کورونا وائرس سے کاروبار پر منفی اثرات پڑے ہیں،امجد الرحمان 

  کورونا وائرس سے کاروبار پر منفی اثرات پڑے ہیں،امجد الرحمان 

  

پشاور(سٹی رپورٹر)پاک افغان لیزان کمیٹی (منسٹری آف کامرس اینڈانڈسٹری)کا اجلاس زیرِصدارت چیئرمین لیزان کمیٹی وڈائریکٹر ٹرانزٹ ٹریڈ امجد الرحمان ڈائریکٹریٹ آف ٹرانزٹ ٹریڈماڈل کسٹم کلکٹریٹ کسٹم ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈائریکٹرمحمد طیب ٗایڈیشنل کلکٹر کسٹم اپریزمنٹ ذاکر محمد‘ لیفٹیننٹ کرنل ایف سی جعفر‘ڈائیریکٹر TDAPاطلس خان‘کمرشل اتاشی افغان قونصلیٹ محمد فواد ارش‘ڈپٹی کمرشل اتاشی ڈاکٹر حمید اللہ فاضل خیل‘ کسٹم انسپکٹر ہدایت خان‘پاک افغان لیزان کمیٹی کے ممبر اورفرنٹیئر کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن خیبرپختونخواکے صدر ضیاء الحق سرحدی‘پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر خالد شہزاد‘ ممبر لیزان کمیٹی اور جنرل سیکرٹری پاک افغان ٹریڈر زگروپ فاروق احمد‘کنوینئر لینڈ روٹ سٹینڈنگ کمیٹی ایف پی سی سی آئی امتیاز احمد علی‘ممبرز شاہ افضل شنواری‘ انجینئر ارشادخان شنواری‘محمد فیصل نے شرکت کی۔اجلاس میں چیئرمین لیزان کمیٹی امجد الرحمان نے پاک افغان باہمی تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ماہ مارچ سے لے کر اب تک تمام دنیا کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے جس کی وجہ سے پاک افغان باہمی تجارت اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی۔انہوں نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدہ پر دونوں جانب کی بزنس کمیونٹی کے تحفظات فوری طور پر دور کیے جائیں گے۔اجلاس میں اس بات پر متفقہ طور پر اتفاق کیا گیا کہ پاک افغان لیزان کمیٹی، ٹرانزٹ ٹریڈ ڈائیریکٹریٹ،پاک افغان جائنٹ چیمبر سمیت افغان قونصلیٹ پشاور ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ پربزنس کمیونٹی کے تحفظات دور کرنے کے حوالے سے اپنی سفارشات متعلقہ حکومتوں اور اداروں تک پہنچائیں گے۔ لیزان کمیٹی کو مزید فعال بنانے کے لیے ایف سی،این ایل سی،ایف آئی اے، ڈپٹی کمشنرخیبر،پولیس اور مزید دونوں جانب کے لیزان کمیٹی ممبرز کو شامل کیا  جائے گا۔لیزان کمیٹی کا اجلاس ہر 2ماہ کے بعد منعقد کیا جائے گا۔ اس موقع پر محمد فواد ارش اور ڈاکٹر حمید اللہ فاضل خیل نے بھی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں مشکلات کے حوالے سے اپنے تحفظات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ممبرز پاک افغان لیزان کمیٹی ضیاء الحق سرحدی، فاروق احمدنے بتایا کہ دونوں جانب کی حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور باہمی تجارت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ پاک افغان جائنٹ چیمبر کے سینئر نائب صدر خالد شہزاد،لینڈ روٹ سٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینئر امتیاز احمد علی ودیگر شرکاء نے کہا کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹرید کے معاہدہ پرگزشتہ 10سالوں سے نظر ثانی نہ ہونے کی وجہ سے اس کاروبار سے وابسطہ بزنس کمیونٹی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدہ پر نظر ثانی کے لئے جلد از جلد اجلاس بلایا جائے جس میں دونوں ممالک کی حکومتوں اور اس کاروبار سے وابستہ اسٹیک ہولڈرزکو مدعو کرکے ان کی باہمی مشاورت سے مسائل کے حل کے لئے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔پاکستان ریلوے وڈرائی پورٹ سٹینڈنگ کمیٹی (SCCI)کے چیئرمین ضیاء الحق سرحدی نے کہا کہ اضاخیل ڈرائی پورٹ پر سہولتوں کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ٹرانزٹ کارگو بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ جس طرح کراچی پورٹ سے امپورٹڈ مالوں کے لئے ٹی پی فائل ہو کر مختلف ڈرائی پورٹس پر مال چلے جاتے ہیں اور جی ڈی انہی ڈرائی پورٹوں پر فائل کی جاتی ہے۔ اسی طرح افغان ٹرانزٹ ٹرید کارگو کو بھی کراچی پورٹ سے ٹی پی فائل کر کے اضاخیل ڈرائی پورٹ پشاور سے جی ڈی فائل کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ خیبرپختونخوا کے کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس اور فاروڈنگ ایجنٹس بھی اس کام سے مستفید ہو سکیں اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز کے ساتھ ساتھ لوز کارگو کی بھی اجازت دی جائے تاکہ خالی کنٹینرز کراچی ہی میں شیپنگ کمپنیوں کے حوالے کر دیئے جائیں۔اس اقدام سے افغانی کاروباری افراد لاکھوں روپے کے ڈی ٹینشن اور ڈیمرج کے نقصان سے بچ جائیں گے۔انہوں نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں حائل مشکلات کو حل کرنے کے حوالے سے ایف بی آر کے چیئرمین جاوید غنی، ممبر کسٹم طارق ہدیٰ، ڈی جی ٹرانزٹ احمد رضا خان،ممبر ایف بی آر ڈاکٹر سعید جدون ودیگر افسران کا شکریہ ادا کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -