پاکستان کی قومی زبان اسلامی تاریخ کی علمبردا ر ہے،دردانہ صدیقی 

    پاکستان کی قومی زبان اسلامی تاریخ کی علمبردا ر ہے،دردانہ صدیقی 

  

نوشہرہ(بیورورپورٹ) کسی بھی ملک کی ترقی میں  قومی زبان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے-  قومی زبان ہی ملکی ثقافت کی پہچان اور اس کی ترقی کے لئے لازم  ہے۔ ہر ملک کی قومی زبان اس ملک کے معاشرتی، تہذیبی اور ثقافتی اقدار کے بارے میں بتاتی ہے اور یہ قومی زبان ہی ہے جو ملک کے تمام لوگوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔ان خیالات کا اظہار  حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی، ناظمہ صوبہ عنایت امین، ناظمہ ضلع مردان  ناہید یونس اور ناظمہ ضلع نوشہرہ فراہیم نے یوم نفاذ اردو کے حوالے سے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا.           انہوں نے کہا کہ انسان کی ترقی کا راز بہت حد تک زبان میں پوشیدہ ہے کیونکہ علم کی قوت کا سہارا زبان ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری قومی زبان اردو عصبیت کا نہیں بلکہ وحدت و قوت کا سرچشمہ ہے پاکستان میں قومی زبان کے نفاذ سے علاقائی زبانوں کو کوئی خطرہ نہیں۔ ہماری قوم کی بدقسمتی ہے کہ بہت عرصہ سے ہماری قومی زبان زوال کا شکار ہے اور ہم انگریزی زبان کو اردو پر فوقیت دیتے ہیں۔ہر ملک میں اس کی قومی زبان کو ہی سرکاری اہمیت حاصل ہے اور تمام دفاتر، عدالتوں، سکولوں اور اسمبلیوں میں قومی زبان کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ قومی زبان کو فروغ حاصل ہو- انہوں نے کہا کہ دنیا میں انہی  قوموں نے ترقی کی ہے جنہوں نے اپنی قومی زبان کو اظہار و بیان کا ذریعہ بنایا.۔1973 کے   آئین کی رو سے اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا اور اسے سرکاری زبان بنانے کی سفارش کی گئی لیکن افسوس آج تک پاکستان میں  تمام تر نصاب اور سرکاری و عدالتی ریکارڈ انگریزی ہی میں موجود ہے یہ بات اس امر کی غماز ہے کہ آج بھی ہماری سوچ انگریزوں کی غلامی کر رہی ہے - انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم کے فرمان، دستورکی شق 251کی منشا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود مقتدر اشرافیہ قومی زبان کے نفاذ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ائین کی شق 251 پر من و عن عمل درآمد کرکے تمام دفتری نظام اور نصاب تعلیم اردو میں تشکیل دے کر نافذالعمل بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے تحقیق اور تخلیق کی زبان ایک ہو تب ہی قوم ترقی کر سکتی ہے۔اس وقت اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی قومی زبان کو فروغ دیں تاکہ یہ زبان قومی وحدت کا ذریعہ بن سکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی ضرورت اور تقاضا ہے کہ قومی زبان کو فی الفور سرکاری اورعدالتی زبان کیطورپر نافذ کیا جائے تاکہ ملک معاشی و معاشرتی ناہمواری کی کیفیت سے نکل کر ترقی کی شاہراہ پر اپنا سفر جاری رکھ سکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -