عاشورہ محرم اور فلسفہ شہادتِ شبیرؓ

عاشورہ محرم اور فلسفہ شہادتِ شبیرؓ
عاشورہ محرم اور فلسفہ شہادتِ شبیرؓ

  


اسلامی سنِ ہجری کا آغاز محرم الحرام کے مہینے سے ہوتا ہے محرم کا معنیٰ ہیں عزت و احترام والا، قرآن کریم میں ارشاد ہے بےشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے جس دن سے زمین و آسمان تخلیق کئےگے ان میں سے چاربالخصوص حرمت والے ہیں ( سورة التوبہ ۔36 ) تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ ان چارمہینوں سےمراد محرم ، رجب ، ذی القعدہ  اور ذی الحجہ ہیں۔ عام طور پر محرم کی دس تاریخ کویوم عاشور کہا جاتا ہے،یوم عاشور کے معنی ہیں دسواں دن ۔تاریخ اسلام کا اہم ترین واقعہ 10 محرم الحرام کو سیدنا جناب حضرت امام حسین ابنِ علیؓ  کی شہادت کا دن ہے،یہ ایک ایسا اندوہناک سانحہ ہے کہ رہتی دنیا تک اسکی کسک ہر مومن کے دل میں ہر اس موقع پر اٹھتی رہےگی جب جب یہ واقعہ اسکے ذہن میں تازہ ہوتا رہے گا۔ تاریخی روایات کے مطابق جنابِ حسینؓ ابنِ علیؓ 4 ہجری 5 شعبان کو پیدا ہوے،رسولِ خدا ختمی المرتبت ﷺنے انکے منہ مبارک کو اپنے لعابِ دہن سے تر فرمایا ،دعائیں دیں اور حسینؓ نام رکھا ۔آپؓ نے حیاتِ نبویﷺ  کے کئی سال دیکھے، آپؓ کا جسم اطہر رسول خدا ﷺ سے مشابہ تھا، آپؓ  اپنے بڑے بھائی جناب امام حسنؓ کے ساتھ بچپن میں اپنے نانا رسول خدا ﷺ کے دوش اقدس اور سینہ اقدس پر سوار ہو کر کھیلا کرتے تھے،رسول خداﷺ  نے فرمایا کہ حسنؓ و حسینؓ میرے دو پھول اور جوانانِ جنت کے سردار ہیں۔

متعدد احادیث میں مروی ہے کہ باعث تخلیقِ کائنات حضورنبی کریم ﷺبچپن میں حضرت امام حسینؓ کی گردن چوما کرتے تھے، بعض صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہاء کے پوچھنے پر آپﷺ نے فرمایا کہ میرے اس بیٹے کی گردن کاٹی جائے گی اور انہیں شہید کیا جائے گا ،اسطرح آپﷺ جنابِ امام حسنؓ کے لبوں پر بوسہ دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرے اس بیٹے کو زہر سے شہید کیا جائےگا۔ بنو امیہ کی حکومت میں تبدیلی کے وقت جب حضرت امیرمعاویہؓ  کی حیات میں یزید کو اقتدارسونپا گیاتو اسکے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے متعدد صحابہؓ کرام نے اسے حکمران تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا،نواسہ رسولﷺ امامِ عالی مقام حسینؓ ابن علیؓ نے نظام حکومت کی تجدید کےلیئے جدوجہد کا راستہ اختیار کیا دوسری جانب یزید نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ کوحکم دیا کہ وہ امام حسینؓ سے بیعت لے لیکن جناب امام حسینؓ نے بیعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا جو کہ تاریخی جملے ہیں کہ ’ مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا‘اسی دوران اہل کوفہ کی طرف سے آپؓ  کو یہ پیغام ملا کہ آپ کوفہ تشریف لے آئیں ،سب آپؓ  کی بیعت کےلیے تیار ہیں، آپؓ  نے یہ دعوت قبول کرلی اور اپنے نانا حضور نبی کریمﷺ  کے شہرِمدینہ کو چھوڑ کر اپنے خاندان کے افراد کو سفرکےلیے تیارکیا ۔آپؓ نےاپنے نانا علیہ سلام کے مزارِ اقدس پر حاضر ہوکر کوفہ جانے کی اجازت لی اور کم پیش خاندان کے 72 افرادکے ساتھ 60 ہجری کو مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئے  تاکہ فریضہ حج ادا کرسکیں کچھ عرصہ مکہ میں قیام کے بعد آپؓ کو یزید کی سازش کا علم ہوگیا کہ اس نے اپنے بعض جاسوسوں کو حجاج کی صورت میں بیت اللہ جانے اور آپؓ  کو شہید کرنے کا پروگرام بنایا ہے، آپؓ نے اس سازش کےبے نقاب ہونے کے بعد حج کو عمرے میں تبدیل کرکے کوفہ جانے کا ارادہ کیا لیکن بعض بااثر افراد نے آپؓ کو مکہ معظمہ میں ہی رہائش اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کوفہ کے لوگ بے وفا اور دھوکے باز ہیں ان پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا، وہ جناب امامِ علیؓ کرم اللہ وجہہ کو بھی دھوکہ دیتے رہے اور آپؓ کے بھائی جناب حسنؓ کو بھی دھوکہ دیا، آپؓ مکہ میں ہی قیام کریں، ہم ہر صورت آپکے ساتھ ہیں لیکن آپؓ  یہ جان چکے تھے کہ یزید انہیں قتل کرنے کے لئے مکہ اور مدینہ میں خون ریزی کرانے سے بھی باز نہ رہے گا ۔آپؓ نےاہل مکہ سے کہا کہ میں حرم شریف میں قتل ہونا نہیں چاہتا، اسوقت آپؓ کے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیلؓ کوفہ میں تھے جن کے توسط سے آپ کو اہل کوفہ کے ہزاروں دعوت نامے وصول ہوچکے تھے، آپؓ کے اس سفر کا بنیادی مقصد قرآنی قوانین کا نفاذ اور دین اسلام کے قواعدو ضوابط کی پابندی کو فروغ دینا تھا۔

یزید نے کوفہ کے گورنر عبیداللہ ابن زیاد کو یہ ذمہ داری سونپی کے وہ بہرصورت امام حسینؓ سے بیعت لے، ابنِ زیاد نے عمربن سعد اور شمر کوایک لشکر دے کرجوکہ دنیا کے لالچ و حرص سے لبریز تھا امام حسینؓ  کے مقابل بھیجا جس نے کربلا کے میدان میں امام حسینؓ کے قافلے کو 2 محرم الحرام کو روک لیا 7 محرم کو امام کے قافلے پر پانی بند کردیاگیا ،یزید کے یہ عزائم جان کر آپؓ  نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جو مجھے چھوڑ کر واپس جانا چاہے اس پر کوئی پابندی نہیں اور یہ کہہ کر چراغ بھجا دیا کہ اگر کوئی اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر جانا چاہے تو چلا جائے لیکن کوئی ایک شخص بھی واپس جانے کو تیار نہ تھا، یزیدی فوج نے دریا کے پانی تک آپکی رسائی پرپابندی عائد کردی تھی، 8سالہ معصومہ حضرت بی بی سکینہ اور 6 ماہ کے جناب شہزادہ علی اصغرؓ جیسے معصوم بچے پیاس سے بلبلا رہے تھے اور العطش العطش کی صدائیں گونج رہی تھیں، آپؓ کے بھائی جناب حضرت عباسؓ علمدار سے بچوں کی یہ صدائیں سنی نہ گئیں تو وہ پانی لینے چلے گئے مگر یزیدی لشکر نے انہیں راستے میں گھیرلیا اور انکے پہلے دونوں بازو قلم کئے اور بعدازاں انہیں شہید کردیا ،سب انصار شہید ہوچکے تو امام حسینؓ  اپنے چھ ماہ کے بیٹے علی اصغرؓ کو گود میں اٹھائے یزیدی لشکر کی طرف گئے اور کہا کہ اس بچے کےلیے تو پانی فراہم کرو لیکن شمر لعین کے کہنے پر حرملہ نے سہ شعبہ تیر مار کر شہزادہ علی اصغرؓ  کو شہید کردیا ۔

آپؓ ننھے شہید کو گود میں اٹھائے اپنے خیموں کی طرف گئے تو ہر طرف آہ بکا کی آوازیں بلند ہونے لگیں ،اسکے بعد یزیدی فوج نے آپؓ کو نشانہ بنانا چاہا نماز کا وقت تھا، آپ سجدے میں تھے کہ ظالم یزیدی فوج نے آپؓ کو بےدردی سے شہید کرکے سرِ اقدس تن سے الگ کردیا اور آپؓ کے سرمبارک اور دیگر شہدا کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا، اسکے بعد یزیدی لشکر نے اہل بیت کے خیموں کو آگ لگا دی اور خواتین کے سروں سے چادریں بھی چھین لیں۔ یزید نے قافلہ حسینؓ میں شامل جناب بی بی زینبؓ اور بی بی جناب ام کلثومؓ جو کہ نبی ختم المرتبت ﷺ کی نواسیاں تھیں کو دیگر خواتین اور بچوں سمیت قیدی بنا لیا ،اس وقت اس قافلے میں واحد مرد حضرت جناب امام زین العابدینؓ زندہ بچ گئے جو کہ سخت بیمار تھے۔ جناب امام حسینؓ  اور دیگر شہدا کی لاشیں بے گوروکفن پڑی رہیں جنہیں بعد میں قبیلہ بنی اسد کے لوگوں نے دفن کیا۔ اسطرح شہادت شبیرؓ کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ سلام کا وہ خواب پورا ہوا جس میں انہیں حضرت اسماعیل علیہ سلام کو قربان کرنے کا حکم دیاگیا تھا لیکن انکے خواب کی تعبیر سانحہ کربلا کی صورت میں سامنے آتی ہے اور یہ کہنا درست ہے کہ!

فدا قربانی شبیرؓبھی ایک راز فطرت ہے

جسے خواب براہیمی کی تعبیر کہتے ہیں

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...