امریکہ اور طالبان کے مذاکرات ختم ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

امریکہ اور طالبان کے مذاکرات ختم ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
امریکہ اور طالبان کے مذاکرات ختم ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

  


واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکا اور طالبان کے مذاکرات ختم ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، امریکی حکام نے طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کو واشنگٹن آنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر دورہ امریکا مشروط کردیا کہ پہلے معاہدے کا اعلان کریں پھر امریکاجائیں گے۔امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے طالبان کے حالیہ حملے کو ایک سال سے جاری مذاکرات کا سلسلہ ختم کرنے کے اعلان کا بنیادی سبب قرار دیا ، تاہم اعلٰی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی راہ مسدود ہونے کا سب سے بڑا سبب طالبان کا کسی ڈیل کے لیے امریکی شرائط اور کیمپ ڈیوڈ میں سربراہ ملاقات کے حوالے سے امریکا کے قدرے عجلت پسندانہ منصوبے کو تسلیم نہ کرنا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک مرحلے پر ایسا لگتا تھا کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور اب کوئی ڈیل ہوا ہی چاہتی ہے مگر پھر اچانک اس بات پر اختلافات رونما ہوئے کہ ڈیل کو حتمی شکل کس طور دی جائے۔ امریکی صدر نے طالبان سے مذاکرات میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا تھا اور شدید تنقید کے باوجود چند ایک امور طے پاگئے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور طالبان کے قائدین کو واشنگٹن بلانے کی تیاری بھی شروع کردی تھی۔ یہ تجویز غیر معمولی حد تک جرأت مندانہ ہی نہیں، بلکہ ایک خاص حد تک ترپ کا پتا پیش کرنے جیسی تھی۔ افغان و مغربی ذرائع کے علاوہ امریکا طالبان بات چیت سے واقف حکام کا کہنا ہے کہ کیمپ ڈیوڈ میں صدور کی ملاقات ہوتی، ہر فریق کی الگ الگ ملاقاتیں ہوتیں اور جو کچھ بھی طے پاتا اس کا اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرتے۔ اتوار کو میٹنگ سے پہلے امریکی حکام بعض حل طلب معاملات کو تیزی سے نمٹانا چاہتے تھے۔ ان میں قیدیوں کی رہائی کا معاملہ بھی شامل تھا۔ طالبان رہنما نے بتایاکہ امریکا نے جو تجاویز پیش کی ہیں وہ طالبان کو سیاسی خود کشی پر مجبور کرنے کی امریکی چال کے سوا کچھ نہیں۔ طالبان کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ ہم وعدہ کرچکے ہیں کہ امریکا سے کوئی سمجھوتا طے پاجانے کی صورت میں ہی بین الافغان بات چیت بھی ہوگی۔ طالبان کے سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا یہ خیال ہے کہ وہ واشنگٹن کی کسی میٹنگ میں طالبان اور افغان حکومت کی محاذ آرائی ختم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تو ایسا ممکن نہیں کیونکہ ہم کٹھ پتلی حکومت کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ مذاکرات سے افغان حکومت کو دور رکھے جانے کے حوالے سے افغان صدر اشرف غنی نے شدید تحفظات کے باوجود کیمپ ڈیوڈ میں سربراہ ملاقات پر رضامندی ظاہر کردی تھی اور اس کا سبب بظاہر ان کی یہ امید تھی کہ شاید ملک کو شدید غیریقینی صورت حال سے باہر لانے کی کوئی صورت نکل آئے۔ کیمپ ڈیوڈ ملاقات کے لیے رضامندی کا اظہار کرکے افغان صدر نے بہت بڑا جوا کھیلا تھا۔ جو کچھ کیمپ ڈیوڈ میں سامنے آتا اس کے حوالے سے تو ٹرمپ کے قریب ترین مشیروں کو بھی کچھ زیادہ معلوم نہ تھا۔ سینئر حکام کا کہنا تھا کہ اشرف غنی جس مشکل صورت حال سے دوچار ہیں اس میں ان کے پاس کھونے کے لیے زیادہ تھا نہیں۔ مذاکرات کی تنسیخ کے اعلان کے بعد افغان حکومت نے طالبان کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ تشدد نے امن عمل کو دشوار تر بنادیا ہے۔ اشرف غنی کے ترجمان صادق صدیقی نے کہا کہ خلیج کے ایک ملک کی طرف سے تحفظ اور نقل و حرکت کی آزادی یقینی بنائے جانے کے باوجود قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر نے امن کے حوالے سے بھرپور کمٹ منٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ قطر میں طالبان کا ہنی مون ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ چند ہفتوں کے دوران یہ بات بالکل واضح ہوگئی تھی کہ ایک سال کے دوران بات چیت کے نو ادوار میں امریکا اور طالبان نے بہت سے معاملات پر اختلاف رائے ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ مذاکرات کے حوالے سے امریکا کے مرکزی ایلچی زلمے خلیل زاد نے کچھ روز ہوئے اعلان کیا تھا کہ سمجھوتے کی دستاویز کو حتمی شکل دی جاچکی ہے۔ ڈیل کے مطابق، جس پر افغان حکام نے یہ کہتے ہوئے تنقید کی تھی کہ حقیقی استحکام پیدا کرنے والے اقدامات یقینی نہیں بنائے گئے ، دستخط کیے جانے کے بعد 135 دن میں 5 ہزار امریکی فوجی افغان سرزمین سے رخصت ہوں گے جبکہ مجموعی طور پر 14 ہزار امریکی فوجی 16 میں مرحلہ وار افغانستان چھوڑیں گے۔ اس کے جواب میں طالبان افغان سرزمین پر انسداد دہشت گردی کی یقین دہانی کرائیں گے اور یہ بھی کہ نائن الیون کی سی نوعیت کا کوئی حملہ افغان سرزمین سے نہیں کیا جائے گا۔ نائن الیون ہی نے افغان جنگ کی راہ ہموار کی تھی۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل افغان حکومت کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تھا مگر اس کے بجائے امریکیوں نے افغان جیلوں میں ہزاروں طالبان قیدیوں کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کیے۔ اشرف غنی کی حکومت کے لیے یہ بالکل ناقابل قبول تھا۔ کابل حکومت نے اعلان کیا ہے کہ طالبان اور امریکا کے درمیان کسی بھی ڈیل کو اس صورت قبول کیا جائے گاکہ طالبان جنگ بندی پر آمادہ ہوں۔ اس مرحلے پر طالبان جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ اب تک تشدد ہی بات منوانے کے حوالے سے طالبان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ بات چیت کے آخری ادوار اور صدر ٹرمپ کی طرف سے کیمپ ڈیوڈ کی ملاقات کا دعوت نامہ بھی ایسے وقت آیا جب طالبان کی طرف سے تشدد میں شدت آئی اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت بھی واقع ہوئی۔ طالبان کی طرف سے بڑھتے ہوئے حملوں کے باوجود امریکی مذاکرات کاروں نے واضح کردیا کہ وہ بات چیت کے بائیکاٹ کے بجائے مذاکرات کو حتمی شکل دینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکی فوجی بھی طالبان پر میدان میں غیر معمولی دباو¿ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ واضح نہیں تھا کہ ڈیل کا اعلان کس طور کیا جائے گا۔ دونوں طرف سے مطالبات نے اس معاملے کو اور بھی پیچیدہ بنادیا۔ امریکی صدر کو اگلی انتخابی مہم کے لیے افغان جنگ ختم کرنے کے وعدے پر عمل کر دکھانا ہے۔ دوسری طرف طالبان اپنی طاقت برقرار رکھنے کے حوالے سے بہت حساس ہیں۔ افغان حکومت کو یہ دکھانا تھا کہ اسے اپنے سب سے بڑے اتحادی اور امداد دینے والے ملک کی بھرپور مدد حاصل ہے۔ ساتھ ہی ساتھ قطر کو بھی ایک ایسے وقت میں ان اہم مذاکرات کے انعقاد کا کریڈٹ لینا تھا جبکہ خطے کے ممالک نے اس کے اقتصادی محاصرے میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے واشنگٹن میں قومی سلامتی کے مشیروں کے اجلاس کے بعد اور دوحہ میں مذاکرات کے نویں دور کو لپیٹنے کے مراحل میں امریکی سفیر افغان صدارتی محل میں آئے اور کیمپ ڈیوڈ میٹنگ کی تجویز پیش کی۔ اشرف غنی کے دورہ امریکا کے حوالے سے معاملات طے کیے جانے لگے۔ اس حوالے سے زلمے خلیل زاد دوحہ سے کابل پہنچے اور اشرف غنی سے چار ادوار میں بات چیت کی۔ اشرف غنی کو کیمپ ڈیوڈ لے جانے کے لیے امریکا سے طیارہ آنا تھا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق افغان امن ڈیل سے متعلق سینیٹر لنڈسے گراہم، جنرل (ر)جیک کین اور جنرل (ر)ڈیوڈ پیٹر یاس بھی صدر ٹرمپ کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر زور دیتے رہے۔ آفغان امن ڈیل کی مخالفت میں قومی سلامتی کے مشیرجان بولٹن پیش پیش تھے ،انہیں وزیر خارجہ پومپیو کے ساتھیوں نے تنہا کرنے کی بہت کوشش کی۔ جان بولٹن کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ افغانستان سے 5ہزار فوج نکال لیں تو بھی باقی رہ جانیوالی فوج انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون کیلئے کافی ہو گی۔ ان کی نظر میں طالبان کسی طور قابل اعتبار نہیں۔ سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایک انٹرویو میں ٹرمپ انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ ہمیں پاکستان کیساتھ روابط بہتر بنانے پر فوکس کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ، جس میں آزاد تجارتی معاہدہ شامل ہو۔ طالبان کا یہ یقین ٹوٹنا چاہیے کہ انہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ مل سکتی ہے۔ ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ ہم افغانستان میں پولیس کا کردار اداکرتے رہے ، یہ ہمارے بہادرفوجیوں کا کام نہیں تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ پچھلے چاردن میں دشمن کوجتنا نقصان پہنچایاہے ، اتنانقصان پچھلے 10سالوں میں نہیں پہنچا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات سے متعلق وائٹ ہاﺅس میں اختلافات کی جعلی خبریں پھیلائی جارہی ہیں ، میں ملاقات اور مذاکرات کاحامی ہوں لیکن اس معاملے میں ملاقات نہ کرنے کافیصلہ کیا۔ ٹرمپ کاکہنا تھا کہ زیادہ تر میڈیا ڈیمو کریٹس کا بازو بنا ہوا ہے ، یہ کرپٹ لوگ ہیں جو میرے دور حکومت میں ہونے والی ترقی سے خائف ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...