آئی جی نہیں پولیس ایکٹ میں تبدیلی، وقت کی ضرورت

آئی جی نہیں پولیس ایکٹ میں تبدیلی، وقت کی ضرورت
آئی جی نہیں پولیس ایکٹ میں تبدیلی، وقت کی ضرورت

  

دو سال کے عرصے میں پنجاب کے پانچویں آئی جی کی تبدیلی ایک بریکنگ نیوز بن گئی، اخبارات نے شہ سرخیاں جمائیں اور ٹی وی چینلز نے اپنی ہیڈ لائن کے طور پر نشر کی کسی نے اسے حکومت کی ناکامی قرار دیا اور کسی نے کہا بہتر سے بہترین کی تلاش حکومت کا حق ہے،مگر مَیں یہ سوچ رہا ہوں کہ اِس بار آئی جی کو تبدیل کیا گیا ہے یا آئی جی نے از خود تبدیلی کے حالات پیدا کئے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ شعیب دستگیر اصولی موقف پر ڈٹ گئے تھے،اِس لئے اُن کی تبدیلی کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہ خبریں بھی آئیں کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے خود بھی انہیں راضی کرنے کی کوشش کی، مگر وہ اپنی ضد پر اڑے رہے کہ جب تک سی سی پی او لاہور کی تعیناتی واپس نہیں لی جاتی وہ اس عہدے پر کام نہیں کریں گے۔ اُدھر سی سی پی او لاہور عمر شیخ بھی ٹی وی چینلز پر یہ کہتے پائے گئے کہ انہوں نے سابق آئی جی شعیب دستگیر سے ملاقات کی تین بار کوشش کی، مگر انہوں نے اجازت نہیں دی۔

اب یہ کہا جا رہا ہے کہ شعیب دستگیر کو تو وزیراعظم خود لائے تھے اور اُن کی تعریفیں بھی بہت کی تھیں، پھر انہیں نو ماہ بعد کیوں رخصت کر دیا۔ کیا یہ وزیرعظم عمران خان کی غیر مستقل مزاجی ہے کہ وہ خود ہی ایک فیصلہ کر کے اُس پر قائم نہیں رہتے؟ تاہم یہ بات اتنی سادہ نہیں، اب یہ راز کھل چکا ہے کہ لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ کو عمران خان کی ہدایات پر تعینات کیا گیا ہے، وہ عثمان بزدار کا نہیں، عمران خان کا انتخاب ہیں۔ شعیب دستگیر کی ناکامی یہ ہے کہ اتنی سی بات نہ سمجھ سکے اور عمر شیخ کی تقرری کو ایک عام تقرری سمجھ بیٹھے۔ اگر وزیراعظم عمران خان نے شعیب دستگیر کی تعریف کی تھی تو اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ وہ وزیراعظم کے احکامات کو ہی نہ مانیں اور حکم عدولی پر اُتر آئیں، حالات کی تفصیل بتاتی ہے کہ شعیب دستگیر کو منانے کی چار دن تک کوشش کی جاتی رہی۔ یہ کوشش کیوں کی جاتی رہی، ظاہر ہے اِس لئے کہ وزیراعظم عمران خان انہیں نہیں ہٹانا چاہتے تھے، مگر وہ جب اپنی ضد پر اڑے رہے تو انہیں ہٹانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ان واقعات سے تو یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے پنجاب میں پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ جو ہدایات جاری کرتے تھے، انہیں خاطر میں نہیں لایا جاتا تھا۔

مسلم لیگ (ن)  کے رہنما احسن اقبال کی اس بات میں کتنا وزن ہے کہ پنجاب میں پانچ آئی جی صرف اس وجہ سے تبدیل کئے گئے کہ انہوں نے سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ بات اِس لئے اچھی خاصی مضحکہ خیز ہے کہ جھوٹے مقدمات کبھی آئی جی کے حکم پر نہیں بنائے جاتے۔یہ کام ڈویژن اور ضلع میں تعینات پولیس افسران ہی کر سکتے ہیں۔اگر کوئی آئی جی خفیہ طور پر بھی کوئی ایسی ہدایت جاری کرے تو وہ چھپی نہیں رہ سکتی۔تبدیل ہونے والے کسی آئی جی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اُسے اِس وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔ سیاست برائے سیاست کرنا چونکہ ہماری مجبوری ہے، اس لئے ہم اس کی کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہیں یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ پانچ آئی جی اِس لئے بدلنے پڑے ہوں کہ وہ خود کو بدلنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ وہ پولیس کے روایتی کردار کو تبدیل  نہیں کرنا چاہتے تھے، کیا اسی دور میں ارکانِ اسمبلی نے شکایات نہیں کیں کہ پولیس افسران اُن کی نہیں سنتے، کیا فارورڈ بلاک بنانے والوں نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ وہ اُن سے ملنا تک گوارا نہیں کرتے،اِس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب میں بیورو کریسی اور پولیس کو سیاست سے آزاد کرنے کی کوشش ضرور کی گئی، اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی اداروں کو استعمال کرنے والی حکومت کیسے ممکن ہے کہ خود اپنے ہی ارکانِ اسمبلی کو ناراض کر لے۔

پنجاب میں آئی جی کی بار بار تبدیلی کی غالباً یہ وجہ سب سے اہم ہے کہ یہاں پولیس کی کارکردگی میں بہتری نظر نہیں آ ہی۔ وزیراعظم عمران خان پر اس حوالے سے جو دباؤ ہے، اس کا اندازہ اِس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ جس فورم پر بھی کوئی انٹرویو دیتے ہیں اُن سے یہ سوال ضرور پوچھا جاتا ہے کہ پنجاب میں پولیس اصلاحات کے لئے وہ کیا کر رہے ہیں، چونکہ اس حوالے سے وہ ابھی تک عملی قدم نہیں اٹھا سکے تو اُن کی وجہ اِس امر کی طرف مبذول ہو جاتی ہے کہ کسی اچھے افسر کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے۔ وہ شاید پنجاب کے لئے دوسرا ناصر درانی ڈھونڈ رہے ہیں، جو انہیں مل نہیں رہا،جیسی صورتِ حال کا سامنا حکومت کو  سی سی پی او لاہور کی تعیناتی کے بعد کرنا پڑا اُسی طرح کی صورتِ حال ناصر درانی کی پنجاب میں پولیس ریفارمز کے لئے تقرری پر بھی پیدا ہوئی تھی۔ اُس وقت حکومت اپنے فیصلے پر ڈٹی رہتی اور پولیس افسران کی مزاحمت کو آج کی طرح خاطر میں نہ لاتی تو شاید ناصر درانی کے قدم جم جاتے اور وہ تبدیلی لانے میں کامیاب رہتے، اب ایک بار پھر ہر طرف سے یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ حکومت آئی جی کی تبدیلی کے ذریعے پولیس کو بہتر بنانے کی بجائے پولیس قوانین میں اصلاحات کرے۔سی سی پی او لاہور کی یہ بات بھی قابل ِ غور ہے کہ اب پولیس والوں کو روایتی سزاؤں کے ذریعے قانون کا پابند نہیں بنایا جا سکتا۔ کسی بہت بڑی غفلت یا بے قاعدگی پر بھی انہیں معطل کرنے کے سوا کوئی آپش نہیں۔انہوں نے مثال دی کہ ایک ایس ایچ او اگر زمین پر قبضہ کرانے کی ایک کروڑ روپے رشوت لیتا ہے تو اُسے اس بات کا کوئی خوف نہیں ہوتا کہ وہ تین ماہ کے لئے معطل ہو جائے گا، اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے ملازمین کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرائے جائیں اور لاہور میں وہ اب ایسا ہی کریں گے۔انہوں نے پولیس کورٹ مارشل لاء کا بھی آئیڈیا پیش کیا کہ فوج کی طرح بدعنوان، کرپٹ اور جرائم میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کر کے انہیں ہمیشہ کے لئے محکمے سے نکال دیا جائے۔

جس پولیس کو انگریز کے بنائے ہوئے ایکٹ کے تحت بے محابا اختیارات حاصل ہوں،اس ایکٹ میں سزائیں سرے سے رکھی ہی نہ گئی ہوں اور معطلی کے سوا آئی جی کے پاس بھی کوئی اختیارات نہ ہوں، تو پولیس والوں کے جرائم پیشہ مافیاز کے ساتھ گٹھ جوڑ کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔یہ بات پرانی ہو چکی ہے کہ پولیس والوں کو سیاست دان استعمال کرتے ہیں۔ سیاست دانوں کو اپنی شہرت کی فکر ہوئی ہے،انہیں عوام کے پاس بھی جانا ہوتا  ہے، جبکہ انڈر ورلڈ کے لوگ اس خوف سے آزاد ہوتے ہیں۔ جب تک پولیس ریفارمز کے ذریعے پولیس کے اختیارات کو قانونی دائرے میں نہیں لایا جا تا اور پولیس والوں کے لئے بھی سخت سزائیں نہیں رکھی جاتیں،سو آئی جی بھی تبدیل ہو جائیں پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -