پنجاب میں چھٹے آئی جی کی آمد

پنجاب میں چھٹے آئی جی کی آمد

  

تحریک انصاف کی دو سالہ حکومت کے دوران ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں انسپکٹر جنرل پولیس چھٹی مرتبہ تعینات کیا گیا ہے، اس بار قرعہ فال انعام غنی کے نام نکلا ہے، جو اپنے اِس تقرر سے پہلے جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل آئی جی تھے، اِس سے قبل وہ صوبے کے ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن رہے۔ اُن کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع مالا کنڈ سے ہے۔اُن سے پہلے دو سال کے عرصے میں صوبے میں جو پانچ آئی جی تعینات ہوئے اور تبدیل کر دیئے گئے ان میں سید کلیم امام(تین ماہ)، محمد طاہر(ایک ماہ)،امجد جاوید سلیمی(چھ ماہ)، کیپٹن (ر) عارف نواز(سات ماہ) اور شعیب دستگیر (نو ماہ) شامل ہیں۔ ابھی تبدیل ہونے والے شعیب دستگیر نے28 نومبر2019ء کو اپنا منصب سنبھالا تھا، اور پانچ افسروں میں وہ سب سے زیادہ عرصے تک صوبے کے آئی جی رہے۔ سی سی پی او عمر شیخ کا تقرر اُن کے تبادلے کی وجہ بن گیا، جنہیں اُن سے مشورہ کئے بغیر اس عہدے پر تعینات کر دیا گیا تھا۔انہوں نے یہ اصولی موقف اختیار کیا تھا کہ سی سی پی او کا تقرر اُن کی مشاورت سے ہونا چاہئے تھا،لیکن وزیراعظم اور وزیراعلیٰ اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے اور آئی جی سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران انہوں نے عمر شیخ کو ہٹانے سے انکار کر دیا جس پر شعیب دستگیر نے بطور آئی جی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے معذرت کر لی،اب اُنہیں سیکرٹری اینٹی نارکوٹکس لگا دیا گیا ہے۔

برسر اقتدار آنے سے پہلے تحریک انصاف پولیس کلچر تبدیل کرنے کی دعویدار تھی۔ دعوے کے مطابق خیبرپختونخوا میں اپنی پانچ سالہ حکومت کے دوران اس نے صوبے کا پولیس کلچر تبدیل کر دیا اور آئی جی کے کام میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کر دیا۔اِس سارے کام کا کریڈٹ آئی جی ناصر خان درانی کو دیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اُن کی خدمات سے استفادہ کرنے کے لئے انہیں پنجاب میں ایسی ذمے داری سونپی گئی، جس کا مقصد اپنے سابقہ تجربات کی روشنی میں صوبے میں پولیس اصلاحات کرنا تھا،لیکن وہ اپنے اس نئے منصب پر ایک ماہ بھی نہ نکال سکے اور مستعفی ہو کر گھر چلے گئے، تاہم یہ سوال چھوڑ گئے کہ ایک ایسا پولیس افسر جسے ایک صوبے میں پولیس کو تبدیل کرنے کا غیر معمولی کریڈٹ دیا جاتا تھا، دوسرے صوبے میں اُسے کام کیوں نہ کرنے دیا گیا یا پھر یہ کہ ایک صوبے میں غیر معمولی کامیابی دوسرے صوبے میں اس کے کسی کام کیوں نہ آئی؟ ان دو برسوں میں پنجاب میں جو بھی آئی جی مقرر کیا گیا اس کی صلاحیتوں کی کھل کر تعریف کی گئی، لیکن حیرت انگیز طور پر اُن کے جلدی جلدی تبادلے بھی کئے جاتے رہے۔ محمد طاہر تو صرف ایک ماہ اپنے منصب پر رہے۔ سب سے زیادہ عرصے تک آئی جی رہنے کا اعزاز اگرچہ شعیب دستگیر کو حاصل ہوا، لیکن اُن کا تبادلہ بھی ایسے حالات میں ہوا، جو پولیس جیسی ضابطے کی پابند فورس کے لئے کوئی اچھا سرٹیفکیٹ نہیں۔نئے سی سی پی او نے مبینہ طور پر پولیس افسروں کی ایک میٹنگ میں آئی جی کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا اس کی تائید نہیں کی جا سکتی۔ اس کے بعد شعیب دستگیر نے جو موقف اختیار  کیا وہ اصولی تھا۔ جو حکومت پولیس میں سیاسی مداخلت ختم کرنے کی داعی رہی ہو،اس سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ ایک پولیس افسر کو ڈیڑہ غازی خان سے لاہور تبدیل کرتے وقت آئی جی کو اعتماد میں لے لیتی۔ اس اقدام ہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ پولیس کی ذمہ داریوں میں سیاسی مداخلت ختم کرنے کا دعویٰ محض سیاسی نعرہ ہے، عملاً اس کا کہیں کوئی وجود نہیں ہے۔

تبادلوں کے متعلق حکومت کی کیا پالیسی ہے اور وہ اسے کس نظر سے دیکھتی ہے؟ اس کا اندازہ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی شہباز گل کے اس بیان سے ہو جاتا ہے کہ پانچ کیا، پانچ سو تبادلے بھی کئے جا سکتے ہیں۔ محاورۃً ایسی بات کہہ دینا شاید اُن کے لئے زیبا ہو،لیکن حالت یہ ہے کہ پانچویں کے بعد چھٹے تبادلے کے لئے کوئی ایسا سینئر افسر بھی نہیں ملاجس کے ماتحت سارے افسر خوش اسلوبی سے خدمات انجام دینے کے لئے تیار ہوں۔پنجاب کے ایک افسر نے کہہ بھی دیا ہے کہ وہ چونکہ نئے آئی جی سے سینئر ہیں،اِس لئے اُن کے ماتحت کام نہیں کریں گے۔اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ پے در پے تبادلوں کے بعد اب ایسے سینئر افسر بھی دستیاب نہیں، جنہیں یہ ذمے داری سونپی جا سکے۔ یہ درست ہے کہ حکومت کو تبادلوں کا اختیار حاصل ہے،لیکن ایسا بھی تو نہیں ہونا چاہئے کہ ایک افسر ابھی آ کر بیٹھا بھی نہ ہو کہ اسے اٹھا دیا جائے۔ جس افسر کو ایک ہی مہینے میں تبدیل کر دیا جائے وہ دلجمعی سے کیسے کام کر سکتا ہے؟ سابق تجربات کی روشنی میں اب تو یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ نئے آئی جی کتنے عرصے تک اس منصب پر رہیں گے؟ انہیں یا تو ضابطوں کو نظر انداز کر کے کمپرومائز کر کے چلنا ہو گا یا پھر اُن کا حشر بھی اپنے پیشروؤں کی طرح ہو گا،لیکن تبادلوں سے لطف اندوز ہونے والی حکومت سے بعید نہیں کہ وہ نئے آئی جی کو بھی اپنے اس شوق کی بھینٹ چڑھا دے۔ جس طرح پہلے افسروں سے بہت سی توقعات وابستہ کی گئی تھیں، نئے آئی جی سے بھی ایسی امیدیں باندھی گئی ہوں گی، جب تک  وہ ان پر پورا اُترتے رہیں گے، اس وقت تک اپنے منصب پر موجود رہیں گے، ورنہ وہ بھی پیشروؤں کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے،لیکن تبادلوں کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہے گورننس پر اب ایسے سوال اٹھنے لگے ہیں جن کا جواب نہیں مل رہا،لیکن حکومت مسقبل قریب میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتی ہوئی نظر بھی نہیں آتی، وہ جس راستے پر چل رہی ہے، اسی پر چلتے رہنے کو اپنا استحقاق سمجھ رہی ہے،لیکن جلد ہی ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب ایسے فیصلے فائر بیک کرنے لگیں گے۔ یہ وقت آنے سے پہلے پہلے اپنی اداؤں پر غور کر لیا جائے تو اچھا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -