بھمبر عوامی اتحاد کی قیادت

بھمبر عوامی اتحاد کی قیادت
بھمبر عوامی اتحاد کی قیادت

  


بھمبر عوامی اتحاد کی مقبولیت سے گھبرائے ہوئے لوگ اس طوفان کے آگے تنکوں سے بند باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جب کوئی منفی بات نہیں ملی تو قیادت کا سوال اٹھا رہے ہیں.... ارے سوچتے نہیں ہو، جب طوفان اٹھتے ہیں تو ایک پتھر بھی آگے لگ جائے تو اس کا راستہ بھی روکا نہیں جا سکتا۔ یہاں تو سب انسان ہیں۔ پہلے یہ دیکھیں کہ بھمبر عوامی اتحاد ہے کیا؟ دوسرا یہ سوچیں کہ قیادت کی تعریف کیا ہوتی ہے؟ ایک قیادت وہ ہوتی ہے جو نفرت کا نعرہ لگا کر انتشار پیدا کرتی ہے۔ ایک قیادت وہ بھی ہوتی ہے جو جوش خطابت سے لوگوں کو ورغلا لیتی ہے، ایک قیادت وہ ہوتی ہے جو عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر ملک کو لوٹ لیتی ہے، جبکہ ایک قیادت وہ ہوتی ہے، جو زمینی حقائق کا ادراک رکھتی ہے، عوام کے مسائل کو سمجھتی اور ان کا حل جانتی ہے، جو آج کا بندوبست اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔

بھمبر عوامی اتحاد مجموعہ ہے ایسے لوگوں کا جو آپ سے الگ سوچتے ہیں۔ جو اس فرسودہ نظام کے باغی ہیں۔ یہ حق اور سچائی کا ایسا ریلا ہے جس کے سامنے بدعنوانی، برادری ازم اور مفاداتی سیاست کی دیواریں ریت ثابت ہوں گی، اس اتحاد کا بچہ بچہ قیادت کے قابل ہے۔ یہ اتحاد تو قیادت کا خالق ہے۔ اس کو قیادت کے فقدان کا سامنا کیسے ہوگا؟ آپ جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اسی معاشرے کے مطابق سوچیں گے،آپ کے نزدیک تو لیڈر وہ ہے جو آپ کو ذاتی فائدہ پہنچا رہا ہوتا ہے، اس لیے آپ کی آنکھوں کو دیوار کے پیچھے نظر آتا ہے، نہ آنے والے کل کے طوفان کی آواز سن سکتے ہیں۔

آپ کو کبھی کبھار یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور دنیا کہاں ہے؟ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آج سے بیس برس بعد اور 50 برس کے بعد ہم یا ہماری نسلیں کہاں کھڑے ہوں گے؟ آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ تیزی سے ختم ہوتی ہماری زرعی زمین کا متبادل کیا ہے؟ کبھی سوچا کہ ہمارے درختوں کی تعداد بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے؟ آپ نے کبھی خیال کیا کہ جس تناسب سے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے اور جس طرح کا ہمارا رہن سہن ہے، آج سے 50 برس بعد ہمارے لیے مکان یا قبر کی جگہ ہو گی یا نہیں؟ بڑھتی ہوئی ٹریفک کے مسائل کبھی آپ کے ذہن میں آئے ہیں؟ بڑھتی بیماریوں اور خستہ حال ہسپتالوں کی بابت کبھی سوچا ہے؟ آپ نے کبھی سوچا کہ ایک وقت وہ تھا جب دنیا میں لوگ راستوں کی تلاش اور سمتوں کا تعین آسمان کے ستاروں کی مدد سے کیا کرتے تھے۔

آج پوری دنیا اور سمندروں کا نقشہ ہمارے ہاتھ میں موجود موبائل میں بند ہے۔ ہم دنیا کے جس کونے پر ہوں، گوگل میپ کی مدد سے کسی بھی پتہ پر پہنچ جاتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں آج بھی رمضان اور عید کے چاند کا جھگڑا ہے؟ آپ نے کبھی اندازہ کیا ہے کہ ایک سال میں دنیا کے تمام مسلمان ممالک میں جتنی کتابوں کا ترجمہ ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ صرف سپین میں ہوتا ہے جس کی آبادی پاکستان کا ایک چوتھائی ہے، آپ نے کبھی سوچا کہ ہماری بچیاں کیسی زندگی گزار رہی ہیں اور ہمارے خاندانی جھگڑوں کی وجوہات کیا ہیں؟ یہ تو بہت لمبی لسٹ ہے۔ چھوڑیں اس کو، آپ تو وہ لوگ ہیں جو لیڈر کو گلیوں کی ترقی پر پرکھتے ہیں۔ بس یہ بتائیں کہ ہمارے ہاں ترقی ہوئی ہی کیا ہے جس کا کریڈٹ ہم کسی کو دیں اور دوسرے کو نہ دیں؟ ترقی کا تعلق ذہنوں سے ہوتا ہے گلیوں یا نالیوں سے نہیں۔

پاکستان میں جتنے کل پی ایچ ڈی افراد ہیں اس سے 10 گنا زیادہ صرف لندن میں ہیں اور جتنے سارے مسلم ممالک میں ہیں، اس سے زیادہ صرف اسرائیل میں ہیں۔ ہم جہالت کے مقابلے میں علم چاہتے ہیں، ہم اندھیرے کے مقابلے کے لیے روشنی لانا چاہتے ہیں۔ ہم گندگی کے مقابلے میں صفائی کا نظام متعارف کروانا چاہتے ہیں۔ ہم بدعنوانی کے مقابلے میں ایمانداری کو لانا چاہتے ہیں۔ ہم فر عونیت کے مقابلے میں شریعت موسوی چاہتے ہیں۔ ہم ابوجہل کے پھیلائے ہوئے اندھیروں کے مقابل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور لانا چاہتے ہیں۔ ہم فطرت کے راستے تراشنا چاہتے ہیں۔ ہم آج وہ درخت لگانا چاہتے ہیں، جس کی چھاؤں میں ہم نہیں، بلکہ آپ کے اور ہمارے بچے بیٹھیں گے۔ آپ کو بلاجھجک اور بلا تاخیر ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔ راہنماوں کا کام سوچنا ہوتا ہے۔ آج کا بندوبست کرنا اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہوتا ہے، سڑکیں یا گلیاں بنانا نہیں۔ ترقی نالیوں سے نہیں تحقیق اور تخلیق سے ہوتی ہے۔ اب میں آپ کو بھمبر عوامی اتحاد کی قیادت کا تعارف کروا دوں۔ میجر جہانگیر, جن کے متعلق یہ کہا گیا کہ جلسے میں کوئی پیغام نہ دے سکے، ان کا پیغام تو ہر اس شخص تک پہنچ چکا ہے جو سوچتا ہے۔

میجر صاحب کو آزادکشمیر کے کسی بھی لیڈر کے مدمقابل رکھ کر سوچیں اور فیصلہ خود کریں۔ ان کی تعلیم و تربیت اور تحریر و تقریر کا مقابلہ کون کر سکتا ہے؟ محمد علی اختر صاحب جماعت اسلامی بھمبر کے امیر رہ چکے ہیں اور جماعت اسلامی وہ ہے جو چھاننی سے نہیں، بلکہ چھاچھ سے پُن کر قیادت دیتی ہے۔ ندیم مندیال صاحب کا لوہا تو ہر ذی شعور مانتا ہے۔ ہمارے ڈاکٹر احسان صاحب کے قریب جا کر دیکھو تو اندازہ ہوگا کہ کتنی گہری سوچ اور دور اندیشی کے مالک ہیں۔ چوھدری ذوالفقار صدیق جنہوں نے انگلینڈ سے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ برطانوی نظام کو بہت قریب سے دیکھا، ان کی سوچ اور دلیری کو دیکھتے ہوئے کوئی اور لیڈر ان کا مقابل نظر ہی نہیں آتا ہے۔ راقم کی ”میں“ سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری ”میں“ کے اندر درد ہے۔ اپنا پیغام عوام کو دیتے ہوئے ”میں“ ہی بولا جاتا ہے۔ عوامی اتحاد کے اندر کوئی مسئلہ ہے تو وہ قیادت کے فقدان کا نہیں، بلکہ مشکل یہ ہے کہ جب ایک سے بڑھ کر ایک ہو تو پھر انتخاب کیسے ہو؟

مزید : رائے /کالم


loading...