شریفانہ سیاست کا ایک باب بند

شریفانہ سیاست کا ایک باب بند

  

 مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی ظاہر شاہ بھی چل بسے

مرحوم کی ملک، قوم اور پارٹی کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں، شہباز شریف و دیگر کا اظہار تعزیت

مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ المعروف ظاہرے شاہ 1942ء میں ڈسکہ کے نواحی گاؤں آلو مہار شریف میں پیدا ہو ئے ان کے والدپیر سید فیض الحسن شاہ معروف عالم دین، تحریک پاکستان کے سرگرم رکن اور ختم نبوت کے علمبردار تھے۔سید افتخار الحسن شاہ نے 1965ء میں بی ڈی ممبر کی حیثیت سے اپنی سیاست کا آغاز کیا پھر قسمت کی دیوی مہربان ہو گئی1979میں وہ چئیر مین یونین کونسل منتخب ہوئے،1983ء میں چار یونین کونسلز کے حلقہ سے ممبر ضلع کونسل منتخب ہو گئے، 1985 میں غیر جماعتی الیکشن میں ممبر پنجاب اسمبلی بن گئے وہ متواتر تین بار 1993تک ایم پی اے منتخب ہو تے رہے۔ 1997 میں ایم این اے منتخب ہوئے، 2008میں بی اے کی شرط کی وجہ سے ان کے داماد سید مرتضی امین ایم این اے بنے 2013اور 2018 میں بھاری اکثریت سے پھرایم این اے منتخب ہو ئے جبکہ ان کے بھائی سیدحسنات الحسن شاہ ضلع کونسل سیالکوٹ کے چیئرمین اور کئی بار یونین کونسل کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ان کی ساری سیاسی زندگی مسلم لیگ (ن) کیساتھ وابستگی میں گزری وہ میاں محمدنوازشریف اور میاں محمد شہبازشریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور اپنے حلقہ کی ہر دلعزیز شخصیت اور ملنسارطبعیت کے مالک تھے۔ظاہرے شاہ مرحوم اپنے حلقہ میں سیاسی مخالف اور دوستوں کی غمی و خوشی میں برابر کے شریک رہتے وہ حلقہ میں ترقیاتی کاموں کی ضمانت سمجھے جاتے تھے پرامن اور مثبت سیاست کی وجہ سے ان کو مدتوں یاد رکھا جائے گاڈسکہ سے 4بار ایم این اے اور 3بار ممبر صوبائی اسمبلی رہنے والے سید افتخارالحسن شاہ المعروف ظاہرے شاہ2اگست 2020ء کو78سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے۔ سید افتخارالحسن شاہ اپنی 50سالہ سیاسی زندگی میں ناقابل شکست رہے۔نیب میں بھی زیر عتاب رہے مگر سیاسی وابستگی تبدیل نہیں کی۔ مرحوم نے اپنے بیٹے عطاء الحسن شاہ کو بھی ُُُPP41سے الیکشن لڑایا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ مرحوم نے سوگواروں میں والدہ۔بیوہ۔ بیٹا۔2بیٹیاں چھوڑی ہیں۔مرحوم کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد آبائی گاؤں آلو مہار شریف میں ان کے والد پیرسید فیض الحسن شاہ کے پہلو میں آلو مہار شریف میں سپرد خاک کیاگیا۔نماز جنازہ میں سیاسی سماجی مذہبی شخصیات، مسلم لیگ ن کے رہنماؤں،ورکرز اور ان کے مریدین نے شرکت کی اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار بار تھی۔ 

مرحوم ظاہرے شاہ کی وفات پر سیاسی، سماجی اور شہری حلقوں میں ہر سطح پر بھرپور اظہار تعزیت کیا گیا اور ان کی سیاسی و سماجی خدمات کو زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ اراکین سینٹ اور قومی و صوبائی اسمبلی نے مرحوم کی خدمات کو خوب سراہا اور قومی اسمبلی میں اس حوالے سے ایک تعزیتی قرار داد بھی پیش کی گئی جس میں مرحوم کی پارلیمانی خدمات کو سراہا گیا۔ اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مرحوم کی خدمات کے اعتراف میں تعزیتی ریفرنس کا اہتمام بھی کیا، پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کی موجودگی میں ظاہرے شاہ مرحوم کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پارٹی کے سربراہ میاں شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اس ریفرنس میں سیالکوٹ سے رکن قومی اسمبلی سید افتخار الحسن شاہ مرحوم کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور کہا گیا شاہ صاحب مسلم لیگ(ن) کے ایک مضبوط ستون تھے، اس موقع پر گفتگو کرنے والے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آلو مہار شریف کی درگاہ سے تعلق کی وجہ سے بھی اْنہیں عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ ظاہرے شاہ کے لقب سے معروف تھے۔ ان کے والد صاحبزادہ فیض الحسن مرحوم برصغیر کے نامور خطیب تھے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ساتھ مل کر انہوں نے اپنی خطابت کے جوہر دکھائے اور خوب نام پیدا کیا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی وہ طویل عرصہ تک اپنی مسحور کن تقاریر کے ذریعے پارلیمنٹ کے ماحول کو معطر کرتے رہے۔ انہوں نے 1984ء میں عارضہ قلب کی وجہ سے وفات پائی۔ جس کے بعد سید افتخار الحسن المعروف ظاہرے شاہ انتخابی سیاست میں ابھرے، اور مسلسل کئی بار پہلے پنجاب اور پھر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے۔شگفتہ اندازِ بیان ان کا خاصہ تھا۔ مسلم لیگ(ن) کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے، اور گزشتہ انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ75 سے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے حریف کو بھاری مارجن سے شکست دی۔ لاہور کے ایک ہسپتال میں ان کے دِل کا اپریشن ہوا تھا، جس کے بعد ان پر فالج کا حملہ ہو گیا۔ چند روز موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، اور اہل ِ سیاست کو ان ہی کی طرح اپنے نظریات سے جڑے رہنے کی توفیق دے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -