مرید کے نارووال روڈ منصوبہ، فنڈز میں خوردبرد پر نیب کی سی اینڈ ڈبلیو سے انکوائری شروع

  مرید کے نارووال روڈ منصوبہ، فنڈز میں خوردبرد پر نیب کی سی اینڈ ڈبلیو سے ...

  

 لاہور(ارشد محمود گھمن)نیب نے سی اینڈ ڈبلیو سے مریدکے نارووال روڈ کی تعمیر میں تقریباً 8ارب روپے کے فنڈز میں خورد برد کی انکوائری شروع کردی ہے،اس سلسلے میں نیب لاہور نے محکمہ مواصلات و تعمیرات سے 2012ء سے اب تک کا تمام ریکارڈ طلب کرلیاہے۔تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو مریدکے نارووال 75کلو میٹر روڈ کی تعمیر کے لئے 2012ء سے لے کر2015-16ء تک 4ارب روپے کے فنڈز جاری کئے،بعدازاں 2016-17ء میں اسی سٹرک کے لئے مزید ساڑھے 3ارب روپے جاری کئے گئے، 2012ء سے2015-16ء میں جن افسروں کوفنڈز جاری ہوئے ان میں ایگزیکٹو انجینئر روڈ کنسٹرکشن ہائی وے لاہور عنصر وڑائچ،جاوید سلہریا اورنوید گھمن وغیرہ سیالکوٹ ہائی وے کے افسروں میں ایگزیکٹو انجینئرز،اویس (تب ایس ڈی او) وغیرہ شامل ہیں جس کے بعد متعلقہ ڈویژنز میں،قاضی آصف نواز اور شاہد منظوروغیرہ کی بطور ایگزیکٹوانجینئرزتعیناتی عمل میں آئی، ان میں سے محمد اویس اب نارووال میں ایگزیکٹوانجینئر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں،15جنوری2019ء کو سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے اس وقت کے چیف انجینئر سنٹرل زون لاہورکی رپورٹ پر مریدکے نارووال روڈ 41.50کلومیٹرتک کے متعلقہ ٹھیکیداروں ہائی وے کنسٹرکشن،یاسین برادرزاورایم آر اے کو ناقص میٹریل استعمال کرنے پرشوکاز نوٹس بھی جاری کئے جس کے بعد نئے تعینات ہونے والے چیف انجینئر نیئر اقبال نے ڈائری نمبر591،19مارچ 2019ء کواس وقت کے ایس ای خاور زمان کی رپورٹ پرسٹرک کی مرمت کو درست قراردے کر اپنے پیش رو چیف انجینئر کی طرف سے جاری کئے گئے شوکاز نوٹس داخل دفتر کردیئے ذرائع کے مطابق یاد رہے کہ مذکورہ افسران نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے اربوں روپے کے غیر قانونی اثاثہ جات بھی بنارکھے ہیں،اس معاملہ کا شکر گڑھ بارایسوسی ایشن کی درخواست پر چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے نوٹس دے کر نیب سے رپورٹ بھی طلب کررکھی ہے،عدالتی ہدایت نے نیب نے انکوائری شروع کرکے متعلقہ محکمہ سے ریکارڈطلب کرلیاہے۔

انکوائری شروع

مزید :

صفحہ آخر -