ضرورت ہے ایک ٹھوس قدم کی!!

ضرورت ہے ایک ٹھوس قدم کی!!
ضرورت ہے ایک ٹھوس قدم کی!!

  

جنوبی پنجاب کی ممتاز سماجی شخصیت کا نام بھی ممتاز احمد خان ہے وہ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں مگر سماج کا درد انہیں ہر قومی اور مقامی، عالمی اور ملکی معاملے میں متحرک رکھتا ہے۔ اس ہفتے ان کی دعوت ملی تو برستی بارش کے باوجود اہل علم و دانش ان کے ہاں پہنچے۔ پتہ چلا کہ برطانیہ کی نامور پاکستانی نژاد شخصیت طٰحہ قریشی ان کی دعوت پر اہم دینی و قومی معاملے پر تبادلہ خیال کی محفل میں مہمان خاص ہیں۔ معاملہ برطانیہ کا تھا اور پاکستان سے متعلق تھا اس لئے طٰحہ قریشی سے بہتر روشنی ڈالنے والا شائد کوئی دوسرا نہ تھا۔ طٰحہ قریشی خوش قسمت ہیں کہ ان کی سماجی خدمات کا اعتراف کیا گیا اور ملکہ برطانیہ نے انہیں ممبر برٹش ایمپائر کا اعزاز عطا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں کچھ لوگوں نے جن میں پاکستانی، ہندوستانی، برطانوی باشندے بھی شامل ہیں قادیانیوں کی حمایت میں ایک تنظیم بنائی جس کا نام ”آل پارٹیز پارلیمنٹری گروپ فار  دی احمد یہ مسلم کمیونٹی رکھا گیا یہ گروپ برطانوی پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں، دارالعلوم اور دارالامراء کے 41 ارکان پر مشتمل ہے۔

اس گروپ کے چیئرمین ایم پی (ہمارے ہاں کے ایم این اے کی طرح) شوون میک ڈونا ہیں۔ گیا نائب چیئرمینوں میں لارڈ (ممبر دارالامراء) ٹوپے، ایم پی ایلسین تھوٹیس، ایم پی کرسٹینارلیس، ایم پی ایلیٹ کو لبرن، ایم پی فلیور اینڈرسن، ایم پی جیسن میک آرٹنی، ایم پی میٹ ویسٹرن، ایم پی ڈاہان ہائینڈرز، ایم پی سر ایڈورڈ ڈاوے، ایم پی سارہ جونز اور ایم پی ٹان ڈھیسی شامل ہیں۔ گروپ کے ارکان ایم پی افضل خان، ایم پی اینجیلا رچرڈسن، ایم پی کرس سٹیٹن، ایم پی ڈگلس چیمپئن، ایم پی گراہم سٹرانگز، ایم پی پیز سمتھ، ایم پی ایان مرے، ایم پی عمران احمد خان، ایم پی جیز سنڈرلینڈ ایم پی جینٹ ڈیبی، ایم پی جون سپلیر، ایم پی جوناتھن لارڈ، ایم پی کیبنٹ گرین، لارڈ ایلٹن، لارڈ ڈھولاگیا، ایم پی مارگریٹ فیریئر، ایم پی مارشا کورڈووا، ایم پی نادیہ، وائیٹم، ایم پی پال سیکا، ایم پی فلپ ڈیویز، ایم پی کرس گریلنگ، ایم پی جیری ہنٹ، ایم پی جان میکڈونل، ایم پی رتھ کیڈبری، ایم پی سیما ملہوترا، ایم پی سرپیٹر باٹم لے اور ایم پی سٹیو میک کیلے ہیں۔ اس گروپ کی طرف سے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی گئی جس میں پاکستان کی طرف سے قادیانیوں پر ظلم، جبر و استبداد اور بین الاقوامی انتہا پسندی کے فروغ کے الزامات عائد کئے گئے ہیں، یہ رپورٹ 167 صفحات پر مشتمل ہے اس رپورٹ میں قادیانیوں کے لئے وہی اصطلاح استعمال کی گئی ہے جو برطانیہ میں ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنے والے سرکاری ادارے آف کام (Ofcom) کی طرف سے مسلط کی گئی ہے۔

اخبارات، جرائد اور چینلز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ قادیانیوں کو قادیانی نہیں بلکہ احمدی مسلم لکھیں اور کہیں اس کی خلاف ورزی پر جرمانے  بھی کئے جائیں اس طرح قادیانیوں کو مسلمان منوایا جا رہا ہے۔ یہ رپورٹ تیار کرنے میں جن اداروں اور افراد نے معاونت کی ہے ان میں سابق مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر، مذہبی اور سماجی شخصیت ڈاکٹر غضنفر مہدی کی بیٹی رباب مہدی رضوی (انٹرنیشنل امام حسین کونسل لندن) ڈاکٹر عرفان ملک (مذہبی آزادی کے کیسوں کی پیروی کرنے والے) مرزا عثمان احمد (قادیانی پاکستان) مجیب الرحمن وکیل، افتخار ایاز چیئرمین انسانی حقوق کمیٹی، ایمنسٹی انٹرنیشنل، سنٹر فار لیگل ایڈ، ہیومن رائٹس و ادارے فرنٹیرز، پروفیسر جاوید رحمان اور وکیل یاسر ہمدنی بھی شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر قادینی کو پیدائش سے موت تک ظلم، جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کو ووٹ کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ پاکستان میں قادیانیوں سمیت تمام اقلیتوں کو ووٹ ڈالنے، الیکشن لڑنے کا پورا حق حاصل ہے۔ مسئلہ اصل میں یہ ہے کہ ربوہ کی پالیسی کے مطابق قادیانی بطور اقلیت اپنے ووٹ کا اندراج ہی نہیں کراتے اور اپنی برادری کے کسی فرد کو اقلیتی نشست پر امیدوار بننے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی اس طرح در حقیقت قادیانی مذہب کے پیرو کاروں نے خود ہی پاکستانی انتخابی عمل کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ رپورٹ میں برطانوی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کرے۔

عالمی برادری پاکستان میں قادیانیوں کو ان کے حقوق دلائے۔ رپورٹ میں بڑی چالاکی سے عیسائیوں، ہندوؤں اور شیعوں کو بھی قادیانیوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اپنی مرضی سے مختلف ملکوں کو چلے جانے والے قادیانیوں کو برطانیہ اور یورپ میں پناہ گزینوں کا درجہ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں برطانوی حکومت کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ اب برطانیہ میں بھی قادیانیوں کے خلاف نفرت کا اظہار شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں گلاسکو میں 2016ء میں قتل ہونے والے ایک قادیانی اسد شاہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ شخص پہلے قادیانی تھا پھر خود بھی نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا۔ اسے قادیانی قیادت نے خود ہی قادیانیت سے خارج کر رکھا تھا۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قادیانیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کا داخلہ برطانیہ میں بند کر دیا جائے۔ رپورٹ میں برطانوی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر ان تمام امتیازی قوانین کو ختم کرائے جو قادیانیوں کی مخالفت میں بنائے گئے۔ یاد رہے کہ ان کی مراد 7 ستمبر 1974ء کو منظور کی گئی آئینی ترمیم اور صدر جنرل ضیاء الحق کی طرف سے جاری ہونے والا امتناع قادیانیت آرڈیننس ہیں متذکرہ آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں اور لاہوری احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اور متذکرہ آرڈیننس کے ذریعے قادیانیوں کی طرف سے اسلامی اصطلاحات کے استعمال کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں 2010ء میں پاکستان میں قادیانیوں کی دو عبادت گاہوں پر حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان عالمی دہشت گردی کا شکار تھا۔

کئی تنصیبات کے علاوہ  مساجد، امام بارگاہوں، گرجاگھروں کو نشانہ بنایا گیا، تشدد کی اور دہشت گردی کی اسی لہر کی زد میں 28 مئی 2010ء کو قادیانیوں کی دو عبادت گاہوں کا آ جانا بھی بعید از قیاس نہیں۔ دیکھا جائے تو یہ رپورٹ پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک سازش تو ہے ہی یہ پاکستان کی آئینی خود مختاری پر حملہ بھی ہے۔ آئین پاکستان میں 1974ء کی ترمیم پاکستان کی منتخب پارلیمینٹ نے متفقہ طور پر کی تھی۔ اس کی روشنی میں ہونے والے مزید اقدامات کو بھی عوام اور منتخب نمائندوں کی غالب اکثریت کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ رپورٹ کی عبارت بتاتی ہے کہ قادیانی ذہن کی تخلیق ہے۔ اس میں قادیانی نبی مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے خلفاء کا جہاں بھی ذکر آیا ہے اس سے پہلے ”حضرت“ کا لفظ ضرور لگایا گیا ہے۔ اگر یہ برطانوی ارکان پارلیمینٹ کی تیار کردہ ہوتی تو وہاں ایسا کوئی رواج یا روایت نہیں ہے۔ وہاں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام سے پہلے بھی حضرت کا لفظ لکھنے کی روایت نہیں ہے۔

یہ رپورٹ نہ صرف جاری کی جا چکی ہے بلکہ یورپی ممالک کی حکومتوں کو ارسال بھی کی جا چکی ہے۔ کرنے والوں نے یہ کام کر لیا جو افسوسناک ہے لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک پاکستانی اداروں کا رویہ ہے۔ دفتر خارجہ نے اتنے دن گزرنے کے باوجود کوئی مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا۔ برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے بھی کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ جن پاکستانیوں اور غیر ملکیوں نے بڑے شوق سے اپنے نام معاونین میں شامل کرائے ہیں ان کے حوالے سے بھی کسی حکومتی کارروائی کا کوئی اشارہ تک نہیں ملا۔ قومی اداروں، ملکی و حکومتی شخصیات کے خلاف سرگرمیوں کا مظاہرہ کرنے والوں کا شکنجہ کسنے کے لئے تو کئی ادارے فعال ہو جاتے ہیں مگر ہماری آئینی و دینی اساس عقیدہ ختم نبوت کو چیلنج کرنے والوں کی مذمت کا بھی حوصلہ نہیں کیا جا رہا۔ صرف ایک تردید سامنے آئی ہے جو مانچسٹر سے منتخب ایم پی محمد افضل خان کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ان کو نہ تو یہ رپورٹ دکھائی گئی ہے نہ انہوں نے اس پر دستخط کئے ہیں۔ انہوں نے اس کے مندرجات سے بھی عدم اتفاق کا اعلان کیا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -