بوسیدہ مکانات،مدد کی ضرورت ہے!

بوسیدہ مکانات،مدد کی ضرورت ہے!

  

برسات کی وجہ سے پرانے شہر لاہور کے ٹیکسالی دروازہ میں حادثہ پیش آیا۔ مکان کی دیوار ہمسائے کے گھر پر گرنے سے وہ مکان زمین بوس ہوا، اس میں دب کر میاں بیوی اور بچوں سمیت 6افراد جاں بحق ہو گئے۔ یہ حادثہ بھی بوسیدہ مکانوں کے حوالے سے ہے، اس میں ایک پورا کنبہ جان سے گیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں 60سالہ جاوید، 43سالہ روبینہ، 16سالہ آمنہ، دو سالہ شجاعت،6سالہ حسن اور 4سالہ ضیغم شامل ہیں، زخمی ہونے والے الگ ہیں۔یہ دُکھ دینے والا افسوس ناک حادثہ ہے، اس پر پورا علاقہ سوگوار ہے۔ وزیراعلیٰ نے رپورٹ بھی طلب کی۔ دُکھ کی یہ بات ہے کہ نہ صرف لاہور بلکہ دیگر بڑے شہروں کے بارے میں مسلسل یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ان شہروں میں خطرناک اور بوسیدہ مکانوں کی تعداد اتنی ہے، جب بھی ساون کا موسم آتا ہے تو مکانوں کی تعداد بتا کر متعلقہ محکمے نوٹس دے کر فارغ ہوجاتے ہیں، اس کے بعد کوئی کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ میڈیا میں ہر بار یہ دہائی دی جاتی ہے کہ ان خطرناک اور بوسیدہ مکانوں میں رہائش رکھنے والے مجبور لوگ ہیں کہ مکانوں کی مرمت کی استطاعت نہیں رکھتے، اس حوالے سے بھی کئی بار خوش کن اطلاع آئی کہ حکومت امداد پر غور کر رہی ہے، لیکن عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا اور ایک اور حادثہ ہو گیا۔ ضروری ہے کہ اس حوالے سے منصوبہ جلد بنا کر ایسے مکانات والوں کی مالی مدد کی جائے، تاکہ مکانات کی مرمت ہو اور حادثات نہ ہوں۔

مزید :

رائے -اداریہ -