کورونا کے دوران محکمہ معدنیات نے ریکارڈ ریونیو جنریشن کی ہے،عارف احمد زئی 

  کورونا کے دوران محکمہ معدنیات نے ریکارڈ ریونیو جنریشن کی ہے،عارف احمد زئی 

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمدزئی کی زیر صدارت بدھ کے روز محکمہ معدنیات کا جائزہ اجلاس سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل محکمہ معدنیات حمیداللہ سمیت تمام خیبرپختونخوا سے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔محکمہ معدنیات کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معاون خصوصی عارف احمدزئی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ معدنیات نے کورونا ایمرجنسی کے دوران بھی دیگر محکمہ جات کی نسبت ریکارڈ ریونیو جنریشن کی ہے۔ جبکہ مستقبل میں ریونیو کے حوالے سے محکمے کی حکمت عملی تیار ہے۔ امید ہے کہ معدنیات سے صوبے کی آمدن میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی خصوصی ہدایت پر معدنیات سے جڑے سرمایہ کاروں، کاروبار کرنے والے اور مزدوروں کو تمام تر آسانیاں فراہم کی جائیں گی کیونکہ معدنیات کی مد میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے عوام کو روزگار کے مواقع میسر ہو سکیں گے۔ڈائریکٹر جنرل حمید اللہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے معاون خصوصی عارف احمدزئی نے کہا کہ لیز ہولڈرز کو یا اس سے وابستہ افراد کو خدمات کی فراہمی میں روڑے اٹکانے والے آفیسرز کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھی جائے جبکہ تاخیری حربے استعمال کرنے والوں کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی ٹیکسوں سے تنخواہ لینے والے آفیسرز سب سے پہلے عوام کو بروقت خدمات فراہم کرنے کے بارے میں سوچیں نہ کہ اپنے لیے آسانیاں تلاش کریں۔ عوامی شکایات ہو ں یا تجاویز ان کو بروقت اور سنجیدگی سے حل کرانا چاہیے۔محکمہ معدنیات کے متعلق عدالتوں میں زیر التواء مقدمات اور دیگر قانونی ایشوز پر بات کرتے ہوئے معاون خصوصی معدنیات عارف احمدزئی نے کہا کہ اگر کسی لیز ہولڈر یا ٹھیکیدار کی جانب سے محکمہ معدنیات کے خلاف کوئی کیس دائر کیا گیا ہے تو اس کا بھرپور فالو اپ کرکے مقدمات کو بروقت نمٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے، مافیا یا فرد کی دھونس دھمکیوں یا بلیک ملینگ سے نہ گھبرائیں کیونکہ محکمہ معدنیات عوامی خدمات کی فراہمی میں کسی بھی صورت رکاوٹ نہیں ڈالنے دے گا۔ لیز ہولڈرز اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عارف احمدزئی نے کہا کہ جو لیز ہولڈر یا دیگر متعلقہ شخص بقایاجات کی ادائیگی، مزدوروں کے حقوق سمیت سیفٹی اقدامات میں نااہلی کا مظاہرہ کر رہا ہے تو بروقت قانونی کارروائی کرکے اسے بلیک لسٹ کیاجائے۔ معدنی وسائل عوامی امانت ہیں اس کے حوالے سے کوئی بھی دھاندلی یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرز معدنیات کی جانب سے معاون وزیراعلی عارف احمدزئی کو چترال، شانگلہ، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان سمیت خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں محکمہ معدنیات کی جانب سے جائزہ رپورٹ پیش کی گئی۔ محکمہ معدنیات میں ڈیجیٹلائزیشن اور ای گورننس کے حوالے سے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمدزئی نے کہا کہ دیگر محکمہ جات کی طرز پر ای بڈنگ، ای بلنگ سمیت ڈیٹا کی کمپیوٹرائزیشن پر کام تیز کیا جائے جبکہ اسی سلسلے میں خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ خط و کتابت بھی مزید تیز کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن سے نہ صرف محکمے کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ رشوت، سفارش اور اقربا پروری پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ بونیر اور دیگر اضلاع میں لیز ہولڈرز کو محکمہ جنگلات کی جانب سے این او سی تاخیر سے ملنے پر معاون خصوصی عارف احمدزئی نے ڈائریکٹر جنرل حمید اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب لیز دینے کی ضروری عمل کے دوران محکمہ جنگلات والے موجود ہوتے ہیں تو پھر کس مقصد کے لیے بعد میں بھی این او سی کے لیے لیز ہولڈرز کو ذلیل کیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں محکمہ جنگلات کے ساتھ یہ ایشو اٹھا کر اس کا بروقت حل نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ معدنی وسائل سے متعلق تمام ایشوز و چیلنجز بغیر کسی تاخیر کے حل کر لیں۔وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی عارف احمدزئی نے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کو ہدایات جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ محکمہ معدنیات کے نمائندے ہیں عوام کے ساتھ خود دفاتر میں ملیں جبکہ عوام کو تمام تر آسانیاں فراہم کرنے کی کوشش کریں۔ شکایات کے ازالے کے لئے ضلعی سطح پر سیل قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ عوامی مسائل مقامی سطح پر حل کریں گے تو ڈائریکٹوریٹ سطح تک بات نہیں پہنچے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -