سوشل میڈیا، توہین کرنے والوں کے خلاف کارروائی!

سوشل میڈیا، توہین کرنے والوں کے خلاف کارروائی!

حکومت نے سوشل میڈیا کی درستگی کا بھی فیصلہ کر لیا ہے اور عاشورہ محرم کے بعد ایف آئی اے کا سائبرونگ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی شروع کرے گا جو اپنے اکاؤنٹس کا غیرمہذب اور غلط استعمال کرتے ہیں۔ گالی گلوچ اور دوسروں کی توہین اور ذہنی اذیت پہنچانے والے اکاؤنٹس نہ صرف بند کر دیئے جائیں گے بلکہ ایسے اکاؤنٹ والوں کے خلاف سائبر ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے ان کو گرفتار بھی کیا جائے گا۔یہ ایک مناسب اور درست فیصلہ ہے کہ غلط کار اور منفی ذہنیت کے حامل حضرات و خواتین اس جدید مواصلاتی سہولت کا بہت ہی غلط استعمال کرتے ہیں۔ بلیک میلنگ اور پورنوگرافی کے کئی کیس سامنے آئے۔ ایف آئی اے کے سائبرونگ نے معلومات درج کرکے گرفتاریاں بھی کیں لیکن اس جرم کے رجحان میں پوری طرح کمی نہیں آ سکی بہرحال جتنی بھی کارروائی اب تک ہوئی وہ بھی جرم کو روکنے میں ایک حد تک کامیاب رہی اگر موثر کام ہو تومزید بہتری آ سکتی ہے۔ اب حکومت نے جو فیصلہ کیا اس سے بہت فرق پڑ سکتا ہے بشرطیکہ ایف آئی اے کے اہلکار اور افسرتندہی سے کام کریں۔ اس سلسلے میں جعلی اکاؤنٹس کا پتہ لگا کر ان کو بند کرنا اور استعمال کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لانا ہی بہتر نتائج دے گا۔یہ شکائت بجا اور درست ہے کہ نہ صرف ہمارے ملک بلکہ دنیا بھر اور جنوبی ایشیا کے ممالک میں اس میڈیاکے ذریعے دوسروں کی توہین کرنا، ان کی عزت خراب کرنا اور فضول قسم کی الزام تراشی عام ہے۔ سوشل میڈیاکے نام پر لوگوں نے غلط سلط خبریں اور افواہیں پھیلانا بھی شروع کر رکھا ہے جبکہ فرقہ وارانہ زہر بھی پھیل رہا ہے۔اس سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی ناروا روایات نقل کی جاتی ہیں جو دوسروں کو مشتعل کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ ایسی پوسٹیں زہرآلود ہیں اور معاشرے میں تباہی کا باعث بن رہی ہیں ان کی روک تھام نیک کام ہے۔اس سلسلے میں گزارش ہے کہ دورجدید میں یہ مواصلاتی آلہ جہاں مفید تر ہے وہاں زہر بھی گھول رہا ہے۔ اگرچہ ایسا کرنے والوں کا سراغ لگانا مشکل نہیں، تاہم اس کے لئے ایف آئی اے کے پاس بھی برتر آلات، علم اور سہولتوں کی ضرورت ہے جبکہ اس میڈیا کے مالکان سے روابط بھی ضروری ہیں کہ سراغ رسی میں ان کا تعاون لازم ہے اور اکاؤنٹ کا پتہ لگانے کے علاوہ ان کو بند اور ختم کرنا بھی انہی کے تعاون سے ممکن ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اگر حکومت اپنے فیصلہ میں سنجیدہ ہے تو اسے ایف آئی اے کے سائبرونگ کو بھی تمام تر جدید سہولتوں سے آراستہ کرنا ہو گا، تاہم کارروائی بالکل غیر امتیازی اور غیر جانبدار ہونا چاہیے کہ بے ہودگی کا مظاہرہ اور دوسروں کی توہین اور بلیک میلنگ کرنے والوں ہی کے خلاف کارروائی ہو ایسا نہ ہو کہ سوشل میڈیا پر بھی مخالف اور تنقید کرنے والے ہی زد میں آجائیں۔ میڈیا جو حبس میں سانس لینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے اور اس سے گھٹن میں کمی آتی ہے آج کل کے حالات میں سوشل میڈیا پر انحصار اس لئے بڑھ گیا ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر غیر مرئی پابندیاں ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...