چارسدہ، ناقص بیج کی وجہ سے مکئی فصل کے کاشتکاروں کو کروڑوں کا نقصان

چارسدہ، ناقص بیج کی وجہ سے مکئی فصل کے کاشتکاروں کو کروڑوں کا نقصان

  

چارسدہ (بیو رو رپورٹ) ناقص بیج کی وجہ سے مکئی فصل کے کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کا نقصان۔ کمپنیوں نے کاشتکاروں کو مہنگے داموں بیج فراہم کی۔ فصل کٹائی پر تمام سٹے دانوں سے خالی ہیں۔صدر کسان بورڈ خیبر پختونخوا رضوان اللہ۔ تفصیلات کے مطابق کسان بورڈ خیبر پختونخوا کے صدر رضوان اللہ نے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ مکئی کی ناقص بیج کی فراہمی کی وجہ سے مکئی کے کاشتکاروں کا کروڑوں روپے کانقصان ہو چکا ہے۔ مردان، چارسدہ، صوابی اور مالاکنڈ کے مختلف علاقوں میں مکئی کی ناقص بیج کی فراہمی کے خلاف مکئی کے کاشتکار احتجاج پر ہے۔انہوں نے کہا کہ دو بڑی کمپنیوں نے کاشتکاروں کو مہنگے داموں بیج فراہم کی لیکن کاشتکار اب جبکہ فصل کاٹ رہے ہیں تو تمام سٹے دانوں سے خالی ہیں جس سے کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ صحیح بیج کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے لیکن حکومت اس معاملے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ کاشتکاروں کو مکمل طور پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جبکہ محکمہ زراعت بیج مافیا کے خلاف کوئی موثر اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے۔  انہوں نے کہا کہ ناقص بیج کی فراہمی اور کاشتکاروں کو نقصان سے بچانے کیلئے کوئی موثر قوانین نہ ہونے کی وجہ سے کمپنیوں کو لوٹ مار کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے اور کاشتکاروں کے تحفظ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں اور نقصان اٹھانے والے کاشتکاروں کے لیے زر تلافی کا فوری بندوبست کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ محکمہ زراعت صحیح بیج کی فراہمی یقینی بنائے اور آیندہ کے لیے چیک کا ایک موثر نظام تخلیق کرے تا کہ کاشتکاروں کو معاشی نقصان سے بچا یا جا سکے۔چیف سیکرٹری  اور سیکرٹری زراعت کو چاہئے کہ فوری طور پر ایک ٹاسک فورس قائم کرے اور گہرائی سے اس معاملے کی تحقیقات کریں ں اور اسے منطقی انجام تک پہنچا ئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس سلسلے میں حکومت نے فوری اقدامات نہیں کیے تو کسان کاشتکاروں کو ساتھ لیکر بھرپور احتجاج کرے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -