حکومت کا ریکوڈ یک کیس کا جرمانہ چیلنج کرنے کااعلان، اتنا زیادہ ہر جانہ ادا نہیں کرسکتے: عمر ایوب 

حکومت کا ریکوڈ یک کیس کا جرمانہ چیلنج کرنے کااعلان، اتنا زیادہ ہر جانہ ادا ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)حکومت نے ریکوڈیک میں پاکستان کو ہونیوالے جرمانے کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا،وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو ریکوڈک کیس میں 6.2ارب ڈالر جبکہ کارکے کیس میں 1.2ارب ڈالر جرمانہ ہوا،پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، ہم اتناجرمانہ اداکرسکتے ہیں نہ ہی برداشت،اسلئے ریکوڈک کیس میں جرمانہ چیلنج کرنے جارہے ہیں،گزشہ حکومت کی پالیسی کیوجہ سے ریکوڈک کیس میں جرمانہ ہوا،پاور کمپنیاں سے عدالت سے باہر سیٹلمنٹ کی جارہی ہے یہ طریقہ اس لئے اپنایا جارہا ہے کہ کہیں یہ کمپنیاں باہر کے ممالک میں آربٹیریشن میں نہ چلی جائیں،ہم نے میرٹ سے ہٹ کرکسی کوکوئی رعایت نہیں دی، شفافیت موجودہ حکومت کا طرہ امتیازہے،  وزیراعظم کی ہدایت پر عوام کوحقائق سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں، گزشتہ حکومت بیوقوفانہ انداز میں سسٹم چلا رہی تھی، بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری ہماری ترجیح ہے۔پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے،روش پاور کے ساتھ گیس معاہدہ 2016 ء میں ہوا،انہیں پہلے لوکل گیس مل رہی تھی جیسے ایل این جی میں تبدیل کیا گیا اگر کوئی ادارہ میرٹ لسٹ پر آتا ہے تو ہم انرجی کاسٹ پر فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ پلانٹ1994 کی پاور پالیسی کے تحت لوکل گیس پر لگا جو 425 میگاواٹ کا کمبائن سائیکل پلانٹ ہے۔ روش پاور کا ڈیڑھ ارب کیپیسیٹی چارجز کا بقایا ہے، گزشتہ دور حکومت میں آئی پی پیز کو دینے کیلئے رقم موجود نہیں تھی،گزشتہ حکومتوں نے آئی پی پیزپربہت زیادہ بوجھ ڈالا، روش پاور کمپنی اور دیگر 11 کمپنیوں نے آر بیٹریشن سے رابطہ کیا تھا۔ روش پاور نے مقامی مصالحت سے رابطہ کیا، جو کمپنیاں اپنے کیس بین الاقوامی مصالحت میں لیکر  گئیں ہیں ان پر بھی حکومت کو 14سے15  ارب روپے دینے پڑ رہے ہیں، یہ پاور کمپنیاں عالمی عدالت میں سابق حکومت کی احمقانہ پالیسیوں کی وجہ سے گئیں، ہم ان کمپنیوں کی پیمنٹ بھی کر رہے ہیں اور سرکلولر ڈیٹ کے جن پر بھی قابو پا رہے ہیں، ان کمپنیوں کا گیس سیلز ایگریمنٹ تبدیل نہیں کیا گیا، تمام مسائل صاف شفاف انداز میں حل کئے جارہے ہیں،عدالت سے باہر سیٹل منٹ کی جارہی ہے یہ طریقہ اس لئے اپنایا جارہا ہے کہ کہیں یہ کمپنیاں باہر کے ممالک میں آربیٹیریشن میں نہ چلی جائیں،ہم نے میرٹ سے ہٹ کرکسی کوکوئی رعایت نہیں دی،ان کمپنیوں کا گیس سیلز ایگریمنٹ تبدیل نہیں کیا گیا۔ 

ریکوڈیک جرمانہ چیلنج 

مزید : صفحہ اول


loading...