فروغ نسیم ، انور منصور، شہزاد اکبر، فردوس عاشق اعوان کو توہین عدالت کا نوٹس

فروغ نسیم ، انور منصور، شہزاد اکبر، فردوس عاشق اعوان کو توہین عدالت کا نوٹس

  

 پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک)پشاور ہائیکورٹ نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کے کیس کا فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کے جج کیخلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر موجودہ اور سابق وفاقی وزراء کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔پشاور ہائی کورٹ نے سپیشل کور ٹ کے جج کیخلاف وفاقی وزرا ء کے توہین آمیز بیانات کیخلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت کی۔درخواست گزار کے وکیل ملک اجمل خان نے کہا وفاقی وزرا ء نے پریس کانفرنس میں جج کے بارے میں جو بیانات دیے وہ ہم دہرا نہیں سکتے۔اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنر ل نے کہا وزیر اعظم نے پریس کانفرنس کی نہ کوئی بیان دیا،لہٰذا ان کا نام نکال دینا چاہیے۔اس پر جسٹس روح الامین نے کہا اس بات کو چھوڑ دیں، آپ لا آفیسر ہیں اور آپ کا کام عدالت کی معاونت کرنا ہے، آپ وزیراعظم اور وزرا ء کے ذاتی ملازم نہیں، وہ اپنا جواب خود دیں گے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا آرٹیکل 204 میں صرف سپریم اور ہائی کورٹس کا ذکر ہے لہٰذا یہ درخواست قابل سماعت نہیں۔درخواست گزار کے وکیل عزیز الدین کاکاخیل نے کہا آرٹیکل 204 میں سپریم، ہائی کورٹس اور جج کا ذکر ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تفصیلی بحث کیلئے مزید وقت دینے کی استدعا کی جس پر عدالت نے کہا آپ کو آج ہی تیاری کرکے آنا چاہیے تھی، کیا آپ اگلے سال بحث تیار کریں گے۔ عدالت نے وزیر قانون فروغ نسیم، سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان، وزیر اعظم کے معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر اور وزیر اعظم کی سابق معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 14 روز میں جواب طلب کرلیا۔

توہین عدالت نوٹس

مزید :

صفحہ اول -