ”اثاثہ“ تھی، یہ ایک لحاظ سے ”معمولی“ جرم ہے لیکن انہیں ملک کے چیف ایگزیکٹو یا وزارت عظمیٰ سے نااہل کر گیا، اس لئے کوئی بھی سزا ملنے سے پہلے کسی کو من مانے فیصلے یا تشریحات نہیں کرنی چاہئیں اور سپیکر کو پروڈکشن آرڈر کے سلسلے میں اپنے تمام اختیارات بلاتفریق استعمال کرنے چاہیں۔ فریال تالپور کے معاملے میں پنجاب کی حکومت اگر کوئی امتیازی سلوک کر رہی ہے تو وہ بھی ناروا ہے، سپیکر سندھ کے حکم پر انہیں اسمبلی اجلاس میں جانے دینا چاہئے جو 13ستمبر سے شروع ہو رہا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...