تبادلے، تعیناتی، متنازعہ کیوں؟

تبادلے، تعیناتی، متنازعہ کیوں؟
تبادلے، تعیناتی، متنازعہ کیوں؟

  

مرحوم اصغر خان اپنے دور کے دبنگ پولیس افسر مانے گئے،انہوں نے انسپکٹر سے انسپکٹر جنرل پولیس تک کے عہدے تک ترقی کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آبائی علاقے سے قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے،وہ ایک معتبر شخصیت کے طور پر دُنیا سے رخصت ہوئے کہ ڈیرہ داری کے حوالے سے فیصلے بھی کراتے تھے۔جنرل ایوب خان کے خلاف تحریک کے دوران وہ ڈی ایس پی سول لائنز تھے اور اس وجہ سے مال روڈ پر آنے والے جلوسوں سے نمٹنا بھی انہی کا کام تھا وہ جب لاہور میں سٹی انسپکٹر کے طور پر تعینات تھے، تو اپنی زبردست انتظامی صلاحیت اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی وجہ سے ”ہلاکو خان“ کے نام سے مشہور ہو گئے تھے، چنانچہ وہ جہاں بھی تعینات ہوئے یہ ”لقب“ ان کے ساتھ رہا، جب تحریک اور مال روڈ کا مسئلہ آیا تو ان کی ماتحتی میں پولیس نے مظاہرین کے خلاف ہمیشہ سخت رویہ رکھا اور تشدد بھی کیا، وہ خود بھی سڑک پر ہوتے تھے، چنانچہ مظاہرین کے ذہنوں میں ان کے لئے کوئی اچھے جذبات نہیں تھے،بلکہ وہ سب ان کے خلاف تھے، چنانچہ جب دور بدلا اور پیپلزپارٹی کو اقتدار مل گیا۔ پنجاب میں گورنر ملک غلام مصطفےٰ کھر تھے۔

اُس وقت تک اصغر خان ترقی کر کے ایس پی ہو چکے اور سول لائنز ہی میں تعینات تھے، گورنر ملک غلام مصطفےٰ کھر نے بھی ان کو پسند کیا،بلکہ ایس پی (سپیشل) بنا کر ہیلی کاپٹر کے استعمال کی بھی اجازت دی۔یہ صورتِ حال پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو پسند نہ آئی تو وہ مل کر گورنر ملک غلام مصطفےٰ کھر کے پاس چلے گئے اور احتجاج کیا کہ اصغر خان کو تو معطل ہونا چاہئے۔ آپ نے ان کو ترقی دے دی ہے، اس کے جواب میں ملک غلام مصطفےٰ کھر نے جواب دیا ”خان صاحب! ایک اچھے افسرہیں، اب ہم نے مظاہرے نہیں کرنے، بلکہ حکومت چلانی ہے“ چنانچہ انہوں نے کارکنوں کو مطمئن کر کے بھیج دیا، اور اصغر خان ترقی کرتے بطور انسپکٹر جنرل پولیس ریٹائر ہوئے تھے۔ یاد آیا کہ جب خواجہ سعد رفیق کے والد خواجہ محمد رفیق کو اسمبلی کے پچھلی طرف تانگے میں جاتے ہوئے گولی مار کر قتل کیا گیا تو اس روز بھی محترم اصغر خان ڈیوٹی پر ہی تھے اور عین اُسی وقت اسمبلی کے عقب میں درمیانی سڑک پر چل رہے تھے(تب موجودہ صورتِ حال نہیں تھی، عقب میں سڑک تھی) ہم دو تین رپورٹروں نے ان کو متوجہ کیا اور انہوں نے ایک کار رکوا کر خواجہ رفیق کو ہسپتال پہنچایا تھا۔

یہ تو پولیس افسر اور حکمران کے تعلق کی ایک بات یاد آئی تو اس کے ساتھ ہی بیورو کریسی اور برسر اقتدار حضرات کا بھی ایک واقعہ یاد ہے۔ حاجی محمد اکرم اچھے افسر تھے، وہ پنجاب میں صوبائی سیکرٹری رہے، تو وفاق میں بھی تعینات ہوئے۔خاصا عرصہ وہ سیکرٹری اطلاعات کے عہدے پر فائز تھے، پھر دور بدلا اور محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم ہو گئیں۔ اس دور میں بھی یہ مسئلہ پیش آیا، بی بی شہید سے کہا گیا کہ حاجی اکرم تو مسلم لیگ(ن) کے ہیں، تاہم جب بی بی کے ساتھ حاجی محمد اکرم کو پہلی ملاقات ہوئی تو حاجی صاحب نے واضح طور پر کہا ”پرائم منسٹر صاحبہ! ہم سرکاری ملازم ہیں اور قواعد کے مطابق کام کرتے ہیں، آپ کے ساتھ بھی کام کرنے کے لئے تیار ہوں،وقت خود بتا دے گا کہ کام کیسے ہوتا ہے“۔ محترمہ نے یہ بات مان لی اور حاجی محمد اکرم بدستور سیکرٹری اطلاعات رہے اور ان کی نبھ بھی گئی۔

ہمیں یہ سب یوں یاد آیا کہ تازہ ترین مسئلہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کے تبادلے کا سامنے آیا اور شعیب دستگیر کو تبدیل کر دیا گیا، ان کی شکایت تھی کہ سی سی پی او لاہور کی تعیناتی کے وقت ان سے مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور یہ ان کا اختیار ہے کہ وہ کس افسر کو تعینات کرتے ہیں اور کسی کواعتراض نہیں کرنا چاہئے۔

یہ تبادلہ بھی سیاسی حلقوں، میڈیا اور سوشل میڈیا میں بحث کا ذریعہ بن گیا کہ پنجاب میں موجودہ حکومت کے دور میں یہ پانچواں تبادلہ ہے، اس کے علاوہ تعینات ہونے والے محترم سی سی پی او کے حوالے سے بھی گفتنی ناگفتنی باتیں ہو رہی ہیں،اس کی تمام تر وجہ ہے کہ اب تک گڈ گورننس کا تاثر پختہ نہیں ہو سکا، لوگ پوچھتے ہیں کہ صرف دس روز قبل وزیراعظم جس اعلیٰ افسر کی تعریف کرتے ہیں ان کو صرف ایک جھٹکے میں تبدیل کر دینا کیا معنی رکھتا ہے اور اگر زبان یہ ہے کہ محترم شیخ صاحب کو سی سی پی او تعینات کرنے کا پس منظر ان کا سخت مزاج ہونا ہے اور وہ ماضی والے اصغر خان ثابت ہوں گے تو یہ الگ بات ہے، تاہم بات اِس لئے ہو رہی اور تنازعہ اس وجہ سے ہے کہ تعریف کرتے کرتے ایکشن لیا گیا، اور اب جواز یہ ہے کہ شعیب دستگیر کی تقرری جرائم کو کنٹرول کرنے کے لئے تھی،

لیکن وہ پولیس کا قبلہ درست نہیں کر سکے، ہم سی سی پی او کی پہلی سٹاف میٹنگ کی خبر کا بھی حوالہ نہیں دیتے تاہم یہ ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کی وضاحت بھی قابل ِ قبول ہو، پسند نا پسند یا کسی بات پر ناراضی سے تبادلے کبھی خوشگوار تاثر نہیں چھوڑتے، ہم تو دُعاگو اور منتظر ہیں کہ کب ”قبلہ درست“ ہو گا اور جرائم ختم نہیں تو کم ہوں گے۔لاہور میں اگر شکایات اندراج نہ کر کے جرائم میں کمی کا تاثر دینا ہے تو اپنی جگہ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ شہری خود کو بے آسرا جان رہے ہیں،اب ہم بھی دیکھیں گے کہ جرائم کیسے کم ہوتے ہیں؟ ویسے شعیب دستگیر کی جگہ انعام غنی (گریڈ21) کی تعیناتی نے بھی ایک نئی صورت پیدا کی کہ متعدد افسروں نے ان سے سینئر ہونے کی بنا پر ان کے ماتحت کام کرنے سے انکار کیا اور ایک ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس نے تو چھپایا بھی نہیں، یہ بھی کوئی بہتر عمل نہیں، غور کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -