صوبے کے کالجوں میں اقلیتی طلباء کیلئے دو فیصد کوٹہ مختص کیا ہے: وزیر زادہ 

صوبے کے کالجوں میں اقلیتی طلباء کیلئے دو فیصد کوٹہ مختص کیا ہے: وزیر زادہ 

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام کالجوں میں اقلیتی کمیونٹی کے طلباء کے لئے 2 فیصد کوٹہ جبکہ سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے لئے 5 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز  نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن برائے اقلیتی حقوق کے ایک وفد سے اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران کیا ہے۔ وفد میں پشاور سے سوشل اکٹیوسٹ برائے اقلیتی حقوق ھارون سرابدیال، لاہور سے خالد شہزاد اور آصف عقیل، اسلام آباد سے رومانہ بشیر ودیگر شامل تھے۔ اس موقع پر معاون خصوصی نے وفد کو بتایا کہ تعلیمی اداروں میں اقلیتی طلباء کے لئے صوبائی حکومت نے اسمبلی سے باقاعدہ قرارداد منظور کرائی ہے جس پر من و عن عمل درآمد بھی جاری ہے۔ قرارداد کی روشنی میں اقلیتی طلباء کو صوبے کے تمام کالجوں میں دو فیصد کوٹہ کے تحت داخلے دئیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد صوبے کی تمام یونیورسٹیوں اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی اقلیتوں کے لیے کوٹہ مختص کیا جائے گا۔ وزیر زادہ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی سربراہی میں صوبے میں اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے  پہلے سے ہی مربوط حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اقلیتی کمیونٹی کے لئے ہاؤسنگ سکیموں پر بھی جلد کام کا آغاز کیا جائے گا، جس کے تحت تمام قبائلی اضلاع کے ہیڈکوارٹرز جبکہ چار بندوبستی اضلاع میں اقلیتوں کے لئے ہاؤسنگ سکیمز شروع کی جائینگی۔ وزیر زادہ نے وفد کو بتایا کہ صوبے میں اقلیتوں کو باعزت روزگار شروع کرنے اور میرج گرانٹ کے لئے بھی صوبائی حکومت نے فنڈز مختص کئے ہیں جبکہ اقلیتی مذہبی سکالرز کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کو 30 ہزار سالانہ وظیفہ بھی دیا جا رہا ہے۔ وزیر زادہ کا کہنا تھا کہ دوسرے صوبوں کی نسبت خیبرپختونخوا اقلیتوں کی ترقی میں سب سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اقلیتی ایم پی ایز کے علاؤہ دیگر ممبران صوبائی اسمبلی بھی اقلیتوں کے حقوق کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی محمود خان کی قیادت میں ہم اقلیتی برادری کی خوشحالی اور ترقی ہر صورت ممکن بنائیں گے۔وفد نے اقلیتی برادری کی ترقی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر صوبائی حکومت کی تائید کی اور شکریہ بھی ادا کیا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -