امریکی سینٹ کا کمانڈ ر کی جنرل باجوہ سے ملاقات ، کشمیر، افغانستان علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر بات چیت 

    امریکی سینٹ کا کمانڈ ر کی جنرل باجوہ سے ملاقات ، کشمیر، افغانستان علاقائی ...

  



راولپنڈی، واشنگٹن(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینٹ کام کے کمانڈرجنرل کینتھ ایف مکینزی نے ملاقات کی جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف سے کمانڈر سینٹ کام جنرل کنیتھ مکینزی کی قیادت مِیں امریکی وفد نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔ ملاقات میں جیو اسٹریٹیجک اورعلاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، کشمیر اور افغانستان کی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات اور امن معاہدہ منسوخ کرنے کے بعد امریکی سینٹ کام کمانڈر ہیں جو پاکستانی عسکری قیادت کے ساتھ ملاقات اور مشاورت کیلئے پاکستان پہنچے ہیں۔دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے افغان طالبان سے مذاکرات گہرے اختلافات کے باعث منسوخ ہوئے۔ امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا امریکہ اب بھی طالبان کے ساتھ امن معاہدہ چاہتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے سی این این اور این بی سی کو انٹرویو میں امریکی صدر کے مذاکرات منسوخ کرنے کے اقدامات کو درست قرار دیا اور امن معاہدے کی خواہش کا بھی اظہار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کئے گئے وعدوں پر عمل نہیں کرتے۔ صدر ٹرمپ طالبان پر دباؤ کم نہیں کریں گے، صدر ٹرمپ کا مذاکرات منسوخ کرنے کا فیصلہ د رست ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات گہرے اختلافات کے باعث منسوخ ہوئے، مذاکرات کے دوران طالبان کی جانب سے کیے جانیوالے حملوں کا جواز نہیں تھا۔نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام ٹرمپ کی طالبان وفد سے ملاقات سے قبل معاہدے کو فائنل کرنا چاہتے تھے، طالبان نے معاہدہ طے پانے سے پہلے افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات سے انکار کیا۔ طالبان رہنما نے امریکی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگر صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ حکومت اورطالبان میں محاذ آرائی کو واشنگٹن کی ایک میٹنگ میں حل کرسکتاہے تویہ ممکن نہیں۔ترجمان افغان حکومت نے کہا کہ طالبان کے قول و فعل میں تضاد ہے تو وہ شک اور اظہار تشویش کریں گے، انہوں نے مزیدکہا کہ افغان حکومت کو کسی بھی امن مذاکرات سے الگ نہیں کرنا چاہیے۔ادھر افغان طالبان نے کہا ہے کہ جنگ کی جگہ سمجھوتے کا راستہ اختیار کیا جائے تو وہ بھی تیار ہیں۔ توقع ہے کہ امریکا سمجھوتے کی پوزیشن میں واپس آئے گا۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے، اگر جنگ کی جگہ افہام وتفہیم کا راستہ اپنایا جائے تو ہم آخر تک اس کیلئے تیار ہوں گے اور امریکہ سے سمجھوتے کی پوزیشن میں واپس آنے کی توقع کرتے ہیں۔افغان طالبان کے ترجمان نے واضح کیا کہ اٹھارہ سال کی جدوجہد نے امریکہ پر واضح کردیا ہم اپنا وطن کسی کے حوالے نہیں کریں گے۔

سینٹ کام کمانڈر

مزید : صفحہ اول


loading...