عید ملن آن لائن مشاعرہ 

 عید ملن آن لائن مشاعرہ 

  

 اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے

گزشتہ دنوں ڈاکٹر یوسف خشک چیرمین اکادمی ادبیات اسلام آباد نے ایک عید ملن مشاعرے کا اہتمام کیا۔جس کی صدارت جناب ڈاکٹر منور ہاشمی نے کی جب کہ مہمان خصوصی میں جناب پروفیسر مقصود جعفری اور جناب شہپر رسول کے نام شامل تھے۔ نظامت کے فرائض معروف شاعر جناب منظر نقوی نے ادا کیے۔انتظام وانصرام میں جناب ڈاکٹر شیر علی کی کاوشیں شامل تھیں۔

استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے پروفیسر داکٹر یوسف خشک چیر مین اکادمی ادبیات نے اس خوشی کے موقع پر سب ناظرین اور مشاعرے میں شریک لوگوں کو مبارک باد پیش کی کہ انھوں نے وقت نکالا اور اس مشاعرے میں شریک ہوئے۔

مشاعرے میں پڑھے گئے اشعار میں سے چند اشعار ملاحظہ کیجئے:

کھلا تھا حیرتوں کا در اچانک

وہ ملنے آگیا تھا گھر اچانک

منظر نقوی۔اسلام آباد

بند ہونٹوں پہ اداسی کی فضا چھائی ہے

رسمِ گفتار کو زنجیر جوپہنائی ہے

ڈاکٹر شاہدہ سردار

وہ زمانے موت سے کچھ کم نہ تھے

زندگی میں جب تمھارے غم نہ تھے

ڈاکٹر ممتاز منور۔مہاراشٹر۔انڈیا

جو اک خلا ہے محبت میں وصل وہجر کے بیچ

سبھی کو خوف اسی درمیان سے آتا ہے

عاطف توقیر

عید کے دن بھی گلے مل نہیں سکتا تجھ سے

اس کرونا کے سبب دل مرا مجبور بھی ہے

ڈاکٹرعمران ظفر

خزاں نصیب اسی رہگذر میں اجڑے تھے

وہیں سے سلسلہ نو بہار اٹھا لینا

سرور جاوید

اب وفاؤں کے اسباب نہیں ملتے ہیں 

عشق میں پہلے سے آداب نہیں ملتے ہیں 

بینا گوئندی

میں انقلاب پسندوں کی اک قبیل سے ہوں 

جو حق پہ ڈٹ گیا اس لشکرِ قلیل سے ہوں 

میں یونہی دست وگریباں نہیں زمانے سے

میں جس جگہ پہ کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں 

پروفیسر اشرف کمال

درد جنونِ عشق نہ رہا

تیرے نہ ہونے سے کچھ نہ رہا

علی کاوسی۔ایران

آخری بار تجھے دل میں اتار اجائے

اب بھی ممکن ہے یہ نقش سنوارا جائے

فرحت۔امریکہ

کوئی مجرم ہے یہاں کوئی سہولت کار ہے

ایک ٹولہ ہے جو ہم سے برسرِ پیکار ہے

ناز عارف۔کراچی

آندھیوں میں ٹوٹنے کا خوف طاری ہوگیا

پیڑ اپنے ہی پھلوں سے اتنا بھاری ہوگیا

افضل گوہر

مجھے جلاتے ہیں بے گھر فرات ودجلہ کے

تڑپتے لاشے کٹے سر مجھے بلاتے ہیں 

ظفرمنصور

ہاتھ چھوٹا تھا بچپنے میں کہیں 

لوٹ کر پھر خبر نہیں آئی

عبدالقادر تاباں 

۔۔۔نظم۔۔”اگر مگر“

اگر مگر سے ہے میری زندگی کی تشریح

اگر مگر سے ہے خوابوں کی تعبیر....

مٹا دیتا دنیا سے نفرت کا جال

مگر میرے ہاتھ میں جادو کی تلوار نہیں 

ڈاکٹر خلیل طوقار۔ترکی

خاموش بیٹھے ہو کب سے کرو نا بات کوئی

یہ بات سن کے وہ کچھ اور دور جا بیٹھا

اتنے کڑوے دور میں شیریں مقالی کس طرح

پوچھ مت اپنی زباں ہم نے سنبھالی کس طرح

باصر کاظمی۔انگلینڈ

دل لگالیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو

پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

صورت حالات ہی پر بات کرنی ہے اگر

پھر مخاطب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو

باصر کاظمی

کیا ہجر میں تسکین کی صورت نہیں رہتی

رہتی ہے مگر تیری بدولت نہیں رہتی

پروفیسر احمد محفوظ، انڈیا

میں خواب ہجر سے جاگا تو ڈھونڈ لوں گا تجھے

تو اس نواح میں ہوگا مگر کہاں ہوگا

ابرار احمد

خوش یقینی میں یوں خلل آیا

کچھ نکلنا تھا کچھ نکل آیا

میں نے بھی دیکھنے کی حد کردی

وہ بھی تصویر سے نکل آیا

شہپر رسول۔انڈیا۔مہمان خصوصی

ستم گروں سے کوئی یہ کہہ دے ستم گری سے وہ بازآئیں 

زمانہ کروٹ بدل رہا ہے بدل وہ جائیں سزا سے پہلے

پروفیسرمقصود جعفری۔مہمان خصوصی

اک اجنبی کو اپنا بنانے کے واسطے

ہم نے دیے ہیں سارے زمانے کے واسطے

میرے لہو کی اس کو ضرورت ہے آج کل

کچھ رنگ چاہئے ہے فسانے کے واسطے

ڈاکٹر منور ہاشمی۔صدر محفل

……٭……٭……

صدارتی خطاب میں ڈاکٹر منور ہاشمی نے فرمایا کہ یہ رونقیں ڈاکٹر یوسف خشک صاحب کے چیرمین بننے کے بعد سامنے آئیں۔ ڈاکٹر شیر علی اور منظر نقوی جیسے کارکن مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کی کاوشوں سے یہ تقریبات منعقد ہورہی ہیں اور بیرون ملک سے شامل لوگوں کا بھی شکرگزار ہوں۔

ڈاکٹر یوسف خشک نے سب شعرا کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کی خوبصورتیوں کو پسند کیا۔ کوورڈ۔19 کی وجہ سے ہمیں جہاں دس سال میں پہنچنا تھا ہم وہاں چند ماہ میں پہنچ گئے اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے زوم کی وجہ سے فاصلوں میں کمی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ زندگی رکنی نہیں ہے۔ آج سے پانچ سال کے بعد آج پڑھائے جانے والے نصابوں سے مختلف ہوں گے۔کہ ہنگامی صورت حال سے کس طرح نمٹا جائے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -