صحابہ کرام ؓ کی شان میں گستاخیاں امن تباہ کرنے کی سازش ہے: علماء کرام 

صحابہ کرام ؓ کی شان میں گستاخیاں امن تباہ کرنے کی سازش ہے: علماء کرام 

  

   لاہور (سٹی رپورٹر)جامعہ اشرفیہ لاہور میں مہتمم حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی کی زیر صدارت عظمت صحابہؓ و اہل بیت ؓ سیمینار منعقد ہوا جس سے ملک کی مختلف دینی و مذہبی جماعتوں کے قائدین مولانا عبدالرؤف فاروقی،حافظ اسعد عبید، مولانا محمد امجدخان، علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی، صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی، مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے، مولانا معاویہ اعظم طارق ایم پی اے،مولانا زبیر احمد ظہیر، مولانا خلیل احمد تھانوی،مولانا عبدالرؤف ملک،مولانا عزیز الرحمن ثانی،مولانا سید فہیم الحسن تھانوی،مولانا جمیل الرحمن اختر اور دیگر علماء نے ملک میں صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ کی شان میں گستاخیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ کی شان میں گستاخی ناقابلِ برداشت اور ملک کے امن و امان کو تباہ کرنے کی مذموم سازش ہے جس کو کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔سیمینار میں مقررین نے کل  جمعۃالمبارک کو عظمت صحابہ ؓ و اہل بیتؓ کے طور پر منانے کا اعلان کیا اور کہا کہ علماء اور خطباء جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں صحابہ کرامؓو اہل بیت عظامؓ کی عظمت و شان کو بیان کرتے ہوئے ان کے خلاف زبان درازی کے خلاف قرار داد مذمت منظور کروائیں،سیمینارمیں برطانیہ کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے قادیانیوں کی حمایت پر مبنی رپورٹ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ  قادیانیوں کو 1974ء میں متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلہ کے خلاف گھناؤنی سازش اورتحفظ ناموس رسالتؐ قانون کوختم کرانے کی جانب کوشش ہے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی قوم کے نظریاتی اور ایمانی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی ہر سازش کا ہر محاذ پر مقابلہ کیا جائے گا سیمینار کے مقررین نے جمعیت علماء اسلام کی پشاور منعقد ہونے والی تاریخی ختم نبوت کانفرنس کی بے مثال کامیابی پر مولانا فضل الرحمن اور جمعیت اسلام کو مبارکباد پیش کی، سیمینار میں مولانا قاری ارشد عبید، پروفیسر مولانا محمد یوسف خان، مولانا مفتی محمد حسن،مولانا مفتی انیس احمد مظاہری، مولانا حافظ حسین احمد، مولانا اسداللہ فاروق نقشبندی، علامہ یونس حسن،مفتی خرم یوسف، مولانا عثمان آفاق اور مفتی عزیز الرحمن سمیت دیگر علماء نے شرکت کی۔

اہلبیت سیمینار

مزید :

صفحہ آخر -