ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پہ مہرباں کیوں ہو

ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پہ مہرباں کیوں ہو
ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پہ مہرباں کیوں ہو

  

ٍہمارے دیہاتی علاقوں میں جب کسی مریض کو کسی دوا سے افاقہ نہ ہو تو کہا جاتا ہے کہ ’بیماری زور کرگئی ہے‘ بیماری کا زور کرنا ایک دیہاتی اصطلاح ہے کہ اگر کسی ’عام‘ معالج کے علاج اور اسکی دوا سے مریض کو افاقہ نہ ہو تو کہا جاتا ہے کہ ’بیماری زور کرگئی ہے‘،یعنی درست طریقہ علاج اپنانے یا کسی مستند معالج کے پاس جانے کے بجائے سادہ لوح گاؤں کے لوگ اسے بیماری کے بڑھنے یا زیادہ ہونے سے تعبیر کرتے ہیں،ایسے ہی پی ٹی آئی کے بہی خواہ حکومت کی ناقص کارکردگی پر حرف نہیں آنے دے رہے نہ ہی خان اعظم اپنی ناکامی اور ناکام پالیسیوں کا کوئی اعتراف کرنے کو تیار ہیں بس انکے مطابق مسائل ہی زیادہ ہیں جو ان سے حل نہیں ہو رہے   لہذا،اب ان وعدوں کا ذکر ہی کیا جو پاکستان تحریک انصاف کے قائد جناب عمران خان عوام سے کرکے انتخابات کی سیڑھیاں چڑھے تھے اور پھر اقتدار کے آسمان تک پہنچنے کے لئے بھی انہیں جن سہاروں کی ضرورت پڑی تھی ان کا تذکرہ بھی کیا کیجئے کہ تب خان اعظم خود ایک ٹی وی انٹرویو میں ان سے بھی فرار حاصل کرنے کا اعادہ کررہے تھے جو آج انکے ساتھ ہیں کہ اگر میں نے دوسری جماعتوں کو ہی ساتھ لینا ہے تو پھر میری بائیس سالہ جدجہد کا مقصد ہی کیا ہے؟ اب تو خان اعظم کو ان کے کئے گئے وعدے گنوا گنوا کر اور انہیں یاد دلا دلا کر لوگوں کے اعصاب ہی مضمحل ہو چلے ہیں کہ عالیجاہ کدھر ہیں ایک کروڑنئی نوکریاں؟کہاں ہیں پچاس لاکھ گھر جو آپ نے اپنی 100روزہ حکومت کے پلان میں شامل کررکھے تھے۔۔اداروں میں میرٹ کا لایا جانااور سیاست سے پاک کرنا۔۔ٹیکس کا بوجھ کم کرنا۔پاکستان کو مدینے کی طرز پر فلاحی ریاست بنانا۔بجلی، گیس کی قیمتوں میں کمی لانا اور بھی بہت کچھ سو روزہ ایجنڈے میں شامل تھا پھر خان اعظم،وی آئی پی اور پولیس کلچر میں اصلاحات کے خواہاں بھی تھے بلدیاتی نظام کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ناظم کو براہ راست لانے کے عہد و پیماں بھی کرتے رہے مہنگائی میں واضح کمی کے ارشادات بھی فرماتے رہے اور پھر کیا ہوا؟ مہنگائی کا ایسا طوفان آیا کہ پاکستان کی تاریخ کو ہی مات کر گیا۔ کیا آٹا کیا چینی کیا سونا کیا چاندی سارا کچھ ہی تو مہنگائی کے بلند ہوتے شعلوں کی نذر ہو کررہ گیا۔

خان اعظم بڑے پختہ عزم تھے کہ میں تو موت سے بھی نہیں ڈرتا لیکن مافیاز کے سامنے تو انہیں سرنگوں ہونا ہی پڑا کہ جیسے ہی پٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں پٹرول ہی غائب ہوگیا اور آپ پٹرول کی فراہمی کویقینی نہ بنا سکے مافیاز پر ہاتھ نہ ڈال سکے لیکن جیسے ہی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو پلک جھپکتے ہی ہر ایک کو پٹرول دستیاب بھی ہو گیا،ٹھیک ہے تحریک انصاف کی دو سالہ حکومت میں کہیں کچھ بہتر بھی ہوا ہوگا لیکن حضور پر نور اس کچھ سے تو عوام کے دکھ دور نہیں ہوتے نہ ہی اس کچھ کے لئے آپ جلوہ افروز ہوئے تھے پچھلی حکومتیں تو آپ کے اس کچھ کے مقابلے میں بہت کچھ کرتی رہی ہیں آپکو تو اس کچھ سے بہت کچھ بڑھ کے کرنا تھا قومی اسمبلی میں ایک بار آپ نے فرمایا کہ انڈیا میں تو اپوزیشن کو دیوار سے لگادیا گیا ہے تو اسکے جواب میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ وہاں اپوزیشن کو دیوار سے لگایا گیا ہے یہاں تو آپ نے اپوزیشن کو دیوار میں چن دیا ہے۔

ہم ماضی کی چلمنوں سے جھانکتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ نواز شریف وزیر اعظم ہیں اور قومی اسمبلی میں آتے ہیں اور سب سے پہلے وہ اپوزیشن کے بنچوں کی طرف گئے ہیں اپوزیشن کے اراکین سے ہاتھ ملایا بھی ہے اور انہیں ہاتھ اٹھا کر سلام بھی کیا ہے اپوزیشن کی تلخ باتیں بھی سنی ہیں اور سن کر حوصلے سے کام لیا ہے مسکرائے ہیں لیکن عالیجاہ آپ نے اپوزیشن کو زچ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا آپ نے نیب کوگویا اپوزیشن کے لئے مختص کردیا اگرچہ نیب نے پی ٹی آئی کے کچھ قریبی افراد پر نظر ڈالی لیکن وہ سرسری نگاہ ثابت ہوئی یہی وجہ ہے کہ نیب کی بلاثبوت گرفتاریوں پر سپریم کورٹ کے معزز ججز بھی نالاں ہو ئے دسمبر 2019 میں صدارتی آرڈیننس کے ذر یعے موجودہ حکومت نے ملک کے احتساب قانون، قومی احتساب آرڈیننس1999 میں سیاستدانوں، بیورو کریٹس اور کاروباری برادری کو فائدہ پہنچانے کے لیے غیر معمولی تبدیلیاں کردیں اور قومی احتساب (ترمیمی) آرڈیننس 2019 کے ذریعے احتساب بیورو کو غیر موثر بنادیا جسے ناقدین کی جانب سے سب سے بڑا این آر اوقرار دیا گیا۔

دنیا بھر میں ہلاکت انگیز وائرس کرونا پاکستان تک پہنچا تو اس کے لئے خیر حکومت کے اقدامات تسلی بخش رہے۔ اقوام متحدہ میں خان اعظم کے خطاب کا بھی شہرہ رہا لیکن مجموعی طور حالات کا دھارا درست جانب نہ بہہ سکا اور تو اور میں تو اس پر حیران ہوں کہ ہمارے پریس اور الیکٹرانک میڈیا نے پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کو بڑی کوریج دی او ر پھر میڈیا ہی زیر عتاب آگیا خان اعظم کے دھرنوں کو ٹی وی چینلز برابر دکھاتے رہے یہی نہیں مجھے یاد ہے جب پی ٹی آئی کا کہیں جلسہ ہوتا تو اسکے ختم ہوجانے کے بعد بھی ٹی وی چینلز پر دکھایا جاتا کہ ناظرین یہ وہ جگہ ہے جہاں پی ٹی آئی کا جلسہ ہوا اب جلسہ ختم ہوچکا ہے لائٹس آف ہوچکی ہیں لوگ جا چکے ہیں اندھیرا چھا چکا ہے اور کرسیاں اٹھائی جارہی ہیں میں پی ٹی آئی کو دی جانے والی اس غیر معمولی کوریج پر حیران تھا اور اب جنا ب عمران خان وزیر اعظم پاکستان فرماتے ہیں اخبارات نہ پڑھئے ٹی وی چینلز نہ دیکھئے حالانکہ انکی اس بات کو بھی میڈیا ہی دکھا اور سنا رہا ہے۔باقی سب تو رہا ہے ایک طرف خان اعظم اپنی ہی کہی ہوئی باتوں سے مکرنے اور اپنے ہی لئے جانے والے یوٹرن کو درست قرار دے چکے ہیں اور فرما چکے ہیں کہ میں یو ٹرن لیتا ہوا وزیر اعظم بن گیا اور دوسرے جیل پہنچ گئے تو پھر خان اعظم سے کیا گلہ کیجئے عوام لاکھ انتخابات میں پی ٹی آئی سے کئے جانے والے تعاون کو یاد دلائیں اپوزیشن ہزار بار انہیں آئینہ دکھائے اس سے کچھ ہونے والا نہیں بقول غالب  ؔ 

 نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو  غالبؔ 

ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

مزید :

رائے -کالم -