زیر حراست افراد کی ہلاکت‘ تشدد کے واقعات پر افسران کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

  زیر حراست افراد کی ہلاکت‘ تشدد کے واقعات پر افسران کیخلاف کارروائی کا ...

  



ملتان (وقا ئع نگار) آئی جی پنجاب نے صوبہ بھر کے تھانوں میں زیر حراست افراد کی ہلاکتوں و تشدد کے واقعات کے اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سخت نوٹس لے لیا ہے۔اور ساتھ ہی آئندہ ایسے واقعات رونما ہونے پر متعلقہ پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اسکے علاؤہ پنجاب کے پولیس افسران میڈیا کو اپنا انٹرویوز نہیں دیں گے معلوم ہوا ہے حالیہ چند دنوں میں پنجاب کے مختلف اضلاع کے تھانوں میں شہریوں کی ہلاکت اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا نظر آیا ہے۔جس(بقیہ نمبر54صفحہ12پر)

کی وجہ سے پنجاب پولیس بدنامی اور تنقید کا نشانہ بنی ہے۔اور اس کا مورال ڈاؤن ہوا ہے۔اسی حوالے صوبائی پولیس افسران نے ملتان سمیت صوبہ بھر کے ریجنل اور ضلعی پولیس افسران کی ماہانہ کارکردگی غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔کیونکہ پولیس افسران کو اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے وضع پالیسی سے آگاہ کیا ہوا تھا۔جس میں تشدد کرنا صفر ہے۔ائی جی پنجاب نے صوبہ کے تمام پولیس افسران کو ہدایت کی ہے۔کہ آئندہ ایسے واقعات کی تدراک کیلئے ٹھوس عملی اقدامات کریں۔ تھانوں اور فرنٹ ڈیسک کے کیمروں کے ذریعے مانٹرنگ سخت کریں۔ صوبائی پولیس افسران کے مطابق پولیس کی تحویل میں شہریوں کی موت اور تشدد کے واقعات میں اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ پولیس افسران اپنے فرائض منصبی انجام دینے میں بالکل ناکام نظر ائے رہے ہیں۔جس پر انہوں نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آئندہ جس ضلع میں شہری کی ہلاکت یا تشدد کا واقعہ رونما ہوگا۔ تو وہاں کا ایس ڈی پی او اور ایس ایچ او ذمے دار ہوگا۔جس کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔اس کے علاؤہ ضلعی سطح پر بنایا گیا شعبہ احتساب کے انچارج کو حکم دیا گیا کہ ایسے واقعات سرزد ہونے پر خود بخود اپنی انکوائری رپورٹ بناکر آئی جی پنجاب آفس بھیجواییں۔مزید برآں آئی جی پنجاب نے ویڈیو لنک کی میٹنگ میں کہا کہ آئندہ کوئی بھی پولیس افسران میڈیا پر اپنا انٹرویوز نہیں دے گا۔

آئی جی برہم

مزید : ملتان صفحہ آخر