قحط الرجال کے دور میں مبالغہ آرائی

قحط الرجال کے دور میں مبالغہ آرائی

مکرمی! سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ویڈیو سکینڈل کیس کا 25صفحاتی تفصیلی فیصلہ 23اگست 2019ء کو بذریعہ عدالتی ویب سائٹ شائع کر دیا۔ راقم بدقسمتی سے فیصلے کے قانونی رموز سے نابلد ہے، لہٰذا اس پہلو پر کسی قسم کی تبصرہ زنی سے قاصر ہے کہ فیصلے کی رُو سے ”شریفوں“ میں سے کون بچ نکلے گا، کس کی گردن شکنجے میں بدستور پھنسی رہے گی، جج موصوف کا مستقبل کیا ہو گا یا یہ کہ عدالت عظمیٰ نے سارے قضیے سے کہیں خود کو الگ کرکے معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہی پر تو نہیں چھوڑ دیا۔ ویسے بھی عدالتی فیصلوں پر اپنی اپنی عدالتیں لگانے اور فیصلوں کے قانونی نکات کا پوسٹ مارٹم کرنے کا ٹھیکہ خیر سے بریکنگ نیوز کی ”دھائیں دھائیں“ سے سنسنی پھیلانے والے بزعم خود ہر فن مولا ٹی وی اینکروں اور ان کے ہمراہ دور دور کی قانونی کوڑیاں لانے والے سیاسی و غیرسیاسی بقراطوں اور ریٹائرڈ عسکری نیم حکیموں کی فوج ظفر موج نے لے رکھا ہے جو سرشام سے نصف شب تک ٹی وی سکرینوں پر ڈیرے ڈالے رہتے ہیں۔ البتہ، فیصلے میں قانونی پہلوؤں سے ہٹ کر درج دو ایک اہم نکات پر یہ ناچیز اپنی گزارشات ضرور پیش کرنا چاہتا ہے۔ فیصلے میں فرمایا گیا ہے کہ جج ارشد ملک کی طرف سے قابل اعتراض ویڈیو کے اعتراف سے فاضل بنچ کو شدید دھچکا پہنچا ہے، جج کے کردار سے ملک بھر میں عدلیہ کی بدنامی ہوئی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جج ارشد ملک کے کنڈکٹ (Conduct) سے ہزاروں (جی ہاں، ”ہزاروں“!) ایمان دار، شفاف اور ”اپ رائٹ“ (یعنی باکردار، بے لاگ، بے خوف، معتبر اور محنتی) ججوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں، وغیرہ وغیرہ…… مکرمی! جج ارشد ملک صاحب کے ہاتھوں عدلیہ کی بدنامی اور شرمندگی کے حوالے سے تین رکنی بنچ کا فرمانا بالکل بجا اور سرآنکھوں پر! تاہم، دست بستہ عرض ہے کہ فیصلے میں دیا گیا یہ تاثر مبالغہ آرائی محسوس ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں انصاف کی فراہمی کے مقدس فریضے سے وابستہ شفاف اور اپ رائٹ جج حضرات کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ وہ اس لئے، مکرمی کہ ہمارا تو قومی المیہ ہی یہ ہے کہ جہاں اہلیت و قابلیت کا ذکر آئے، وطن عزیز کا کم و بیش ہر ادارہ، ہر محکمہ اور ہر شعبہ بدقسمتی سے قحط الرجال کی تصویر نظر آتا ہے اور بالفرض، اوصافِ حمیدہ کے حامل ججز کی تعداد حال اور ماضی کے حوالے سے اگر واقعی ہزاروں میں بنتی ہے تو پھر حضور والا، پیارے وطن میں ہر سطح کی عدالتوں کے طریقہ ہائے کار، زیر سماعت و زیر التواء ہزاروں مقدمات اور فراہمیء انصاف کی عمومی صورت حال مستقلاً اتنی گھمبیر اور دگرگوں کیوں چلی آ رہی ہے؟ مکرمی، چلئے سینکڑوں ہزاروں نہ سہی بس صرف آٹھ دس، بارہ پندرہ ”اپ رائٹ“ اور ”شفاف نگینوں“ ہی کے نام گنوانے میں مدد فرما دیجئے کہ وہ کرم فرما کون کون سے ہیں اور کہاں کہاں دستیاب ہیں، تاکہ ہم غریب الوطنوں کی اتنی سی دل جوئی اور اطمینان تو ہو جائے کہ ”ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں ہے!“…… آخر میں برسبیل تذکرہ مزید عرض ہے کہ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی قابل اعتراض ویڈیوز بھی توبڑے زور و شور سے منظر عام پر آئی تھیں، نجانے وہ معاملہ اس وقت ”احتساب“ کے کس مرحلے پر ہے۔ اللہ جانے کون بشر ہے!

(مکرر: چلتے چلتے ذرا سا تفنن! راقم نے زیر نظر مراسلے کا مسودہ مکمل کرکے رکھا تو کچھ دیر بعد صاحبزادی نے آن کر میز سے اُچک لیا، انہماک سے پڑھا اور پھر بے اعتنائی سے واپس رکھتے ہوئے چٹکلا چھوڑا کہ فاضل چیف جسٹس صاحب نے فیصلے میں اپ رائٹ ججوں کی تعداد کے حوالے سے اگر لفظ ”ہزاروں“ تحریر نہ کیا ہوتا تو اس ناچیز کو یہ مراسلہ لکھنے کی اُچکل ہی نہ ہوتی۔ بات تو درست ہے بیٹی صاحبہ کی! پاکستان زندہ باد (ندیم اصغر، لندن، برطانیہ)

مزید : رائے /اداریہ


loading...