یومِ دفاع اور ہم! (2)

یومِ دفاع اور ہم! (2)
یومِ دفاع اور ہم! (2)

  

ہم جس جنگ کی یاد میں یومِ دفاع مناتے ہیں آیئے جانتے ہیں کہ اس کی تفصیلات کیا ہیں؟……ہمارا پہلا دعویٰ یہ ہے کہ انڈیا، ہم سے رقبے اور آبادی میں چار گنا زیادہ تھا…… لیکن اسلامی جنگوں پر غور کریں تو معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مسلم افواج جب قیصر و کسریٰ کی عظیم سلطنتوں پر حملہ آور ہوئی تھیں تو فریقین میں آبادی اور رقبے کا تناسب کیا تھا؟…… یہ بھی دیکھیں کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں جرمنی اور اتحادی ممالک کی آبادیوں اور رقبوں میں کیا نسبت تھی!……

ہمارا دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ انڈین آرمی، پاکستان آرمی سے اڑھائی تین گنا زیادہ بڑی یا کثیر تھی…… یہ دعویٰ درست ہے یا غلط ہے اس کا فیصلہ کیسے کیا جائے گا؟کیا ہم نے اردو زبان میں اس جنگ کی کوئی باقاعدہ پروفیشنل ملٹری ہسٹری لکھی ہے؟…… انگریزی کی بات چھوڑیں …… ہماری آرمی کے اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خان نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا عنوان تھا: My Vision…… یہ کتاب اول سے آخر تک پڑھ لیجئے۔ آپ کنفیوژ ہو جائیں گے کہ جنرل صاحب نے کیا کاٹھ کباڑ اکٹھا کیا ہے۔وہ ایک تجربہ کار پروفیشنل سولجر تھے۔ ان کا فرض تھا کہ وہ اگر اس جنگ کی تاریخ لکھنے بیٹھے تھے تو کم از کم مروجہ تحریری پیمانوں ہی کی پیروی کرتے۔ کیا ان کے سامنے دوسری جنگ عظیم کی لڑائیاں (Battles) نہیں تھیں؟ وہ تو خود اس جنگ میں شریک تھے۔ کیا انہوں نے اتحادی جرنیلوں کی لکھی ہوئی تواریخ نہیں دیکھی تھیں؟انڈیا کے ہمسائے میں جو جنگ لڑی گئی تھی اور جس کو ”برما وار“ بھی کہتے ہیں کیا اس کی ملٹری ہسٹری جنرل موسیٰ کی نظر سے نہیں گزری تھی؟

اس کتاب کا عنوان (Defeat Into Victory) ہے۔ یہ 1956ء میں شائع ہوئی تھی۔ پبلشرز کا نام کیسل اینڈ کمپنی، لندن تھا۔ اس کے بعد اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ 576صفحات پر مشتمل اس کتاب کی ترتیب ہی کاش جنرل موسیٰ نے دیکھ لی ہوتی! ”مائی ورشن“1983ء میں (1965ء کی جنگ کے 18سال بعد) واجد علی پبلشرز نے شائع کی۔ ویسے بھی فوجیوں کو معلوم ہے کہ کسی جنگی معرکے کو ضبطِ تحریر میں لانے کی پریکٹس اور طرزِ نگارش کیا ہے۔ جنگی تاریخ الل ٹپ شروع نہیں کی جاتی۔ اس جنگ کی وجوہات، واقعات اور نتائج کی تفاصیل کیا ہیں، طرفین کی عسکری قوت کیا ہے، دونوں کے پاس کون کون سے بھاری ہتھیار ہیں، محاذوں کی زمینی کیفیات کیا ہیں، موسم کون سا ہے اور دوران جنگ، کس فریق کی فوجی قیادت نے کیا معرکے مارے یا کیا کیا اور کہاں کہاں غلطیاں کیں، اسی تفصیل کا نام ملٹری ہسٹری ہے…… اور دوسری جنگ عظیم پر تو ان تواریخ کی ایک لائن لگی ہوئی۔ فیلڈ مارشل ولیم سلم نے Defeat Into Victory لکھی، فیلڈ مارشل منٹگمری نے Memoirs لکھی، جنرل آئزن ہاور نے Crusade in Europe لکھی، چرچل نے تو چھ ضخیم جلدوں میں اس جنگ کی مکمل تاریخ لکھی، روس کے فیلڈ مارشل زوکوف نے ”سیکنڈ ورلڈ وار“ لکھی، جرمنی کے جرنیلوں (فیلڈ مارشل جوڈل اور فیلڈ مارشل کِٹل وغیرہ) نے بھی یہی کام کیا۔ مطلب یہ ہے کہ فاتحین اورمفتوحین نے اس چھ سالہ عظیم جنگ پر جو کچھ لکھا اس کی ایک بندھی ٹکی ترتیب تھی جس میں خاکے، نقشے اور تصاویر بھی تھیں۔ دونوں فریقوں کی فورسز اور سلاحِ جنگ کا موازنہ کرنے کے لئے جداول (Tables) بھی دی گئی تھیں …… لیکن کیا یہ سب کچھ ہمارے جنرل موسیٰ کی My Version میں موجود ہے؟

1965ء کی جنگ پرغیروں نے جو کچھ لکھا ان کی بھی ایک لمبی چوڑی فہرست ہے۔ ان میں سویلین لکھاری بھی تھے (مثلاً سٹیفن کوہن) اور وردی پوش بھی تھے(مثلاً کرنل برائن کلاؤلی)۔ دشمن لکھاریوں کا تو ذکر ہی کیا۔ انڈیا کے درجنوں وردی والوں نے اس جنگ پر طبع آزمائی کی۔ ان کا اپنا نقطہ ء نظر تھا، میں اس پر بحث نہیں کروں گا۔ صرف عرض یہ کروں گا کہ ان لوگوں نے اپنا ورشن لکھا۔ پاکستانی لکھاریوں نے بھی ایسا ضرور کیا لیکن کوئی باقاعدہ تاریخ نہ لکھی۔ جنرل کے ایم عارف، جنرل ابوبکر عثمان مٹھا، جنرل تجمل اور دوسرے بہت سے پاکستانی سینئر افسروں نے اس جنگ کے مختلف پہلوؤں پر فرداً فرداً تبصرہ کیا لیکن کوئی مربوط تصنیف جو انڈین جرنیل ہربخش سنگھ کی War Despatches کا جواب ہو سکتی، نہ لکھی!

سب سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ 1965ء کی جنگ میں دونوں افواج (Armies) کے کمانڈر انچیف کون تھے…… انڈین آرمی چیف کا نام جنرل جے این چودھری تھا جس نے اس جنگ پر کوئی تحریر نہ لکھی۔ پاکستانی آرمی چیف کا ذکر اوپر کر آیا ہوں۔جنرل موسیٰ نے ”مائی ورشن“ لکھی جو ایک غیر مربوط سی کوشش تھی۔ ہمارے ”اصل“ آرمی چیف تو جنرل ایوب خان تھے جنہوں نے آپریشن جبرالٹر (اگست 1965ء) سے اس جنگ کا آغاز کیا۔ اس کے بعد آپریشن گرنیڈ سلام (اوائل ستمبر  1965ء) لانچ ہوا اور اس کے سبب ہی 6ستمبر 1965ء کو انڈیا نے بین الاقوامی سرحد پر واہگہ کے راستے لاہور پر حملہ کر دیا۔ 7 اور 8 ستمبر کو سیالکوٹ پر حملہ کیا جس کے جواب میں پاکستان نے اپنی وہ جوابی یلغار (کاؤنٹر افینسو) لانچ کی جو کھیم کرن۔ قصور محور (Axis) پر لانچ کی گئی اور جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو جاتی تو پاکستان آرمی واقعی دہلی تک بے روک ٹوک جا سکتی تھی۔ یہ ”دہلی پہنچنے“ کی بات میں نہیں کر رہا بلکہ انڈیا کے کئی فوجی لکھاریوں نے بھی یہی کہا ہے۔ 10اور 11ستمبر 1965ء کو انڈیا کی حالت (Position)اس قدر مخدوش ہو گئی تھی کہ انڈین آرمی چیف، جنرل چودھری نے ویسٹرن کمانڈ کے جی او سی انچیف، لیفٹیننٹ جنرل ہربخش سنگھ کو کہہ دیا تھا کہ وہ دریائے بیاس سے پیچھے ہٹ آئے اور انڈین آرمی کو کھیم کرن سے پس قدمی کا حکم دے دیا تھا۔ جسے جنرل سنگھ نے ماننے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ آرڈر اسے لکھ کر دے دیا جائے یا پھر جنرل چودھری ویسٹرن کمانڈ کی کمانڈ خود سنبھال لیں۔ ان ایام میں کیپٹن امریندر سنگھ جو آج بھی حیات ہیں اور بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں، وہ جنرل سنگھ کے ADC تھے۔ انہوں نے کئی بار ببانگِ دہل میڈیا پر آکر یہی کہا ہے کہ اگر جنرل چودھری کی بات مان لی جاتی اور انڈین آرمی کو کھیم کرن سے واپسی کے احکامات دے دئے جاتے تو پاکستان آرمی کی یلغار کا راستہ صاف تھا اور اسے دہلی تک جانے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی!

1965ء کی جنگ پر سب سے ثقہ اور مستند تاریخ لیفٹیننٹ جنرل ہربخش سنگھ کی تصنیف ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن 1991ء میں لانسر انٹرنیشنل نئی دہلی نے شائع کیا تھا (یعنی جنگ سے 26سال بعد)…… یہی ایڈیشن میرے پاس ہے۔ اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ سے اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔اس کتاب کا سائز نسبتاً بڑا یعنی 5½"x8"ہے جبکہ کتاب کا عام سائز 4"x7"ہوتا ہے۔ اس بڑے ایڈیشن کے 216صفحات ہیں اور اس میں کئی نقشے بھی ہیں۔ کتاب کا آخری ایڈیشن جو میری نظر سے گوگل پر گزرا وہ 2013ء کا ہے اور امریکہ سے شائع ہوا ہے۔ اس کا سائز 4"x7"ہے اور اس کے صفحات 416 ہیں۔ ممکن ہے یہ تفصیل قاری کو بور کرنے والی محسوس ہو لیکن چونکہ یہ خود انگریزی محاورے کے مطابق ”گھوڑے کے منہ“ سے نکلی ہے اس لئے اس کی اصابت پر (بھارتی نقطہ ء نظر سے) انگلی نہیں اٹھائی جا سکی۔ اسی کتاب (War Despatches) میں جنرل سنگھ نے پروفیشنل اندازِ تحریر کی پیروی کی ہے۔ اس کے گیارہ باب ہیں جن کے عنوانات درج ذیل ہیں:

1۔پلانوں (Plans) کا ارتقائی جائزہ

2۔15کور کے آپریشنز (کشمیر محاذ)

3۔11کور کے آپریشنز (لاہور محاذ)

4۔ون کور کے آپریشنز (سیالکوٹ محاذ)

5۔کلوز ائرسپورٹ (فضائی جنگ)

6۔چھاتہ برداروں کا خوف

7۔لاجسٹک سپورٹ

8۔پاکستان کا ٹیکٹیکل آپریشنوں کا تصور (Concept)

9۔اسباق جو اس جنگ سے سیکھے گئے

10بیلنس شیٹ

11۔جنگ میں سویلین کنٹری بیوشن

کتاب کے ابتدائی تین صفحات میں جنگ کا ایک مختصر سا تعارف دیا گیا ہے۔ جس میں فریقین کے کمانڈروں کے نام درج ہیں اور ان ناموں کے سامنے ان کے مناصب کا اندراج کیا گیا ہے مثلاً کون سی کور میں کون سے ڈویژن اور بریگیڈ کمانڈر کا نام کیا ہے…… جنرل ہربخش سنگھ شمال میں کشمیر سے لے کر جنوب میں ہیڈسلیمانکی تک کے ایریا کا فوجی کمانڈر تھا۔ اس کے مطابق پاکستان کے پاس 756 اور انڈیا کے پاس 608ٹینک تھے……انڈیا کے پاس توپخانے کی 628اور پاکستان کے پاس 552بیٹریاں تھیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو آرمر اور آرٹلری کے ضمن میں دونوں افواج کے بھاری اسلحہ جات میں کوئی زیادہ فرق نہ تھا بلکہ پاکستان کے پاس انڈیا کے مقابلے میں 150ٹینک زیادہ تھے۔جن میں 352وہ پیٹن (Patton) ٹینک تھے جو جدید ترین امریکی ٹینک تھے اور جن کا کوئی جواب انڈیا کے پاس نہ تھا…… ہاں جس باب میں انڈیا کو پاکستان پر برتری حاصل تھی وہ انفنٹری کا صیغہ (Arm)تھا…… پاکستان کے پاس پیادہ فوج کے 16ریگولر بریگیڈ تھے اور انڈیا کے پاس 35ریگولر انفنٹری بریگیڈ تھے۔ دوسرے لفظوں میں انڈیا کے پاس ایک لاکھ سپاہ تھی اور پاکستان کے پاس 40ہزار……

اپنی اس کتاب میں جنرل سنگھ نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ پاکستان نے کھیم کرن۔ قصور محاز پر جو جوابی یلغار لانچ کی تھی اس میں اگر پاکستان کے پاس بھی انفنٹری فورس کا حجم وہی ہوتا جو انڈیا کے پاس تھا تو پاکستان کو انڈیا پربرتری حاصل ہوتی۔ اس نے پاکستانی جونیئر افسروں (لفٹین، کپتان،میجر اور کرنل) کی دلیری اور Dash کی تعریف کی ہے اور اپنے سینئر افسروں کی کھل کر مذمت کی ہے۔ میجر جنرل نرنجن پرشاد کا اپنی جیپ چھوڑ کر لاہور محاذ پر میدان جنگ سے بھاگ کر گنے کے کھیت میں چھپ جانا اور اس کے بریف کیس میں اہم خفیہ دستاویزات کا پاکستان کے ہاتھ لگ جانا ایک انتہائی شرمناک واقعہ لکھا گیا ہے۔ اس طرح جنرل سنگھ نے پاک فضائیہ کی دوبدو فضائی لڑائی میں پاکستانی برتری کو تسلیم کیا ہے۔ اس نے جنرل چودھری کی اس وزٹ کا ذکر بھی کیا ہے جو جوابی پاکستانی یلغار کے خطرے کے پیش نظر انبالہ میں کی گئی تھی اور جس میں جنرل چودھری کی پسپائی والی ”متبادل آپشن“ کو جنرل سنگھ نے رد کر دیا تھا۔

اس کتاب (War Despatches) کے مقابلے کی کوئی پاکستانی تصنیف میری نظر سے نہیں گزری۔ پاکستانی جرنیلوں نے اس جنگ پر جو کتابیں لکھی ہیں ان میں جنرل شوکت رضا کی The Pak Army War 1965 وہ کتاب ہے جو جنرل ضیا کے کہنے پر جنرل شوکت رضا نے لکھی تھی۔ بلکہ اس کی تین جلدیں ہیں۔ پہلی جلد 1947-48ء کی کشمیر وار پر، دوسری جلد 1965ء کی جنگ پر اور تیسری 1971ء کی جنگ پر ہے۔ لیکن اس کتاب (1965ء کی جنگ)میں بھی وہی نقائص ہیں جو 1965ء کی جنگ پر لکھی جانے والی ان تصانیف میں ہیں جو وردی پوشوں نے لکھی ہیں …… ہاں ایک کتاب ایسی بھی ہے جو جنرل سنگھ کی کتاب کا جواب کہی جا سکتی ہے…… یہ لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد کی تصنیف ہے۔

یہ کتاب 1965ء Indo-Pak War کے نام سے لکھی گئی۔ اس کی تقطیع اور ضخامت اتنی بڑی ہے کہ اس کو سنبھالنا مشکل ہے۔ اسے میز پر پھیلا کر ہی پڑھا جا سکتا ہے۔ اس کا سائز 14"x10"ہے…… اس میں جابجا نقشوں کی بھرمار ہے۔ یہ کتاب سروسز بک کلب کے توسط سے آرمی کے تمام افسروں میں تقسیم کی گئی۔ لیکن اس کو پڑھنے کے لئے کئی ہفتوں کی مدت درکار ہے۔ اس لئے اس کا کوئی مثبت Impactپاکستانی ملٹری آفیسرز پر نہیں ہوا۔

میں نے سطور بالا میں جن کتب کا حوالہ دیا ہے وہ اس جنگ پر لکھی گئی کتابوں میں سے چند ایک ہیں۔ لیکن بات وہی ہے کہ اس جنگ پر لکھی جانے والی کوئی ایسی کتاب اردو میں موجود نہیں جو حقیقت اور معروضیت پر مبنی ہو۔ اردو لکھاریوں میں جن سویلین حضرات نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے، ان کا پیشہ ورانہ مبلغ علم نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے انہوں نے جذباتیت کا سہارا لیا ہے اور اس ”سہارے“ کے شواہد اَن گنت ہیں۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -